اداریہ کالم

آرمی چیف سید عاصم منیرکا دورہ کراچی

idaria

پاک فوج کے سپہ سالار نے مسلح افواج کی کمان جب سنبھالی تو انہیں دہشت گردی ،لاقانونیت اور معاشی بدحالی ورثے میں تحفہ کے طور پر ملی ، ان حالات میں دنیا کی ساتویں اور اسلامی دنیا کی پہلی ایٹمی طاقت کا سربراہ بننا ایک اعزاز تو تھا ہی مگر یہ کسی چیلنج سے کم نہ تھا کیونکہ ایک طرف ملکی جغرافیائی سرحدوں کی پاسبانی کا فریضہ سرانجام دینا ہے تو دوسری جانب معاشی بحران کا بھی سامنا کرنا ہے کیونکہ ملکی دفاعی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے ملک کا معاشی طور پر مضبوط اور مستحکم ہونا ایک بنیادی اور ضروری امر ہے ، اس حوالے سے گزشتہ روز آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاکستان اپنے ایک انتہائی نازک موڑ سے گزر رہا ہے اور اس کیلئے معیشت اور دہشت گردی کے درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے تمام اسٹیک ہولڈرز کے لیے قومی اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق پاکستان نیول اکیڈمی کراچی میں 118ویں مڈشپ مین اور 26ویں شارٹ سروس کمیشن کی کمیشننگ پریڈ میں چیف آف آرمی سٹاف جنرل سید عاصم منیر مہمان خصوصی تھے۔آرمی چیف نے تربیت کی کامیابی سے تکمیل اور پاکستان کی میری ٹائم سرحدوں کے محافظ بننے پر کمیشننگ حاصل کرنے والوں کو مبارکباد دی۔اس موقع پر آرمی چیف نے کہا کہ میری ٹائم ڈومین مسلسل بدل رہی ہے، تکنیکی ترقی کی وجہ سے صرف وہی بحری افواج غالب ہوں گی اور موثر ثابت ہوں گی جو پیشہ ورانہ مہارت اور جنگ کے جدید رجحانات سے ہم آہنگ ہوں گی،نیوی کو پیشہ ورانہ مہارتوں اور جدید رجحانات سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔آرمی چیف نے پاکستانی کیڈٹس اور دوست ممالک کے کیڈٹس کو معیاری تعلیم دینے پر پاکستان نیول اکیڈمی کو سراہا، آرمی چیف نے نوجوان افسران کو مستقبل کے لیڈروں کے طور پر اپنے طرز عمل، کردار، پیشہ ورانہ ذہانت اور دور اندیشی سے رہنمائی کرنے کا مشورہ دیا۔آرمی چیف نے اعلیٰ کارکردگی دکھانے والے کیڈٹس میں انعامات تقسیم کیے۔مڈشپ مین نوفیل ملک کو ان کی مجموعی بہترین کارکردگی پر اعزازی شمشیر سے نوازا گیا۔بعد ازاں آرمی چیف نے ملیر گیریژن کا دورہ کیا جہاں انہوں نے یادگار شہدا پر پھولوں کی چادر چڑھائی۔ علاوہ ازیں آرمی چیف نے ملیر گیریژن میں کراچی کور، رینجرز اور دیگر سی اے ایف کے افسران سے بھی خطاب کیا اور جدید جنگ کے پیشے اور تقاضوں پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔پاک فوج کے سپہ سالار کو ان تمام مسائل کا بخوبی ادراک تھا مگر انہوں نے رضاکارانہ طور پر ادارے کے سربراہی قبول کرتے ہوئے اس اہم اور نازک چیلنج کو قبول کیا ، اس وقت ملک اندرونی طور پر دہشتگردی کے ساتھ نبردآزما ہے اور ملک کے مختلف حصوںمیں چھپے ہوئے دہشتگرد سر اٹھانے کی کوششوں میں مصروف ہیں ، چنانچہ پاک فوج کو ان کے خلاف ایک باضابطہ اور طویل المدتی جنگ لڑنا پڑرہی ہے جس میں دشمن کا صفایا تو ہو ہی رہا ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ پاک فوج کو بھی اپنی جانوں کی قربانی دینا پڑرہی ہے ۔ یہ ایک جہاد ہے جس میں اللہ رب العزت ہماری سپاہ کو کامیابیاں نصیب کریں ،اس نازک لمحات میں پوری قوم پاک فوج کی پشت اور ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور اس عزم کا اظہار کرتی ہے کہ وہ ملکی جغرافیاں اور نظریاتی سرحدوں کی پاسبانی کیلئے کسی بھی قسم کی قربانی دینے سے دریغ نہیں کرے گی۔
یوٹیلٹی سٹورزپرٹارگٹڈسبسڈی کی منظوری
چونکہ معاشی بحران سے دو چار چلا آرہا ہے اور ملکی معیشت کسی طور پر سنبھالے نہیں سنبھل پارہی ، ان حالات میں ایک غریب آدمی کا جینا دشوار ہوچکا ہے اور اسے دووقت کی روٹی کیلئے کئی جتن اٹھانا پڑرہے ہیں ، چنانچہ حکومت نے بنیادی ضروریا ت زندگی کو آسان کرنے کیلئے یوٹیلی سٹورز پر موجود سامان پر سبسٹڈی دینے کا فیصلہ کیا ہے ، وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نے عوام کی مشکلات کے ازالہ کیلئے یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کے ذریعے وزیر اعظم ریلیف پیکج کے تحت بنیادی اشیا ضروریہ پر خصوصی ٹارگٹڈ سبسڈی یکم جنوری 2023سے فراہم کر نے کی منظوری دی ہے۔ترجمان یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کی طرف سے جاری بیان کے مطابق سبسڈائزڈ اشیا ضروریہ میں آٹا، چینی، گھی، چاول اور دالیں شامل ہیں، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت رجسٹرڈ صارفین جنکا سکور غربت انڈیکس میں 32 پی ایم ٹی کے برابر یا نیچے ہو گا ان کو آٹا، چینی، گھی، چاول اور دالوں پر خصوصی ٹارگٹڈ سبسڈی دی جائیگی۔ان رجسٹرڈ صارفین کیلئے آٹا 10کلو بیگ 400روپے، گھی 300 روپے فی کلو جبکہ چینی 70 روپے فی کلو کے حساب سے دستیاب ہوگی جبکہ چاول اور دالوں پر 15-20روپے فی کلو کی بچت ہوگی، ان صارفین کیلئے ماہانہ خریداری کی حد آٹا 40 کلو، چینی 5 کلو اور گھی 5 کلو مقرر کی گئی ہے، یوٹیلیٹی سٹورز کے دیگر صارفین کو بھی وزیر اعظم ریلیف پیکج کے تحت سبسڈی دی جائیگی۔عام صارفین کیلئے بھی آٹا، چینی،گھی، چاول اور دالوں پر سبسڈی دی جائیگی، ان تمام صارفین کو آٹا 10 کلو بیگ 648 روپے، گھی فی کلو 375 روپے اور چینی 89 روپے فی کلو، کے حساب سے فراہم کیا جائیگا جبکہ چاول اور دالوں پر 15-20روپے فی کلو کی بچت ہو گی ، ان صارفین کیلئے ماہانہ خریداری کی حد آٹا 20 کلو، چینی 3 کلو، گھی 3 کلو مقرر کی گئی ہے،حکومت نے اپنے طور پر غریب عوام کو ریلیف دے کر بہت بڑا حسان کیا ہے تاہم کوئی عقل مند یہ بات سمجھادے کہ 6افراد پر مشتمل گھرانے پر ایک 20کلو آٹے کا بیگ کیسے پورا ہوسکے گا ، کیا وہ یہ بیگ دیکھ کر اپنے بھوک کو پورا کریں گے ، ہوناتو یہ چاہیے تھا کہ سبسٹڈی دینے کی بجائے حکومت انتظامی اختیارات استعمال کرتے ہوئے ملک بھرمیں اشیائے ضروری کی قیمتوں کوکنٹرول میں لانے کا باقاعدہ نظام وضع کرتی تاکہ کوئی بھی ضرورت مند مناسب قیمتوں پر اپنی ضرورت کے مطابق خریداری کرتا ، اس کے ساتھ ساتھ اگر حکومت کویہ خطرہ درپیش ہے کہ اس سہولت سے منافع خور فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں تو ان ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں کو کڑی سزائیں دے کر اس اقدام سے بچا جاسکتا ہے ۔
آپریشن میں چاردہشت گردجہنم واصل
ارض پاک پر امن دشمنوں کے ساتھ لڑتے ہوئے پاک فوج کا ایک اور جوان فرض پر قربان ہو گیا جبکہ جوابی کارروائی میں 4دہشت گرد جہنم واصل ہو گئے ۔ سکیورٹی فورسز نے خفیہ معلومات کی بنیاد پر خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں کے علاقے جانی خیل میں آپریشن کیا، آپریشن کے دوران ملک دشمنوں کا سکیورٹی فورسز کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔اس دوران 25 سالہ سپاہی محمد وسیم شہید ہو گیا،مارے جانے والے دہشت گردوں سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد ہوا، ہلاک دہشت گرد معصوم شہریوں کی ہلاکت اور سکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث تھے۔دوسری جانب کاﺅنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ حکام کے مطابق دہشت گردوں کیخلاف کارروائی کرتے ہوئے تین شہروں سے پانچ دہشتگردوں کو گرفتار کرلیا گیا ، گرفتار ملزمان میں کالعدم القاعدہ کا اہم کمانڈر بھی شامل ہے ۔ گرفتار دہشت گردوں کی شناخت فاروق شاہ ، سیف اللہ ، سید شاہ زیب ، احمد خان ، اسرار احمد کے نام سے ہوئی ہے ۔ دہشت گردوں کے قبضے سے خود کش جیکٹ بنانے کا سامان ، بارودی مواد ، اسلحہ ، ممنوعہ لٹریچربھی برآمد کیا گیا ہے ،حکام کے مطابق گرفتار دہشت گرد حساس اضلاع میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی مکمل کرچکے تھے۔ سی ٹی ڈی نے رواں ہفتے 504کومبنگ آپریشنز میں 21ہزار سے زائد افراد کو چیک کیا ، 153مشتبہ افراد کی گرفتاری عمل میں لائی گئی جبکہ کارروائیوں کے دوران 67بازیابیاں بھی کی گئیں ۔حکومت کو چاہیے کہ وہ اس آپریشن کو مزید تیز کرے اور دہشتگردوں کو واصل جہنم کرتے ہوئے ان کی جائیدادوں کی ضبطگی کا بھی فیصلہ کرے تاکہ دہشتگردوں اور ان کی سرپرستی کرنے والوں کا نیٹ ورک توڑا جاسکے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے