وزیر اعظم شہبازشریف کا باکو میں عالمی موسیماتی کانفرنس سے خطاب عملا ترقی پزیر ملکوں کو درپیش مسائل کے حوالے سے امیر ممالک کو آئینہ دیکھانے کے مترادف سمجھا گیا ہے، مثلا شبہازشریف نے دوٹوک انداز میں کہا کہ عالمی موسیماتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے ترقی پذیر ملکوں کو تک 6.8 ہزار ارب ڈالر کی ضرورت ہے ، آزربائیجان کے درالحکومت باکو میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ ہم تاریخ کے اہم موڈ پر کھڑے ہیں، انھوں نے دردمندانہ طریقہ عالمی برداری سے اپیل کی کہ کمزورممالک کی ضروریات کو پورا کرنے کےلئے عالمی موسیماتی فریم ورک کو ازسر نو تشکیل دینا چاہے۔ یقینا یہ امر افسوسناک ہے کہ تیزی سے رونما ہونےوالی موسیماتی تبدیلیوں کا خمیازہ محض غریب اور ترقی پذیر ممالک ہی بھگت رہے ہیں، مذکورہ ملکوں میں پاکستان نمایاں ترین ہے، یہی وجہ ہے کہ وزیر اعظم پاکستان ہر علاقائی اور عالمی پلیٹ فارم پر اپنا مقدمہ اقوام عالم کے سامنے رکھتے ہیں تاکہ حقائق کی بنیاد پر بین الاقوامی فیصلہ ساز اداروں کے ضمیر کو جھنجوڈا جاسکے ، شبہازشریف کا یہ کہنا ہرگز غلط نہ تھا کہ قرضوں کی شکل میں ترقی پذیر ملکوں کی امداد ان کے مسائل میں اضافہ کرتی ہے جسے وزیر اعظم پاکستان نے بجا طور پر موت کا جال قرار دیا، شہبازشریف نے کانفرنس کے شرکا کی توجہ اس امر کی جانب بھی مبذول کروائی کہ ایک دہائی قبل کوپ کے موقع پر سالانہ 100ارب ڈالر کی فراہمی کا وعدہ کیا گیا تھا جو او آئی سی ڈی رپورٹ کے مطابق تاحال اپنے مقررہ ہدف تک نہیں پہنچ سکا ، اپنے خطاب میں وزیر اعظم نے ان مشکلات کا زکر کیا جو موسیماتی تبدیلیوں کے سبب پاکستان تسلسل سے برداشت کرتا چلا آرہا ہے ، مثلا شبہازشریف نے شرکا کانفرنس کو بتایا کہ پاکستان نے ایک نہیں دوبار تباہ کن سیلاب کا سامنا ہے جس کے نتیجے میں وسیع پیمانے پر مالی نقصان بھی برداشت کرنا پڑا، وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سات ہزار گلیشرز ہیں ، ہماری 90فیصد پانی کی ضروریات ان ہی گلیشرز سے پوری ہوتی ہیں مگر درجہ حرارت بڑھنے سے گلیشرز پگھل رہے ہیں۔اب زمینی حقائق یہ ہیں کہ خبیر تا کراچی موسیماتی تبدیلیوں کے اثرات واضح طور پر دیکھے جاسکتے ہیں مثلا ملک کے مختلف علاقوں خشک سالی ، موسم سے ہٹ کر ہونےوالی بارشیں ، ہیٹ ویو، زیر زمین پانی کے کم ہوتے زخائر موسمیاتی تبدیلیوں کا ہی شاخسانہ ہیں، ستم ظریفی یہ ہے کہ ہر زمہ دار کوتاہیوں کا بوجھ ایک دوسرے پر لاد کر عوام کی نظروں میں سرخرو ہونے کی کوشش کررہا ہے ، موسیماتی تبدیلی سے پاکستان کے ساتھ لگنے والے بحیرہ عرب میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہورہی ہے ، ماہرین کا خیال ہے کہ 2050تک مزکورہ تبدیلیاں پاکستان کے جی ڈی پی میں کمی کا سبب بن سکتی ہیں، یہاں یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ موسیماتی تبدیلیاں جہاں لوگوں کے طرز زندگی پر اثر انداز ہورہی ہیں وہی شہریوں کا زریعہ معاش بھی متاثر ہورہا ہے ، اس پس منظر میں وزیر اعظم پاکستان نے اپنے خطاب می شرکا کو آگاہ کیا کہ کیوں اور کیسے موسیماتی تبدیلیوں کی وجہ سے گرین ہاﺅس گیسز میں اضافہ ہورہا ہے جو اب ہر سال بڑھتا جارہا ہے ، یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ آخر یہ گرین گیسز دراصل کیا ہیں ، اس کا جواب یہ ہے کہ آج ہماری فضا میں ایسی گیسز کی مقدار بڑھ چکی ہے جو فضا کا درجہ حرارت بڑھاتی ہیں، کراہ ارض پر انسانوں کی جانب سے ایسی سرگرمیوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جو گرین گیسز کو بڑھانے میں معاون بن رہی ہیں، مذکورہ گیسز کے اثرات کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ دنیا کا مجموعی طور پر درجہ حرارت بتدریج بڑھ رہا ہے ، جس کے نتیجے میں مختلف ممالک میں کہیں شدید سردی پڑھ رہی ہے تو کہیں گرمی نے ماضی کے ریکارڈ توڈ دئیے ہیں، وزیر اعظم شبہازشریف نے اپنے خطاب میںدراصل ایسی ہی حالات کی نشاندہی کی ہے۔
The United Nations Economic and Social Commission for Asia and the Pacific
یعنی یونسیکپ کے مطابق پاکستان اپنے سالانہ جی ڈی پی کے نو فیصد سے ہاتھ دھو سکتا ہے ، دراصل یہی وہ حالات ہیں جس پر وزیر اعظم پاکستان نے باکو میں ہونےوالی کانفرنس میں پاکستان کا مقدمہ پوری قوت سے پیش کیا ، شبہازشریف کا یہ کہنا کسی طور پر غلط نہیں کہ عالمی موسیماتی تبدیلیوں میں پاکستان کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے ، موسیماتی تبدیلیاں ان ترقی یافتہ صنعتی ممالک کی وجہ سے رونما ہورہی ہیں جو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے پر آمادہ نہیں جس کا نتجیہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کی مشکلات بڑھنے کی صورت میں نکل رہا ہے ،افسوس صد افسوس کہ مغربی ممالک کی جانب سے انصاف کی سربلندی اور انسانی حقوق کی پاسداری کے تمام تر دعوے اس وقت اکثر ہوا ہو جایا کرتے ہیں جب معاملہ کمزور معاشی صورت حال کے حامل ممالک کا آتا ہے ، سچ یہ ہےکہ موسیماتی تبدیلیوں کے اثرات محض ترقی پذیر ممالک تک ہی محدود نہیں رہے بلکہ آج پوری دنیا اس سے متاثر ہورہی ہے ایسے میں بہت لازم ہے کہ بااثر مغربی ممالک غریب ملکوں کےلئے نہ سہی خود اپنے بقا وسلامتی کےلئے ان تجاویز پر سنجیدگی سے غور کریں جو وزیر اعظم پاکستان کی جانب سے باکو کانفرنس میں پیش کی گئیں۔
کالم
موسیماتی تبدیلیاں اور ترقی یافتہ ممالک کی بے حسی
- by web desk
- نومبر 24, 2024
- 0 Comments
- Less than a minute
- 329 Views
- 1 سال ago

