کالم

معمارِ قوم یا معاشرے کا’بیچارہ؟

پاکستان کے کسی بھی بڑے شہر کے پوش علاقے کے مہنگے کیفے میں بیٹھے چند نوجوانوں سے جب ان کے مستقبل کے بارے میں پوچھا جائے، تو جواب ملتا ہے: "سافٹ ویئر انجینئرنگ”، "ڈیٹا سائنس”، "فارن سروس” یا پھر "اپنا سٹارٹ اپ”۔ ان درجنوں خوابوں میں کہیں بھی ‘استاد’ بننے کا تذکرہ نہیں ملتا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ پیشہ جسے کبھی ‘پیغمبرانہ’ کہہ کر سر آنکھوں پر بٹھایا جاتا تھا، آج ہماری نئی نسل کے لیے آخری ترجیح کیوں بن گیا ہے؟پاکستان میں ایک استاد کی تصویر کیا ہے؟ ایک پرانی موٹر سائیکل، ہاتھ میں رجسٹر، سفید بالوں میں چھپی فکرِ معاش اور معاشرے کی ہمدردی۔ بدقسمتی سے ہم نے استاد کو ‘باوقار شخصیت’ کے بجائے ‘قابلِ رحم کردار’ بنا دیا ہے۔ جب ایک نوجوان اپنے استاد کو الیکشن ڈیوٹی میں دھکے کھاتے، پولیو کے قطرے پلاتے یا مردم شماری کے لیے گلی گلی گھومتے دیکھتا ہے، تو اس کا آئیڈیل ازم دم توڑ دیتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ اتنی محنت اور ڈگری کے بعد اگر اسے یہی سب کرنا ہے، تو وہ کوئی ‘بااختیار’ افسر کیوں نہ بنے؟ پاکستان کے موجودہ معاشی بحران میں، جہاں مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے، تدریس کا پیشہ مالی طور پر انتہائی غیر پرکشش ہو چکا ہے۔ سرکاری شعبے میں گریڈ 16 یا 17 کی تنخواہ ایک عام نجی کمپنی کے جونیئر مینیجر سے بھی کم ہے۔ نجی اسکولوں کا حال اس سے بھی بدتر ہے، جہاں ‘ایجوکیشن مافیا’ نوجوانوں کا خون پسینہ چند ہزار روپوں کے عوض خریدتا ہے۔ جب ایک پی ایچ ڈی اسکالر کو بیس پچیس ہزار کی پیشکش کی جاتی ہے، تو وہ قلم چھوڑ کر بیرونِ ملک مزدوری کرنے کو ترجیح دیتا ہے۔ نئی نسل تخلیق کار ہے، وہ ڈیجیٹل دور کی پیداوار ہے۔ لیکن ہمارا تعلیمی ڈھانچہ آج بھی 19ویں صدی کے لکیر کے فقیر والے نظام پر کھڑا ہے۔ اساتذہ پر غیر تدریسی کاموں، ایس او پیز کی فائلیں بھرنے اور لایعنی کاغذی کارروائی کا اتنا بوجھ ہے کہ اصل ‘تعلیم’ کہیں پیچھے رہ گئی ہے۔ نوجوان نسل ‘کلرک’ نہیں بننا چاہتی، وہ ‘تخلیق کار’ بننا چاہتی ہے، مگر ہمارا نظام انہیں اس کی اجازت نہیں دیتا۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان کے بہترین دماغ کلاس رومز میں نظر آئیں، تو ہمیں صرف باتوں سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے ‘استاد کی توقیر’ بحال کرنی ہوگی۔ حکومت کو چاہیے کہ اساتذہ کے لیے خصوصی ‘ٹیچر پے اسکیل’ متعارف کروائے جو عام بیوروکریسی سے بہتر ہو۔ اس کے علاوہ ‘ٹیچر کارڈ’ کے ذریعے اساتذہ کو صحت، سفر (پی آئی اے، ریلوے) اور خریداری پر خصوصی رعایت دی جائے تاکہ معاشرے میں ان کا ایک ممتاز مالی مقام نظر آئے۔ جس طرح میڈیکل کے لیے پی ایم ڈی سی اور وکلا کے لیے بار کونسل ہے، اسی طرح پاکستان میں ایک "نیشنل ٹیچنگ کونسل” ہونی چاہیے۔ صرف وہ شخص پڑھا سکے جس کے پاس پروفیشنل لائسنس ہو۔ اس سے غیر متعلقہ لوگوں کی آمد رکے گی اور اس پیشے کی سنجیدگی بڑھے گی۔ کلاس رومز کو سمارٹ بنایا جائے۔ جب ایک استاد کو لیپ ٹاپ، ٹیبلٹ اور جدید ڈیجیٹل ٹولز فراہم کیے جائیں گے، تو آئی ٹی کی ماہر نئی نسل خود بخود اس شعبے کی طرف راغب ہوگی۔ ہمیں ‘چاک اور ڈسٹر’ سے نکل کر ‘کوڈنگ اور کریٹیویٹی’ کی طرف آنا ہوگا۔ پرائیویٹ سکولوں کے لیے قانون سازی کی جائے کہ وہ کسی بھی استاد کو ایک مخصوص حد(کم از کم 50 ہزار یا اس سے زائد)سے کم تنخواہ نہ دیں اور ان کی جاب سیکیورٹی کو یقینی بنائیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ جب تک ایک استاد کلاس روم میں داخل ہوتے وقت اپنی بیٹی کی فیس یا گھر کے کرایے کی فکر میں مبتلا رہے گا، وہ ایک روشن خیال نسل پیدا نہیں کر سکے گا۔ نئی نسل استاد بننے کو تیار ہے، بشرطیکہ ہم ‘استاد’ کو اس کا وہ کھویا ہوا مقام لوٹا دیں جہاں اسے ‘بے چارہ’ نہیں بلکہ ‘لیڈر’ سمجھا جائے۔ *پاکستان کا مستقبل کسی اسمبلی یا دفتر میں نہیں، بلکہ استاد کے ہاتھ میں موجود چاک اور قلم میں چھپا ہے۔*

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے