قوموں کی تاریخ میں کچھ لمحے ایسے آتے ہیں جب سچ اور جھوٹ کے درمیان فاصلہ محض ایک نعرے،ایک وعدے یا ایک تقریر کا رہ جاتاہے ۔ ہم ایک ایسے ہی دور سے گزر رہے ہیں جہاں”تبدیلی ”کا نعرہ لگانے والے خود اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھ کر اِسی نظام کے محافظ بن چکے ہیں جسے وہ ماضی میں ظلم و جبر کی علامت کہا کرتے تھے۔ آج کے پاکستان میں ”تبدیلی” کا مطلب اب کوئی خواب نہیں بلکہ ایک فریب بن چکا ہے۔ ایک ایسا فریب جس نے عوام کی امیدوں کو نگل لیا، نوجوانوں کے جذبوں کو رُوند دیا اور قوم کے اجتماعی شعور کو مایوسی کے اندھیروں میں دھکیل دیا ہے ۔ اقتدار کا کھیل ہمیشہ سے طاقتوروں کا پسندیدہ مشغلہ رہا ہے ۔چاہے وہ تخت اسلام آباد ہو یاوزیراعظم ہاؤس طاقت کے ایوانوں میں بیٹھنے والوں کے چہروں پر بظاہرنئے رنگ چڑھ جاتے ہیں مگر کردار وہی رہتا ہے ۔ مفاد ، اختیاراور اقتدار کا نشہ۔ حکمران طبقے نے قوم کو ہمیشہ اسی نشے کی قیمت پر بیچا ہے۔ کبھی مذہب کے نام پر، کبھی جمہوریت کے، کبھی انقلاب کے اور کبھی اصلاحات کے۔ ہر بار قوم نے یقین کیا، ہر بار وعدے کیے گئے اور ہر بار انہی وعدوں کے ملبے تلے عوام کی امیدیں دفن ہو گئیں۔آج اگر کوئی شخص گلیوں میں نکل کر عوام سے پوچھے کہ ”تبدیلی ”کہاں ہے؟تو جواب میں یا تو ایک تلخ مسکراہٹ ملے گی یا ایک آہ۔ عوام اب وعدوں پر نہیں، روٹی پر یقین رکھنا چاہتے ہیںمگر حکمران اب بھی خواب بیچنے میں مصروف ہیں۔ وہی پرانے چہرے نئے لباسوں میں، وہی پرانے نعرے نئی زبان میں۔ سیاست کا میدان اب خدمت نہیں، سوداگری کا بازار بن چکا ہے۔ ہر نعرہ، ہر وعدہ، ہر منشور سب خرید و فروخت کی منڈی میں بِک چکے ہیں۔طاقت کا کھیل اتنا سفاک ہو چکا ہے کہ اب انسانیت کی کوئی وقعت باقی نہیں رہی ہے۔ اقتدار کیلئے ذاتی دشمنیاں پالنا ، اداروں کو استعمال کرنا، جھوٹے مقدمے بنانا اور کردار کشی کرنا سیاست کا معمول بن گیا ہے ۔ عوام کے ووٹ سے منتخب ہونے والے خود عوام کے خلاف سازشوں کے حصہ دار بن چکے ہیں۔ قانون کمزوروں کیلئے ہے۔ انصاف صرف کتابوں میںاور اخلاقیات اب تقریروں کا زیور۔ جب حکمران طبقہ ہی ضمیر بیچ دے تو قوم کے نوجوانوں میں کس بات کی امید باقی رہتی ہے ؟ یہ ملک قربانیوں کے خون سے بنا تھا لیکن آج اسی خون کی حرمت پر سیاست ہو رہی ہے۔ شہداء کی قربانیاں اقتدار کے بیانیوں کا حصہ بن چکی ہیں۔ غریب کے بچے کیلئے تعلیم، صحت، اور روزگار محض نعرے ہیں۔ حکمران اشرافیہ کے بچے بیرونِ ملک عیاشیاں کرتے ہیںاور عوام کے بچے فیسوں کیلئے اپنی کتابیں بیچ دیتے ہیں۔ نظام انصاف امیر کے قدموں میں اور غریب کے گلے میں پھندہ بن چکا ہے ۔طاقت کے اس کھیل میں میڈیا بھی ایک تماشائی نہیں رہا بلکہ ایک کھلاڑی بن چکا ہے۔ خبر اب حقیقت نہیں، مفاد کی زبان بولتی ہے۔ جو طاقتور ہے اس کے بیانیے کو جگہ ملتی ہے اور جو کمزور ہے اُس کی آواز سنسر کر دی جاتی ہے۔ سچ بولنے والا غدار قرار پاتا ہے اور جھوٹ پھیلانے والا محب وطن۔ قوم کے شعور کو گمراہ کرنے کیلئے اطلاعات کا ایک مصنوعی طوفان برپا ہے جس میں حقیقت کہیں دفن ہو چکی ہے ۔ یہی وہ ماحول ہے جہاں ”تبدیلی ”ایک سیاسی اصطلاح نہیں بلکہ ایک نفسیاتی حربہ بن گئی ہے۔ عوام کے ذہنوں کو قابو میں رکھنے کیلئے وعدوں کا جال بُنا گیا ہے۔ کبھی کرپشن کیخلاف مہم، کبھی اصلاحات کے خواب، کبھی احتساب کے دعوے لیکن حقیقت میں ہر دُور میں احتساب کا نشانہ مخالف رہا اور احتساب کرنے والا خود پاکدامنی کے نقاب میں مفاد کا مجرم نکلا ۔سوال یہ ہے کہ آخر کب تک یہ فریب چلتا رہے گا؟ کب تک طاقت کے اس کھیل میں عوام کا خون پسینہ رُلتا رہے گا؟ کب تک اِس ملک کے نوجوان بے روزگاری، مہنگائی اور مایوسی کے اندھیروں میں سسکتے رہیں گے؟ کب تک یہ ملک محض وعدوں کی زمین اور خوابوں کا قبرستان بنا رہے گا؟حکمرانوں کی بے حسی اِس حد تک جا پہنچی ہے کہ اب قوم کے زخم بھی انہیں متاثر نہیں کرتے۔ کوئی بچہ بھوک سے مرتا ہے تو وہ اعداد و شمار بن جاتا ہے۔ کوئی ماں اپنے بیٹے کے لاشے پر نوحہ کرتی ہے تو وہ ٹی وی کی خبر بن جاتی ہے۔ کوئی مزدور خودکشی کرتا ہے تو وہ محض ایک سطر بن کر رپورٹ میں درج ہو جاتا ہے لیکن کوئی ضمیر نہیں جاگتا،کوئی احساس نہیں پلٹتا۔ اقتدار کی کرسی پر بیٹھے ہوئے لوگ شاید بھول گئے ہیں کہ تاریخ کے پاس بہت لمبی یادداشت ہوتی ہے یہی تاریخ ہے جو فرعون، نمرود اور قارون کے انجام کو یاد رکھتی ہے۔ یہ وہی تاریخ ہے جو ہر ظالم کے چہرے سے نقاب ہٹا کر اسے انجام تک پہنچاتی ہے۔ہمارے حکمرانوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ طاقت عارضی ہے مگر کردار مستقل۔ جب کردار مر جائے تو اقتدار خود ایک لعنت بن جاتا ہے جو قومیں اپنے ضمیر کو سلا دیتی ہیں وہ کبھی ترقی نہیں کرتیں۔وقت آ چکا ہے کہ عوام صرف نعروں سے آگے بڑھیں۔ تبدیلی باہر سے نہیں آتی یہ اندر سے جنم لیتی ہے۔ جب قوم اپنے حقوق کیلئے شعوری طور پر بیدار ہو، جب ووٹ کسی چہرے کو نہیں بلکہ کسی کردار کو دیا جائے جب انصاف مانگنے والا خود انصاف پر عمل کرے تب جا کر حقیقی تبدیلی آتی ہے ورنہ ہر دور کا نعرہ، ہر حکمران کا وعدہ محض ایک نیا فریب ہوتا ہے۔ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ طاقت کے کھیل کا خاتمہ تبھی ممکن ہے جب عوام خود طاقت بن جائیں۔ جب وہ اپنے فیصلوں کی طاقت کو پہچانیںجب وہ اپنے مفاد پر اجتماعی مفاد کو ترجیح دیں اور جب وہ اپنے خوابوں کے سوداگر نہیں بلکہ معمار بنیں۔تبدیلی کے اس فریب سے نکلنے کا واحد راستہ شعور کی بیداری ہے۔یہ وہ وقت ہے جب ہمیں آئین، قانون، انصاف اور اخلاقیات کو نعرے نہیں بلکہ زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔ ہمیں اپنے اندر کی بے حسی کو توڑنا ہوگا ورنہ ہم سب اُسی نظام کا حصہ بن کر رہ جائیں گے جس سے ہم نفرت کا اظہار کرتے ہیں۔یہ ملک ہمیں وراثت میں نہیں ملا، یہ قربانیوں کے نتیجے میں حاصل ہوا۔ اب یہ ہم پر ہے کہ ہم اسے خوابوں کی سرزمین بناتے ہیں یا وعدوں کا قبرستان۔ طاقت کے کھیل میں جب ضمیر جاگتا ہے تو انقلاب آتا ہے اور جب ضمیر سو جاتا ہے تو فریب راج کرتا ہے۔ فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم کب تک فریب کھاتے رہیں گے اور کب اپنے اندر کی طاقت کو پہچانیں گے۔

