(گزشتہ سے پیوستہ)
اگر پاکستان ایران کے ساتھ کوئی بڑا سٹریٹجک توانائی کے معاہدے پر دستخط کرتا ہے، تو پاکستان کیلئے ان عالمی لائف لائنز کا حصول نامکن بنا دیا جائے گا جس کا فوری نتیجہ ملک کے اندر ہائپر انفلیشن اور معاشی دیوالیہ پن کی صورت میں نکلے گا یہی وہ بنیادی وجہ ہے کہ پاک ایران گیس پائپ لائن کا اہم ترین منصوبہ اپنے تمام تر فوائد کے باوجود سیکنڈری پابندیوں کی اسی لٹکتی ہوئی تلوار کی وجہ سے برسوں سے تعطل کا شکار ہے، کیونکہ ریاست کو ان دونوں فیصلوں میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہے یا تو وہ ایران سے محدود پیمانے پر گیس اور تیل لے لے یا پھر اپنے پورے ملک کو عالمی مالیاتی تنہائی کی دلدل میں دھکیل دے اس جیو پولیٹیکل بساط پر جب ہم پاکستان کی بقا، سالمیت اور قومی مفاد کا گہرائی سے موازنہ کرتے ہیں، تو سٹریٹجک حقیقت پسندی کا تقاضا یہ ہے کہ جذباتی نعروں سے پرہیز کیا جائے عوامی اور سیاسی حلقوں میں یہ نعرہ لگانا بہت مسحور کن معلوم ہوتا ہے کہ ہمیں ایک خود مختار غیرت مند قوم کی طرح بیرونی ڈکٹیشن کو مسترد کر دینا چاہیے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ریاستیں محض جذباتی نعروں یا بیانات پر نہیں بلکہ اپنی ٹھوس معاشی طاقت، صنعتی سکت اور سٹریٹجک لچک کے بل بوتے پر فیصلے کرتی ہیں اگر ایران سے دو یا تین ارب ڈالر کا سستا خام تیل خریدنے کے عوض پاکستان پر ایسی پابندیاں عائد کر دی جائیں جس سے اس کی تیس ارب ڈالر سے زائد کی ٹیکسٹائل اور دیگر برآمدات جو امریکہ اور یورپی یونین کی مارکیٹوں میں جاتی ہیں، مستقل طور پر بند ہو جائیں، تو یہ تزویراتی فیصلہ معاشی فائدہ نہیں بلکہ ریاست کی معاشی خودکشی ثابت ہو گا پاکستان کی قومی سالمیت کا دفاع اس وقت سب سے زیادہ اس کے اندرونی مالیاتی استحکام سے جڑا ہوا ہے یہی وجہ ہے کہ پاکستان اس وقت بین الاقوامی قوانین اور ملکی معیشت کے مابین ایک انتہائی باریک لکیر پر چل رہا ہے جہاں سرکاری اور سفارتی سطح پر کسی بڑے اور باضابطہ معاہدے کی طرف بڑھنا موجودہ نازک معاشی صورتحال میں ملک کی سالمیت کو براہِ راست دا پر لگانے کے مترادف ہے یہ گھمبیر چیلنج صرف بیرونی محاذ یا سفارتی دبا تک ہی محدود نہیں ہے، بلکہ پاکستان کو معاشی اور سٹریٹجک طور پر مستقل طور پر مفلوج رکھنے کے لیے ایک پورا کثیر الجہتی نیٹ ورک داخلی اور سرحدی سطح پر متحرک کیا گیا ہے چاہ بہار بندرگاہ پر انڈین انٹیلیجنس ایجنسی را اسرائیل کی موساعد، امریکی سی آئی اے، یو اے ای اور افغانی طالبانی کتوں کے ایجنٹ پوری طرح سے فعال ہو چکے ہیں جو پاکستان کے اندرونی حالات کو مکمل طور پر خراب کرنے کیلئے تخریب کاروں کو افرادی قوت اور جدید ترین ٹیکنالوجی پر مبنی اسلحہ کی بلا تعطل سپورٹ باقاعدگی سے جاری کیے ہوئے ہیں ان بیرونی عناصر کی طرف سے ڈالرز اور جدید ترین ہتھیاروں کی اسی ترسیل کے ذریعے پاکستان کے اندر مختلف مہروں کو سٹریٹجک مقاصد کیلئے استعمال کیا جاتا ہے کبھی قومیت، لسانی تعصب اور مبینہ پسماندگی کا چورن بیچ کر نوجوانوں کو ریاست کے خلاف اکسایا جاتا ہے، تو کبھی مذہب کا لبادہ اوڑھ کر معصوم ذہنوں کو برین واش کیا جاتا ہے، اور کبھی افغانستان کی کمزور اور سرپرست سر زمین کا فائدہ اٹھا کر پالتو دہشت گرد گروہوں کو لانچ کیا جاتا ہے بی ایل اے، ٹی ٹی پی، فتنہ الخوارج اور فتنہ ہندوستان جیسی وطن دشمن، دین دشمن اور انسان دشمن تنظیمیں دراصل اسی بیرونی فنڈنگ، افرادی کمک، جدید اسلحہ اور سٹریٹجک آشیرباد کے بل بوتے پر بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں قتل و غارت گری کا بازار گرم رکھتی ہیں، جن کا تانا بانا چابہار میں بیٹھے ان ملک دشمن نیٹ ورکس سے جا ملتا ہے ان نیٹ ورکس کا واحد اور حتمی ایجنڈا یہ ہے کہ پاکستان میں سی پیک جیسے منصوبے ناکام ہوں، گوادر بندرگاہ فعال نہ ہو سکے، بیرونی سرمایہ کاری کا راستہ روکا جائے، اور ملک ہمیشہ سکیورٹی کے بحرانوں میں الجھ کر معاشی بدحالی کی دلدل سے کبھی نہ نکل سکے اب وہ وقت آ پہنچا ہے کہ ان بیرونی مداریوں، لسانیات اور محرومیوں کا نام استعمال کرنے والے سہولت کاروں، اور مذہب کی آڑ میں سیاسی ٹھیلے لگانے والے انتہا پسندوں کے خلاف ایک حتمی، بلا امتیاز اور جامع ترین سٹریٹجک آپریشن کا آغاز کیا جائے، جس میں نیچے سے لے کر اوپر تک ان کے فنڈنگ نیٹ ورکس، بیانیے اور سہولت کاروں کا مکمل قلع قمع کر کے ملک کو اس کینسر سے ہمیشہ کے لیے پاک کر دیا جائے پاکستان کا ایرانی تیل اور گیس کی باضابطہ درآمد سے دور رہنا کسی اندرونی کمزوری یا ایران سے روایتی دشمنی کا شاخسانہ نہیں، بلکہ اپنی معاشی بقا، جغرافیائی سالمیت اور اندرونی و خارجی یکجہتی کو بچانے کی ایک انتہائی کٹھن تزویراتی مجبوری ہے چین اور روس اپنے جوہری اور معاشی حجم کی وجہ سے سپر پاورز ہیں جبکہ بھارت کو مغرب، اسرائیل، امریکی ایجنسیوں اور خلیجی گٹھ جوڑ کے تحت پاکستان کے خلاف ایک مہرے کے طور پر مصنوعی سکت فراہم کی جا رہی ہے، اس لیے وہ پابندیوں کے طوفان میں اپنے مفادات حاصل کر لیتا ہے پاکستان کے لیے آگے بڑھنے کا واحد اور ناگزیر راستہ یہ ہے کہ وہ سب سے پہلے اپنے اندرونی خلفشار، دہشت گردی کے نیٹ ورکس اور ان کے سیاسی و فکری سہولت کاروں کا جڑ سے خاتمہ کر کے ملک میں پائیدار امن قائم کرے، اپنی معیشت کو متبادل بنیادوں پر استوار کرے، اپنے برآمدی بازاروں کو افریقہ، وسطی ایشیا اور روس تک متنوع بنائے، اور ڈالر پر اپنا کلی انحصار اس حد تک کم کرے کہ کل کو وہ بھی کسی بیرونی بلیک میلنگ یا مالیاتی ادارے کی محتاجی کے بغیر اپنے تزویراتی اور جغرافیائی فیصلے خود کر سکے جب تک اندرونی صفائی کا عمل مکمل نہیں ہوتا اور معاشی لائف لائن مکمل طور پر اپنے کنٹرول میں نہیں آتی، تب تک پاکستان کو قومی سالمیت کے تحفظ اور بقا کی اس طویل جنگ کو جیتنے کے لیے ایسے کڑوے گھونٹ پینے ہوں گے اور جیو پولیٹیکل بساط پر انتہائی صبر، چوکسی اور تدبر کے ساتھ اپنی چالیں چلنی ہوں گی اب شمشیر حیدر کرار اولاد علی علیہ السلام فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اپنی آخری ضرب اس دنیا پر لگانے کو تیار ہیں جہاں ملک کے اندر دہشتگردوں کا لاشیں چیلیں کوئے کھائیں گے اور انکے ہرقسم کے سہولت کار گھروں میں خوف سے ہی مرجائیں گے اور انکے آقا انکا کریا کرم کرنے بھی نہیں پہنچیں گے اور افغانی طالبان ٹی ٹی پی فتنہ الخوارج فتنہ الہندوستان انکا نعشوں کا صفوف گنگا میں بھی نہ بہ سکے گا۔اور یہ سب کچھ تبھی ممکن ہے کہ پاکستان کے اندر موجودہ رجیم مسائل اور وسائل کی تقسیم میں مخلصانہ محب وطنانہ اپنا مثبت حقیقی اور عوامی امنگوں کے مطابق کردار ادا کر کے عملی طور پر دکھائیں ۔کیونکہ پاکستان ہے تو ہم سب ہیں پاکستان نہیں تو پھر کچھ بھی نہیں۔اس لیے پاکستان ایران سے تجارتکے سلسلہ میں انٹرنیشنل طور پرکے سلسلہ میں بین الاقوامی طور پر سابقہ معاہدوں کی وجہ سے مجبوریوں کا پابند ہے لہذا وہ وقت دور نہیں جب یہ مجبوریاں ختم ہو جائیں گی اور پاکستان ایران اور چائنہ روس سعودی عرب مل کر دنیا کے نقشے پر ایک ایسا اپنا مثبت طاقتور بہترین شاندار اور لازوال تجارتی سیاسی اور معاشی تشخص بنا لیں گے جسے دنیا کی کوئی مجبوری بھی سرنگون نہیں کر سکے گی اور جو انشا اللہ العزیز رب کریم کی مہربانی اور کرم نوازی سے ہمیشہ قائم رہے گا۔
کالم
پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت کیوں ممکن نہیں !
- by web desk
- جون 1, 2026
- 0 Comments
- Less than a minute
- 10 Views
- 3 گھنٹے ago

