ملکِ عزیز کا سیاسی ڈھانچہ میکاؤلی طرز کی سیاست پر مبنی دکھائی دیتا ہے اور اس کا خاصہ یہ ہے کہ اتنا جھوٹ بولا جائے کہ آخرکار اس پر سچ کا گمان ہونے لگے۔ اسی بنا پر ہمارے سیاست دانوں کے نزدیک امورِ حکومت چلانے کے لیے عوام گویا قربانی کا بکرا ہیں۔ حالیہ پٹرول، ڈیزل اور گیس کا بحران اسی طرزِ سیاست کی ایک نمایاں مثال بن کر سامنے آیا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے بحران پیدا کرنا اور پھر اس کے سہارے منافع سمیٹنا ہمارے معاشی اور سیاسی نظام کا مستقل حصہ بن چکا ہے۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ، گیس کی قلت اور توانائی کے بحران نے عام آدمی کی زندگی کو اجیرن بنا دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر یہ بحران حقیقت میں پیدا ہوتے ہیں یا پیدا کیے جاتے ہیں؟ اور اگر پیدا کیے جاتے ہیں تو پھر یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا؟پاکستان ایک زرعی اور وسائل سے مالا مال ملک ہے۔ یہاں قدرتی وسائل کی کمی نہیں، مگر اس کے باوجود کبھی آٹے کا بحران، کبھی چینی کا بحران اور کبھی پٹرول و گیس کا بحران پیدا ہو جاتا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف تشویشناک ہے بلکہ معنی خیز بھی ہے۔ آخر وہ کون سے عوامل ہیں جو اس ملک میں بار بار بحرانوں کو جنم دیتے ہیں؟ کیا واقعی وسائل کی کمی ہے یا پھر نظام کی خرابی اور مفادات کی سیاست اس کے پیچھے کارفرما ہے؟ جب بھی پٹرول یا گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کا بوجھ براہِ راست عوام پر پڑتا ہے۔ ٹرانسپورٹ مہنگی ہو جاتی ہے، اشیائے خوردونوش کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں اور عام آدمی کی زندگی مزید دشوار ہو جاتی ہے۔یہ بات بھی قابل غور ہے کہ عالمی حالات کا حوالہ دے کر اکثر مقامی سطح پر قیمتوں میں اضافے کو جائز قرار دے دیا جاتا ہے۔ آج کل مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور بڑی طاقتوں کے درمیان تناؤ نے عالمی تیل منڈی کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر رکھا ہے۔ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ پیدا ہو رہا ہے۔ بلاشبہ عالمی منڈی کے اثرات پاکستان جیسے ممالک تک بھی پہنچتے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس صورتحال کو جواز بنا کر ہر بار قیمتوں میں اضافہ کر دینا ہی واحد حل ہے؟ یا پھر اس کے پس منظر میں وہی پرانا کھیل جاری ہے جس میں سرمایہ دار اور بڑے کاروباری طبقات فائدہ اٹھاتے ہیں جبکہ عام آدمی مہنگائی کے بوجھ تلے دب جاتا ہے۔تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ جب حکمران طبقہ عوام کو کمزور اور بے بس سمجھنے لگے تو وہ اپنی پالیسیوں میں شفافیت کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ بعض مفکرین نے عوام کو سادہ لوح قرار دیتے ہوئے یہ نظریہ پیش کیا کہ اگر جھوٹ کو بار بار دہرایا جائے تو وہ سچ محسوس ہونے لگتا ہے۔ اسی اصول کو سیاست میں بھی استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ عوام کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ تمام فیصلے قومی مفاد میں کیے جا رہے ہیں، جبکہ حقیقت میں اس کے اثرات زیادہ تر غریب اور متوسط طبقے کو بھگتنا پڑتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ انفرادی طور پر اس قوم کا ہر فرد اپنے ملک کے لیے قربانی دینے کو تیار رہتا ہے۔ پاکستانی عوام محبِ وطن بھی ہیں اور مشکلات کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ بھی رکھتے ہیں۔ لیکن مسئلہ قوم کا نہیں بلکہ نظام کا ہے۔ جب نظام کمزور ہو، احتساب کا عمل غیر مؤثر ہو اور مفادات کو قومی مفاد پر ترجیح دی جائے تو پھر ایسے بحران جنم لیتے ہیں جو پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ ایک ایسے فاسد نظام کے زیرِ اثر دکھائی دیتا ہے جس میں بددیانتی اور مفاد پرستی آہستہ آہستہ معمول بنتی جا رہی ہے۔ مادہ پرستی ہر شخص کی زندگی میں داخل ہو چکی ہے اور دوسروں کو دھوکہ دینا گویا ایک عام روش بن گئی ہے۔ جھوٹ بولنے کی روایت عام ہو گئی ہے۔ بڑے لوگ بڑے پیمانے پر جھوٹ بولتے ہیں اور چھوٹے لوگ اپنی حیثیت کے مطابق۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرتی اقدار کمزور ہوتی جا رہی ہیں اور اخلاقی بگاڑ میں اضافہ ہو رہا ہے۔یہ امر بھی لائق غور ہے کہ مذہب کے نام پر سیاست کرنے والے بعض عناصر سرمایہ دارانہ نظام کو مذہب کا محافظ بنا کر پیش کرتے ہیں۔ وہ مقدس روایات اور مذہبی اقدار کو اپنے سیاسی اور معاشی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اس طرزِ عمل کے نتیجے میں اصل مسائل پس منظر میں چلے جاتے ہیں اور عوام جذباتی نعروں میں الجھ کر رہ جاتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نہ معاشی انصاف قائم ہو پاتا ہے اور نہ ہی سماجی توازن برقرار رہتا ہے۔پٹرول اور گیس کے بحران نے بھی اسی حقیقت کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔ جب توانائی کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو اس کا اثر پورے معاشی نظام پر پڑتا ہے۔ صنعتیں متاثر ہوتی ہیں، کاروبار متاثر ہوتے ہیں اور روزگار کے مواقع بھی کم ہو جاتے ہیں۔ مگر اس پورے عمل میں سب سے زیادہ متاثر وہ طبقہ ہوتا ہے جو پہلے ہی مہنگائی اور بے روزگاری کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ پاکستانی عوام بنیادی طور پر سچے اور محبِ وطن ہیں۔ ان میں ہمدردی، قربانی اور ایثار کا جذبہ موجود ہے۔ لیکن جب ایک غلط نظام مسلسل ان پر مسلط رہے تو آہستہ آہستہ پورا معاشرہ اس کے اثرات سے متاثر ہونے لگتا ہے۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ مہنگائی، ذخیرہ اندوزی، بلیک مارکیٹنگ اور منافع خوری جیسے مسائل عام ہوتے جا رہے ہیں۔ پٹرول اور گیس کے بحران نے بھی یہی ثابت کیا ہے کہ جب نظام میں شفافیت نہ ہو تو بحران صرف عوام کیلئے ہوتے ہیں اور فائدہ چند طاقتور طبقات کو پہنچتا ہے۔چونکہ قوموں کو اجتماعی سطح پر بگاڑنے یا سنوارنے میں نظام کا کردار بنیادی ہوتا ہے، اس لیے جب نظام غلط ہاتھوں میں چلا جائے تو پھر وہ ایسے طریقے اختیار کرتا ہے جن سے اس کے مفادات بھی محفوظ رہیں اور بظاہر نظام بھی چلتا رہے۔ چنانچہ ایسے عناصر کو آگے لایا جاتا ہے جن کے کئی چہرے ہوتے ہیں اور جو مختلف لبادے اوڑھ کر عوام کو متاثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کبھی وہ اپوزیشن کا کردار ادا کرتے ہیں اور کبھی اقتدار کا حصہ بن جاتے ہیں، مگر درحقیقت دونوں صورتوں میں نظامِ مفادات ہی کو مضبوط کرتے ہیں۔ایسے حالات میں کبھی آٹے کی بلیک مارکیٹنگ سامنے آتی ہے، کبھی چینی کا بحران پیدا ہوتا ہے اور کبھی پٹرول و گیس کی قلت۔ ہر بحران کے پیچھے ایک ہی کہانی دہرائی جاتی ہے اور ہر بار عوام کو ہی اس کی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔ اس سارے عمل کو سیاست اور جمہوریت کا نام دیا جاتا ہے جبکہ حقیقت میں عام آدمی بحرانوں کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ نظام کو شفاف اور جوابدہ بنایا جائے۔ توانائی کے شعبے میں مؤثر منصوبہ بندی کی جائے اور ایسے اقدامات کیے جائیں جن سے عوام کو حقیقی ریلیف مل سکے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو بحرانوں کا یہ سلسلہ جاری رہے گا اور عوام کے ذہنوں میں یہ سوال مزید شدت کے ساتھ گونجتا رہے گا کہ آخر یہ بحران کب تک؟

