کالم

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی زندہ باد

شاناں شیان بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔مشکل فیصلے کئے۔ اکثر آپ اور آپ کے ساتھی ججز بار روم میں تشریف لاتے ہیں۔ اس سے پہلے میں نے اپنی تیرہ سالہ وکالت کے دوران کسی چیف جسٹس کو سپریم کورٹ بار میں وکلا کے ساتھ بیٹھے نہیں دیکھا۔بار کی رینویشن کے دوران ساتھی ججز کے ہمراہ بار کا وزٹ کیا کرتے تھے وکلا سے ملتے انکی شکایات سنتے ان کی شکایات پر فوری ایکشن لیتے۔ راقم نے بار کے واش روم کا نام بدل کر ریلیف روم رکھا ۔دیکھ کر پوچھا یہ کس نے لکھا ہے۔ کہا سر یہ تجویز مشورہ راقم نے دیا ہے اس کے لکھنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی جب وکلا کو ریلیف نہیں ملا کرتا تھا تو پھر یہ سپریم کورٹ میں واحد جگہ تھی جہاں وکلا کو انکی مرضی کے مطابق ریلیف ملتا تھا۔جس سے وکلا کی ٹنشن دور ہو جاتی ہے۔ اس لیے اس جگہ کا نام ریلیف روم رکھا ہے۔اس ٹی ٹاک کرنے سے ریلیف کے بعد وکلا کو فری چائے کیوا کافی کیک حلوہ موسمی فروٹ ملتے ہیں۔سن کر مسکرائے۔ اے او ار کے کمرے کو بار کا حصہ بنا دینے سے اب بار روم کشادہ اور خوبصورت ہو چکا ہے ۔اب بار روم کی کنٹینر پر توجہ مرکوز ہے اور بار روم کو اب مزید وسیع اور خوبصورت بنایا جا رہا ہے۔ انشااللہ عید کے بعد اس پر کام مکمل ہو جائے گا۔ اس سب کا کریڈٹ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی صاحب، آپ کے ساتھی ججز خاص کر جسٹس جمال خان مندوخیل اور سپریم کورٹ بار کے صدر ہارون الرشید اور بار کی کابینہ کو جاتا ہے جن کے تعاون سے بار اب خوبصورت دکھائی دینے لگی ہے۔اس ماہ گیارہ مئی کو سپریم کورٹ کے دو ججز کے سوا تمام ججز بار روم میں تشریف لائے۔یہ ایک پروقار تقریب تھی جس میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڈ اور بار کے سینیر وکلا نے بھی اس تقریب میں شرکت کی۔آپ نے دس کروڑ روپے سپریم کورٹ بار کو دینے کا اعلان بھی کیا۔اس موقع پر چیف جسٹس صاحب سے ملاقات ہوئی کہا اب میں جلدی میں ہوں آپ تیرہ مئی کو میرے افس آنا اکھٹے چائے پیئے گے پھر بتائے گئی تاریخ اور وقت پر پہنچا۔ہاتھ ملایا گلے لگایا۔ چائے پی اور پلائی ۔ صحافیوں کے افس کے خالی کرانے کی بات کی، آپ نے کہا ہم انہیں باہر آفس دے رہے ہیں، آپ ان کے صدر سے مل کر بتا دیں کہ آفس میں کسی چیز کی ضرورت ہو تو ہم دیں گے۔ میں نے اس میٹنگ کے بعد میڈیا کے صدر سے بار روم میں بات کی لیکن وہ اس پر اسرار تھے کہ ایسا ممکن نہیں ہمیں یہی آفس چایئے۔ میں نے انہیں اے او ار کے آفس کی مثال دی کہ یہ بار اور سپریم کورٹ کا حصہ ہوتے ہیں۔ لیکن مجبوراً ان سے آفس خالی کرالیا گیا ہے آپ کو بھی ایسا ہی کرنا ہو گا۔ ابھی تک جو خبریں سامنے آئی ہیں ان سے یہی لگتا ہے کہ جگہ خالی نہیں کی۔ سپریم کورٹ کے پریس روم کو خالی کرنے کے اس فیصلے کو غیر قانونی اور آزادیِ صحافت کے خلاف قرار دیا جا رہا سوچنا ہو گا کہ کیا عدالتی رپورٹنک کی ان حالات میں ضرورت بھی ہے یا نہیں۔ چیف جسٹس صاحب نے خود احتسابی کا عمل خود سے شروع کیا ہے ایسا دلیر اور شفاف شخصیت کا مالک شخص ہی کرسکتا ۔چیف جسٹس صاحب سے گزارش کی ہے کہ آئی ایس پی آر کی طرز پر سپریم کورٹ میں تبدیلی لائی جائے اور ایک ماہوار میگزین سپریم کورٹ کا ہونا چاہیے۔ یہ میگزین اردو اور انگریزی میں ہو۔ چیف جسٹس صاحب نے ملاقات میں بتایا کہ اگر صحافی حضرات اپنا موجودہ آفس چھوڑ کر باہر کے آفس میں شفٹ ہو جائیں تو مکمل تعاون کریں گے۔ یہ پیغام میٹنگ کے بعدصحافیوں کے صدر عمران وسیم تک پہنچایا لیکن چند صحافی اس پر سیاست چمکانے کے موڈ میں دکھائی دئے۔ انہیں سمجھنا ہوگا اگر اے او آر کے آفس کو سپریم کورٹ سے باہر کیا جا سکتا ہے تو صحافیوں کے آفس کو کیوں نہیں۔ امید کرتے ہیں کہ صحافی حضرات تعاون کریں گے۔چیف جسٹس صاحب نے جراتمندی کا مطاہرہ کرتے ہوئے خود احتسابی کے عمل سے گزرے ۔سپریم جوڈیشل کونسل کے حالیہ اجلاس میں چیف جسٹس یحییٰ آفریدی صاحب نے خود احتسابی پر عمل کرتے ہوئے دکھائی دئے آپ نے ایسا کر کے ایک اچھی مثال قائم کی ہے۔ سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس یحییٰ آفریدی کے خلاف دائر تمام 5 شکایات دیکھیں ان کی غیر موجودگی میں دیکھنے کے بعد متفقہ طور پر خارج کر دی ہیں۔ یہ پانچ شکایات مختلف وکلا اور شہریوں کی جانب سے چیف جسٹس کے خلاف دائر کر رکھی تھیں۔الزامات میں عدالتی اختیارات کے استعمال، تقرریوں اور بعض مقدمات کے فیصلوں سے متعلق نکات شامل تھے۔ سپریم جوڈیشل کونسل نے 14 مئی 2026 کے اجلاس میں ان شکایات کا جائزہ لیا۔کونسل نے کہا کہ شکایات میں مس کنڈکٹ ثابت نہیں ہوئی، اس لیے انہیں خارج کیا جاتا ہے۔ کونسل نے پہلے اپنے بعض ارکان سے متعلق معاملات دیکھنے کے لیے خود کو دوبارہ ترتیب دیا۔بعض مواقع پر متعلقہ ججز کارروائی کے وقت اجلاس سے الگ بھی ہوئے، تاکہ مفاد کے ٹکرا (conflict of interest) کا اعتراض نہ رہے۔ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل اعلی عدلیہ کے ججز کے احتساب کا فورم ہے۔ اگر کونسل کسی شکایت کو قابلِ سماعت نہ سمجھے یا شواہد ناکافی ہوں تو شکایت خارج کر دی جاتی ہے۔ صرف وہی معاملہ آگے بڑھتا ہے جہاں prima facie مس کنڈکٹ نظر آئے۔اسی سال کونسل نے بعض دوسرے ججز کے خلاف چند شکایات پر کارروائی آگے بڑھانے کا فیصلہ بھی کیا تھا، یعنی ہر شکایت خودکار طور پر خارج نہیں کی گئی۔ساتھی ججز نے ہر کیس کی جان پڑتال کرنے کے بعد کلین چٹ دی۔ ماضی کے کچھ ججز جن کے خلاف شکایات اس فورم پر آئیں ان ججز نے اپنے خلاف کاروائی سے بچنے کیلیے استعفی دے کر گھر چلے گئے اور مراحات پنشن اب بھی یہ لے رہے ہیں۔ یہاں احتساب پر سوالیہ نشان ہیں جب کہ ایسے ججز کی مراحات پنشن دینا بنتی نہیں تھیں۔ مگر ایسا نہیں کیا گیا جبکہ ایسا ہونا چاہیے تھا۔ چیف جسٹس یحیی افریدی نے اپنے اپ کو خود احتسابی کیلیے پیش کرکے ایک نئی مثال قائم کی ہے۔ اس لیے کہتے ہیں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی زندہ باد۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے