قومیں صرف سڑکوں، عمارتوں اور ترقیاتی منصوبوں سے نہیں بلکہ اپنے مضبوط، فعال اور انسان دوست اداروں سے پہچانی جاتی ہیں۔ ریاست کا اصل حسن تب نمایاں ہوتا ہے جب اس کے ادارے عوام کے دکھ درد کو اپنا دکھ سمجھیں، مشکل وقت میں لوگوں کے ساتھ کھڑے ہوں اور اپنے فرائض کو محض سرکاری ذمہ داری نہیں بلکہ انسانی خدمت تصور کریں۔ معاشروں میں امید، اعتماد اور تحفظ کا احساس اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب عوام یہ محسوس کریں کہ ریاستی ادارے ان کی حفاظت اور مدد کے لیے موجود ہیں۔ حالیہ دنوں اسلام آباد میں پیش آنے والا ایک واقعہ اسی حقیقت کا عملی ثبوت بن کر سامنے آیا جس نے یہ احساس تازہ کر دیا کہ اگر ادارے نیت، جذبے اور فرض شناسی کے ساتھ کام کریں تو وہ عوام کے دل جیت سکتے ہیں۔یہ واقعہ گیارہ سالہ عیان شیرازی سے متعلق ہے جو جدہ سے پاکستان آیا ہوا تھا اور میرے گھر مہمان تھا۔ ایک معصوم بچہ جو اپنے اہلِ خانہ کیساتھ خوشگوار وقت گزارنے آیا تھا، اچانک D-17 اسلام آباد میں گھر سے نکلا اور واپس نہ آیا۔ ابتدا میں ہم نے اپنے طور پر تلاش شروع کی، اردگرد کے علاقوں میں پوچھ گچھ کی، عزیز و اقارب سے رابطہ کیا اور ممکنہ مقامات پر جا کر دیکھا، مگر وقت گزرنے کے ساتھ تشویش بڑھتی گئی۔ گھر کا ماحول خوف اور اضطراب میں ڈوب گیا۔ ایک معصوم بچے کا اچانک غائب ہو جانا کسی بھی خاندان کیلئے ناقابلِ بیان اذیت ہوتا ہے۔والدین کی بے بسی اور اہلِ خانہ کی پریشانی انسان کو اندر سے توڑ دیتی ہے۔جب تمام کوششوں کے باوجود کوئی سراغ نہ ملا تو ہم نے تھانہ سنگجانی سے رابطہ کیا اور بچے کی گمشدگی کی اطلاع دی۔ یہی وہ مرحلہ تھا جہاں اسلام آباد پولیس، خصوصاً تھانہ سنگجانی کے ایس ایچ او اور ان کی پوری ٹیم کا قابلِ تحسین کردار سامنے آیا۔ پولیس نے اس معاملے کو معمول کی کارروائی سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا بلکہ فوری طور پر متحرک ہو گئی۔ مختلف ٹیمیں تشکیل دی گئیں، اطراف کے علاقوں میں تلاش شروع ہوئی، معلومات اکٹھی کی گئیں اور ہر ممکن کوشش کی گئی کہ بچے کو جلد از جلد تلاش کیا جا سکے۔اس موقع پر تھانہ سنگجانی کی جانب سے باقاعدہ بیان بھی جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ گمشدہ بچہ تمام تر ممکنہ وسائل بروئے کار لاتے ہوئے قلیل وقت میں تلاش کرکے ورثاء کے حوالے کیا۔ ورثاء نے اسلام آباد پولیس اور تھانہ سنگجانی کے افسران و جوانوں کا بے حد شکریہ ادا کیا اور ان کی کارکردگی کو سراہا۔پولیس اہلکاروں کے اندازِ گفتگو، سنجیدگی اور ہمدردانہ رویے نے اس مشکل وقت میں ہمیں حوصلہ دیا۔ اسلام آباد پولیس کی اس مؤثر کارروائی کے پس منظر میں اعلیٰ قیادت کی پیشہ ورانہ نگرانی اور عوام دوست پالیسیوں کا کردار بھی نمایاں نظر آتا ہے۔ آئی جی اسلام آباد کی سرپرستی میں پولیس فورس میں فوری ردعمل، عوامی خدمت اور ذمہ دارانہ رویے کو فروغ دینے کی جو کوششیں کی جا رہی ہیں، اس واقعے میں ان کے مثبت اثرات واضح طور پر دکھائی دیے۔ ایک اچھے ادارے کی پہچان صرف اس کے اہلکاروں سے نہیں بلکہ اس قیادت سے بھی ہوتی ہے جو اپنی ٹیم میں احساسِ ذمہ داری، نظم و ضبط اور انسان دوستی کا جذبہ پیدا کرے۔ عیان شیرازی کی بازیابی میں جہاں تھانہ سنگجانی کے ایس ایچ او اور پوری ٹیم کی محنت قابلِ تحسین ہے، وہیں اسلام آباد پولیس کی اعلیٰ قیادت، بالخصوص آئی جی اسلام آباد کی مؤثر سرپرستی کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔بطور کالم نگار میں نے برسوں مختلف اداروں کی کارکردگی پر لکھا ہے۔ جہاں خامیاں دیکھیں وہاں تنقید بھی کی اور جہاں مثبت کام ہوا وہاں اس کا اعتراف بھی ضروری سمجھا۔ لیکن اس واقعے میں مجھے ذاتی طور پر اسلام آباد پولیس کے کردار کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ۔ اسلام آباد پولیس نے پیشہ ورانہ انداز میں عیان شیرازی کو تلاش کر کے بحفاظت والدین سے ملا دیا۔ وہ لمحہ الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا جب ایک گمشدہ بچہ دوبارہ اپنے گھر والوں کے سامنے آ جائے۔ ماں کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو، والد کے چہرے پر سکون اور گھر کے ماحول میں لوٹ آنے والی زندگی شاید دنیا کی سب سے بڑی نعمت ہے۔ اس خوشی میں اسلام آباد پولیس کا کردار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں اکثر سرکاری ادارے صرف تنقید کی زد میں رہتے ہیں۔ یقیناً جہاں کوتاہیاں ہوں وہاں سوال اٹھانا ضروری ہے، لیکن اگر کوئی ادارہ اپنی ذمہ داری احسن انداز میں نبھائے تو اس کا اعتراف بھی ہونا چاہیے۔ مثبت مثالوں کو اجاگر کرنا اس لیے اہم ہوتا ہے کیونکہ یہ دوسرے اداروں اور اہلکاروں کے لیے بھی حوصلہ افزائی بنتی ہیں۔ اگر ہر محکمہ اپنے فرائض اسی جذبے سے ادا کرنا شروع کر دے تو عوام کی مشکلات میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔پولیس کا شعبہ دنیا بھر میں ایک مشکل اور حساس ذمہ داری سمجھا جاتا ہے۔ ایک پولیس اہلکار کو صرف جرائم پیشہ عناصر ہی نہیں بلکہ مسلسل دباؤ، خطرناک حالات، عوامی توقعات اور محدود وسائل کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے حالات میں اگر کوئی پولیس فورس انسانیت، فرض شناسی اور فوری ردعمل کی مثال قائم کرے تو یہ پورے معاشرے کے لیے امید کی علامت بن جاتا ہے۔ عیان شیرازی کی بازیابی اسی امید کا روشن پہلو ہے۔یہ واقعہ ہمیں اداروں کی اصل اہمیت بھی یاد دلاتا ہے۔ ریاست صرف قوانین بنانے سے مضبوط نہیں ہوتی بلکہ ان پر عمل درآمد کرنے والے اداروں سے مضبوط ہوتی ہے۔اگر پولیس، عدلیہ، انتظامیہ، صحت اور تعلیم کے شعبے اپنی ذمہ داریاں دیانت داری سے ادا کریں تو معاشرہ خود بخود بہتر ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ ادارے دراصل ریاست کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں۔ جب یہ فعال اور عوام دوست ہوں تو عوام میں اعتماد پیدا ہوتا ہے، لیکن جب ادارے کمزور پڑ جائیں تو مایوسی جنم لیتی ہے۔اسلام آباد پولیس نے اس واقعے میں ثابت کیا کہ ہمارے اداروں میں صلاحیت اور جذبے کی کمی نہیں، ضرورت صرف احساسِ ذمہ داری اور مخلص قیادت کی ہوتی ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم بحیثیت قوم صرف تنقید تک محدود نہ رہیں بلکہ جہاں اچھا کام ہو اس کی تعریف بھی کریں۔ ایک ایماندار استاد، فرض شناس ڈاکٹر، دیانت دار جج یا انسان دوست پولیس افسر دراصل معاشرے کے حقیقی ہیرو ہوتے ہیں۔ انہی لوگوں کی بدولت اداروں پر عوام کا اعتماد قائم رہتا ہے۔ صحافت کے پندرہ برسوں میں میں نے اداروں پر بہت کچھ لکھا، مگر اس بار میں نے ایک ذمہ دار، متحرک اور انسان دوست پولیس کو قریب سے محسوس کیا۔ میں ذاتی طور پر تھانہ سنگجانی کے ایس ایچ او، ان کی پوری ٹیم، آئی جی اسلام آباد اور اسلام آباد پولیس کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے نہ صرف ایک معصوم بچے کو تلاش کیا بلکہ ایک پریشان خاندان کو دوبارہ خوشیوں سے ملا دیا۔ اس واقعے نے یہ احساس تازہ کر دیا کہ انسانیت ابھی زندہ ہے، فرض شناسی ابھی باقی ہے اور ہمارے ادارے اگر چاہیں تو عوام کے دلوں میں امید کی روشنی دوبارہ جگا سکتے ہیں۔

