Home » کالم » قربانی

قربانی

عالم اسلام کے موضوعی حالات مےں ،اپنے جلو مےں ہزاروں سوچےں ،صد ہا فکرےں ، بے انتہا کرب لےکرعےدالضحیٰ پھر آ گئی ۔ تا قےامت وقت کی گردش جاری رہے گی،مرور اےام دوڑتا رہے گا، صبح و شام اپنا سفر مکمل کرتے رہےں گے اور وقت گزرتا رہے گا ۔ وقت گزراں ہے کسی طور گزر جائے گا ۔ تہوار، موسم اور رتےں اسی طرح آتے رہےں گے لےکن ہر بار نئے انداز، نئے طوراور نئی طرح سے حالات،واقعات،حادثات احساس کو نےا زاوےہ، فکر کو نےا وزن اور خےال کو نئی جہت عطا کرتے رہےں گے ۔ عےد قربان اےک اشارےہ ہے ا;203; سے محبت کا،اس کےلئے ہر چےز کو تجنے کا اور اس کی راہ مےں ہر چےز قربان کرنے کا ۔ اس بارعےد قرباں نے مسلمانوں پر فکر کے کتنے ہی درےچے وا کر دیے ہےں ۔ اس موقع پر انفرادی اور اجتماعی سطح پر امت کو بہت کچھ سوچنا ہے، عمل کی اےک راہ متعےن کرنی ہے ۔ مسلمان تمام تر ذراءع کے حامل ہونے کے باوجود نکہت وادےار کی جس حالت سے گزر رہے ہےں ، عےد قربان ہمارےلیے پھر اخوت کا، ا;203; کی رضا کے حصول کا اور قربانی کا پےغام لے کر آتی ہے ۔ کےا ےہ نہےں ہو سکتا کہ عالم اسلام اس نئے اسلامی سال مےں حکمت عملی کی نئی جہت اپنائے ۔ اپنا تاج و تخت اور اقتدار بچانے کےلئے مسلمان حاکم کس کس کا دامن تھامے ہوتے ہےں ،صاحبان خےر کو سب اندازہ ہے لےکن بدلتے ہوئے زمانے مےں ، جوہر کی اس صدی مےں اب کسی کے سہارے اقتدار قائم رکھناناممکن نہےں تو مشکل ضرور ہے ۔ آج عام آدمی جاگ چکا ہے ۔ ذراءع ابلاغ نے دنےا کے کونے کونے کو حالات حاضرہ سے آگاہی بخش دی ہے ۔ اب وقت آگےا ہے کہ صاحبان اقتدار واختےار اپنے عوام کے بارے مےں سوچےں ۔ ےہی سوچ ان کی قربانی ہو گی اور عوام کی فلاح کےلئے اٹھاےا جانے والا ان کاہر قدم اےثار ہو گا ۔ سازشوں اورحکمت عملےوں کی بنا پر اقتدار کو کسی حد تک تو طول دےا جا سکتا ہے لےکن بغےر جذبہ قربانی کے دلوں پر حکومت نہےں کی جا سکتی ۔ آج عےد قرباں پکار پکار کر جذبہ قربانی کا اعادہ چاہتی ہے،صاحبان اقتدار سے بھی اور عوام سے بھی، مسلم امہ کوسنجےدگی سے سوچنا ہے کہ آج مسلمان ہونا’’جرم‘‘ کےوں قرار دےا جا رہا ہے;238; کےا ےہ درست نہےں ہے کہ مغربی ممالک مےں عام مسلمان خود کو ظاہر کرنے مےں اےک طرح کا ہراس محسوس کرتا ہے ۔ دہشت گردی،بغاوت، شدت پسندی،وحشت انگےزی سمےت ہر ناپسندےدہ عمل مسلمان سے منسوب کر دےا گےا ہے ۔ آخر کےوں ;238;غالباً ہم نے ا;203; کی رضا کو پس پشت ڈال دےا ہے اور قربانی کے اس جذبے کو فراموش کر دےا ہے جس نے مسلمانوں کو عالم کی سروری عطا کی تھی ۔ جو قومےں اپنے وجود، قومی تشخص اور ملی سربلندی کےلئے قربانی دےتی ہےں وہی عالم مےں سرفراز ہوتی ہےں ۔ تارےخ اےسی قوموں کے تذکرے سے پروقار بھی ہے اور سبق دہندہ بھی ۔ عےد قرباں پر مسلم امہ کو اےثار اور قربانی کا ےہ سبق پھر حرز جاں بنانا ہے اور عہد کرنا ہے کہ نفس امارہ کی قربانی دے کر ثابت کےا جائے گا کہ امت مسلمہ آج بھی اےثار وقربانی سے تہی نہےں ہے ۔ قربانی ہمےں اےثار کا سبق دےتی ہے لےکن افسوس اس سے ہم بحیثےت قوم بالکل بے بہرہ ہےں ۔ ہمارا اجتماعی اور انفرادی کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہےں کونسی معاشرتی برائی ہے جو ہم مےں موجود نہےں ۔ ملاوٹ، ناجائز منافع خوری، جھوٹ، رشوت ستانی اور بھی بہت کچھ ۔ قربانی دےتے ہوئے خود کو دوسروں سے بڑھ کر پرہےز گار نےکو کار متقی ظاہر اور ثابت کر دےتے ہےں ۔ معاشرتی برائےوں کے ذمہ دار کہےں اور سے نہےں آتے وہ ہم خود ہےں ۔ ذرا اپنے کردار پر نظر دوڑائےں اور قربانی کے اصل مقصد اےثار کو مد نظر رکھےں تو معاشرہ بہت سی برائےوں سے پاک ہو سکتا ہے ۔ آج قربانی کے اس سبق پر بھی تدبر وفکر کرنے کی ضرورت ہے کےا ہم آداب فرزندی کی بھی تکمےل کر رہے ہےں ےا نہےں اور ہمےں اصول پدری سے بھی کماحقہ آگاہی ہے ۔ ہم اےثارو قربانی کے جذبے کے خالق اس معبود بر حق سے عالم اسلام کےلئے خےر کی دعا کرتے ہےں ۔ ا;203; تعالیٰ تو نے جس طرح ابراہےم علےہ سلام کو ان کی قربانی قبول کر کے سرخرو کےا،مسلم امہ کو ان کی قربانےوں کا صلہ عطا فرما ۔ تےرے نام لےوا اس کرہ ارض کے مختلف خطوں مےں عالم انسانےت کی سرفرازی کےلئے جو قربانےاں دے رہے ہےں انہےں شرف قبولےت عطا فرما ۔ انہی اےام مےں بھارت نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت کشمےر مےں رائے شماری کرانے کے مطالبات کو نظر انداز کرتے ہوئے نرےندر مودی کی قےادت مےں انتہا پسند ہندو جماعت بھارتےہ جنتا پارٹی نے آئےن کے آرٹےکل 370اور35اے کے تحت کشمےر کی خصوصی حےثےت ختم کر دی ۔ کشمےرےوں کے حقوق پر شب خون مار کر مقبوضہ رےاست کی بھارت کے ساتھ نام نہاد اور مشروط الحاق کی بنےاد مٹا دی ۔ کمزور ہونا ہی کشمےرےوں کا جرم بنا دےا گےاےعنی جس کی لاٹھی اس کی بھےنس اور ;82;ight is mightکو روندتے ہوئے ;77;ight is rightکے خود ساختہ قانون کو بزور لاگو کر دےا گےا ۔ آرٹےکل370کے تحت جموں و کشمےر کو خصوصی مقام حاصل تھا اور آرٹےکل رےاست کو آئےن بنانے اور اسے برقرار رکھنے کی آزادی دےتا تھا ۔ اس کے تحت کوئی بھارتی شہری وہاں جائےداد نہےں خرےد سکتا تھا لےکن اب کشمےری مسلمانوں کو بجا طور پر ےہ خدشہ ہے کہ وہاں بھارتی ہندو جائےدادےں خرےدےں گے اور کشمےر مےں مسلمانوں کی واضح اکثرےت کو اقلےت مےں بدلنے کی مذموم کوشش کی جائے گی ۔ مقبوضہ کشمےر کے تےن وزرائے اعلیٰ محبوبہ مفتی ،فاروق عبدا;203; اور عمر عبدا;203; نے کہا ہے کہ ہم نے پاکستان کے مقابلہ مےں بھارت کو ترجےح دے کر سنگےن غلطی کی لےکن آج ان کے ےہ رےمارکس بے معنی اور پشےمانی کے سوا کوئی اہمےت نہےں رکھتے کےونکہ ان لوگوں کے دور اقتدار مےں مقبوضہ کشمےر کے بے بس عوام پر جو بےتی اس کا ازالہ تو نہےں ہو سکتا ۔ مودی حکومت نے ےہ کارروائی کرنے سے قبل 38ہزار بھارتی فوج کشمےر مےں داخل کر دی ۔ پہلے ہی اس کی سات لاکھ فوج اہل کشمےر مسلمانوں کو ےرغمال،مقےد ،محبوس اور مقتول بنائے ہوئے ہے ۔ اب تک مقبوضہ وادی مےں اےک لاکھ کشمےری شہےد ،اےک لاکھ جےلوں مےں لاپتہ اور اتنے ہی زخمی ہےں ۔ سےد علی گےلانی نے بھی امت مسلمہ کے نام اےک’’ اےس او اےس ‘‘ جاری کر کے متنبہ کےا ہے کہ انہےں خبر ہو کہ ان کے پہلو مےں کےا قےامت ڈھائی جا رہی ہے ۔ او آئی سی نے آرٹےکل 370پر مودی سرکار کے شب خون پر مکہ مےں ہنگامی اجلاس تو طلب کےا ہے لےکن اےسی امےد نہےں کہ ےہ اجلاس عالم اسلام کے جسد بے حس مےں کشمےرےوں کےلئے احساس اور تڑپ پےدا کر سکے ۔ کشمےر کے عوام پر بھارتی فوج کے ظلم وستم اور اب حالےہ اقدام پر سعودی عرب ،عرب امارات سمےت تمام عرب ممالک بالکل خاموش ہےں ۔ ان ممالک کی بھارت مےں بھاری سرماےہ کاری ہے وہ اسے خطرے مےں نہےں ڈال سکتے ۔ سعودی عرب نے نرےندر مودی کو اعلیٰ ترےن سول اےوارڈ دےا ،عرب امارات نے ابو ظہبی مےں ہندوءوں کے دو بڑے بندر تعمےر کرائے اور کروڑوں کے اخراجات سے ہندو دےوتا اور دےوےوں کی مورتےاں فراہم کےں ۔ بھارت کی مقبوضہ کشمےر مےں قتل وغارت گری اور تشدد کی وارداتوں پر امت مسلمہ کی خاموشی پر صرف آنسو ہی بہائے جا سکتے ہےں ۔ ترکی کے صدر اردوان نے پاکستان کے موقف کی مکمل حمایت کی ہے ۔ آج کی تلخ حقےقت ےہی ہے کہ کشمےر کی صورتحال بہتر کرنے کا کوئی جادوئی طرےقہ موجود نہےں اور جنگ آپشن نہےں ضرورت ہے کہ پاکستان بہتر سفارتکاری کرتے ہوئے عالمی فورمز پر کشمےر کا مسئلہ پوری توانائی سے اجاگر کرے ۔

About Admin

Google Analytics Alternative