رمضان کے مقدس مہینے میں جب لاکھوں غریب گھروں کے چولہے پہلے ہی مدھم جل رہے ہوں اور ماؤں کی آنکھوں میں بچوں کے لیے افطار کا انتظام نہ کر پانے کی خاموش شرمندگی تیر رہی ہو تو ایسے وقت میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں پچپن روپے فی لیٹر اضافہ صرف ایک معاشی قتل ِعام کا فیصلہ نہیں بلکہ غریب کے دسترخوان پر گرنے والا ایسا معاشی بم محسوس ہوتا ہے جس کی گونج ہر اس گھر تک پہنچتی ہے جہاں پہلے ہی زندگی بوجھ بنتی جا رہی ہے کیونکہ رمضان المبارک صبر، ہمدردی اور ایثار کا مہینہ ہوتا ہے۔ معاشرے کے صاحبِ استطاعت افراد اپنے دسترخوان وسیع کرتے ہیں۔ بھوکے کو کھانا کھلانا عبادت سمجھا جاتا ہے۔ کسی کے چہرے پر مسکراہٹ لانا نیکی تصور کیا جاتا ہے۔ افسوس کہ اسی مقدس مہینے میں جب لاکھوں گھرانوں کے چولہے پہلے ہی بمشکل جل رہے ہوں، جب ماں اپنے بچوں کے سامنے خالی برتن چھپانے کی کوشش کر رہی ہو، جب باپ پورے دن کی مشقت کے بعد بھی گھر آ کر شرمندگی محسوس کرتا ہو کہ وہ اپنے بچوں کی بنیادی ضروریات پوری نہیں کر سکا۔ایسے وقت میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں پچپن روپے فی لیٹر اضافہ کر دینا دراصل غریب کے دسترخوان پر ایک معاشی بم گرانے کے مترادف محسوس ہوتا ہے۔ یہ اضافہ محض ایک عام سا اعلان نہیں بلکہ کروڑوں غریب اور متوسط طبقے کے افراد کیلئے ایک نئے عذاب کا آغازہے۔ جب پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اس قدر بڑا اضافہ کیا جاتا ہے تو اس کے اثرات صرف پٹرول پمپ تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورا معاشی نظام اس کی لپیٹ میں آ جاتا ہے۔ ٹرانسپورٹ مہنگی ہوتی ہے۔ سامان کی ترسیل مہنگی ہو جاتی ہے۔ زراعت کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں اور نتیجتاً آٹا، سبزی، دال، چینی اور دیگر بنیادی اشیاء کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں۔ یوں مہنگائی کا ایک ایسا طوفان جنم لیتا ہے جو سب سے پہلے اور سب سے زیادہ غریب کے گھر کو ہی اپنی لپیٹ میں لیتا ہے۔ ایک دیہاڑی دار مزدور جو دن بھر کی محنت کے بعد چند سو روپے کماتا ہے اس کیلئے پہلے ہی زندگی ایک کٹھن امتحان بن چکی ہے۔ جب آٹا مہنگا ہو، دال مہنگی ہو، بجلی کے بل بڑھتے جائیں اور بچوں کی تعلیم کے اخراجات بھی برداشت سے باہر ہوتے جائیں تو ایسے میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اس قدر اضافہ دراصل اس مزدور کیلئے زندگی کو مزید اذیت ناک بنا دیتا ہے۔ وہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ وہ کس سمت جائے؟ کس سے فریاد کرے؟ اپنی مجبوری کس کے سامنے بیان کرے؟یہاں ایک بنیادی سوال جنم لیتا ہے اوروہی سوال جو شاید کروڑوں پاکستانیوں کے دل میں مچل رہا ہے کہ غریب کے دسترخوان پر یہ معاشی بم مارنے سے پہلے کیا فیصلہ سازوں نے کبھی اس بات پر غور کیا کہ بیوروکریسی اور حکومتی اشرافیہ کو ملنے والی مفت پٹرول کی سہولت کو کیوں ختم نہیں کیا جاتا؟ کیا یہ زیادہ منصفانہ اور بہتر فیصلہ نہ ہوتا کہ پاکستان بھر میں جن جن افراد کو سرکاری گاڑیوں کے ساتھ مفت پٹرول کی سہولت حاصل ہے ان کی یہ مراعات ختم کر دی جاتیں؟مگر یہاں ایک اور تلخ حقیقت بھی پوری شدت کے ساتھ سامنے آتی ہے۔ پاکستان کی اشرافیہ اور بیوروکریسی کا وہ طاقتور طبقہ جو ہمیشہ مراعات کے حصار میں رہتا ہے وہ ہر معاشی طوفان سے محفوظ کیوں رہتا ہے؟ یہ سوال آج عوام کے دلوں میں سلگ رہا ہے کہ آخر وہ کون سا نظام ہے جس میں پٹرول مہنگا ہونے پر رکشہ چلانے والے کی جیب کٹتی ہے مگر سرکاری گاڑیوں کے قافلے بدستور ایندھن جلاتے رہتے ہیں؟ وہ کون سا انصاف ہے جس میں دیہاڑی دار مزدور کے بچوں کے دودھ کے پیسے کم ہو جاتے ہیں مگر اعلیٰ افسران کے پٹرول کارڈ، لگژری گاڑیاں اور سرکاری مراعات جوں کی توں برقرار رہتی ہیں؟ اگر معیشت واقعی مشکل میں ہے تو پھر سب سے پہلے قربانی اقتدار کے ایوانوں سے کیوں شروع نہیں ہوتی؟ کیوں وہ لوگ جو قومی خزانے سے تنخواہیں، گاڑیاں، رہائشیں اور بے شمار سہولتیں حاصل کرتے ہیں کبھی عوام کے ساتھ کھڑے نظر نہیں آتے؟ کیا اس ملک کی اشرافیہ نے خود کو عوام سے بالا تر سمجھ لیا ہے؟ کیا اس ریاست میں کوئی ایسا لمحہ بھی آئے گا جب مراعات یافتہ طبقہ بھی یہ کہے کہ”آج قربانی ہم دیں گے۔بوجھ ہم اٹھائیں گے۔” عوام کو ریلیف دیا جائے گا؟ یا پھر یہ سلسلہ ہمیشہ یونہی چلتا رہے گا کہ بحران آئے تو قربانی غریب دے اور آسائشیں اشرافیہ لوٹتی رہے؟ جب بھی کوئی مشکل معاشی فیصلہ کرنا ہو، جب بھی مالی بوجھ ڈالنا ہو، جب بھی قربانی مانگنی ہو تو قربانی کیلئے ہمیشہ غریب ہی کیوں منتخب کیا جاتا ہے؟ اشرافیہ کی طرف نظر کیوں نہیں اٹھتی؟ یہ اشرافیہ اتنی مقدس کیوں ہے کہ ہر بحران میں بچ نکلتی ہے؟ اس کی مراعات کیوں برقرار رہتی ہیں؟ اس کی آسائشوں کو کیوں ہاتھ نہیں لگایا جاتا؟یہ سوال محض جذباتی نہیں بلکہ ایک بنیادی معاشی اور اخلاقی سوال ہے اگر ایک ملک واقعی معاشی استحکام کی طرف بڑھنا چاہتا ہے تو اس کا پہلا اصول انصاف ہونا چاہیے مگر یہاں تو صورتحال یہ ہے کہ بوجھ صرف اس طبقے پر ڈالا جاتا ہے جو پہلے ہی کمزور ہے۔ جس کے پاس نہ اثر و رسوخ ہے۔ نہ اختیار ہے۔نہ کوئی طاقتور آواز ہے۔ حکومت کی جانب سے اس اضافے کی وجہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو قرار دیا جا رہا ہے۔ یقیناًعالمی حالات کا اثر کسی بھی درآمدی معیشت پر پڑتا ہے مگر سوال یہ ہے کہ اگر عالمی حالات کا بوجھ برداشت کرنا ہی ہے تو کیا یہ بوجھ صرف عوام کے کندھوں پر ہی ڈالنا ضروری ہے؟ کیا یہ بوجھ پورے معاشرے میں منصفانہ طور پر تقسیم نہیں کیا جا سکتا تھا؟یہ وہ مقام ہے جہاں ایک اور بنیادی سوال سامنے آتا ہے کہ اگر واقعی معیشت کسی مشکل مرحلے سے گزر رہی ہے تو پھر معاشی زلزلے کے جھٹکے صرف عوام کیلئے ہی کیوں مختص کر دیے گئے ہیں؟ اشرافیہ اس زلزلے سے محفوظ کیوں ہے؟ کیوں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ معاشی بحران کے وقت ایک ایسا حفاظتی حصار قائم کر دیا جاتا ہے جس کے اندر اشرافیہ محفوظ رہتی ہے اور باہر کھڑے کروڑوں عوام مہنگائی کے طوفان کا سامنا کرتے رہتے ہیں؟یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان میں معاشی کامیابی کے نعرے تو اکثر سنائی دیتے ہیں۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ معیشت بہتری کی طرف جا رہی ہے۔

