جماعت اسلامی پاکستان نے اپنی تاریخ کا٢٥واں اجتماع عام”بدل دو نظام” کے سلوگن سے٢١ نومبر تا ٢٣ نومبر ٢٠٢٥ء پاکستان کے دل لاہور مینار پاکستان میں منعقد کیا ۔ اسٹیج سیکر ٹیری کے فرائض سیکرٹیری جنرل جماعت اسلام پاکستان امیر اعظیم نے ادا کئے۔اندازے سے یادہ لوگ شریک ہوئے ۔ پورے پاکستان اور دنیا سے لوگ اس اجتماع عام میں شریک ہوئے۔قافلوں کی امد جمعے کو بھی رات گئے تک جاری رہی۔اجتماع گاہ میں مختلف اقسام کے دیدہ زیب اسٹالز قائم کیے گئے۔مینار پاکستان میں جگہ کم ہونے کی وجہ سے بادشاہی مسجد کے صحن میں بھی قافلوں کی رہائیش کے لیے انتظام کیا گیا۔ راقم ١٩٦٨ء جماعت اسلامی کا کارکن ہے۔ میں نے اس دوران جماعت اسلامی کے سارے اجتماع عام میں شریک رہا ہوں۔ یہ اجتماع سب سے بڑا ہے۔ اس اجتماع میں بیرون ملک سے خواتین و حضرات کی شرکت سب اجتماعات سے زیادہ ہے۔ اجتماع سے بادشاہی مسجد جانے کے لیے ضعیف و معرزشرکاء کے لیے لفٹ بھی نصب کی گئی تھی۔ جسے معزور ہونے کی وجہ سے راقم نے بھی استعمال کیا۔اکتالیس ملکوں سے انے والے حضرات و خواتین کے لیے پنڈال میں رہائیش علیحدہ انتظام کیا گیا۔الحمد اللہ تاریخی بادشاہی مسجد علامہ یوسف القرضاوی مرحوم کے جانشین اور یونین اف اسلامی اسکالرز کے سربراہ شیخ ڈاکٹر علی مح الدین القرہ داغی کے خطبہ جمعہ سے مینار پاکستان کے سائے تلے وطن عزیزکی تاریخ کا سب سے بڑا اجتماع شروع ہوا۔پہلا سیشن قاری وقار احمد کی تلاوت قران پاک اورسلمان طارق کی نعت رسولۖاللہ افتتاع ہوا۔امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحماٰن نے افتتاہی تقریر میں کہا کہ اٹھتر سال سے ملک پر قابض حکمران ٹولے نے قوم کو نا امیدی اور مایوسی کے سوا کچھ نہیں دیا۔جماعت اسلامی قوم کو مایوس نہیں چھوڑ سکتی۔اجتماع عام ”بدل دو نظام” کا شاندار اغاز لاکھوں مرد و خواتین کی شرکت سے جگہ کم پڑ گئی۔مینار پاکستان کے بعد بادشاہی مسجد میں بھی لوگوں کی گنجائش باقی نہیں رہی ۔سردموسم کے باوجود شرکہء پر عزم و د ل جمہی کے ساتھ اجتماع میں موجود رہے ۔ لاکھوں افراد نے قاہدین کے ساتھ کھڑے ہو کر قومی ترانہ پڑھا۔ اس وقت روح پرور مناظر تھے۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان نے کہا اپ دہنی طور پر تیار ہو جائیں۔ جب اپ نظام کو چیلنج کریں گے تو ہر طرح کے حالات سامنے ا سکتے ہیں۔جماعت اسلامی محض سیاسی جماعت نہیں جو شخصیات، وصیت،خاندان، اندرونی، بیرونی اسٹبلشمنٹ کے اشاروںپر چلتی ہو۔ تحریک کو نئے جزبے سے اگے بڑھائیں گے۔حکمران سن لیں اگر فلسطین کے مسئلے پر ابراھیم ایکارڈکا حصہ بننے کی کوشش کی گئی تو پچیس کروڑ عوام انہیں عبرت بنا دیں گے۔ٹرمپ نے پاک بھارت جنگ بندی میں کشمیر کے معاملے پر ثالثی کا کہا تھا حکمران بتائیں اس پر بات کیوں نہیں ہوئی؟امیر جماعت اسلامی نے اجتماع عام کے دوسرے روز پر جوش نعروں کے بعد خطاب میں کہا کہ خاندان، وصیت اور واراثت میں چلنے والی پارٹیاں کبھی انقلاب نہیں لاسکتیں ۔حکمران نوجوانوں سے خوف زدہ ہیں۔یہ جمہوریت کی نرسری کالج و یونیو رسٹی میں طلبہ یونین کے انتخاباب نہیں کرانا چاہتے۔ہمیںموقعہ ملا تو ملک کے تمام اختیارات گراس روٹ لیول تک پہنچائیں گے۔ عدالتی نظام کو ائین و دستور کے مطابق کریں گے۔ قران و سنت کے خلاف تمام ترامیم مسترد کرتے ہیں۔بھٹو اور عمران نے جاگیروں کے خلاف نعرہ لگاکر انہیں کو اپنا سرپرست بنا لیا تھا۔ ہم کسی کے اشیر باد نہیں عوامی رائے سے اقدار میں ائیں گے۔جماعت اسلامی کے کارکنان اصولی مؤقف پر قائم رہ کر دیگر پارٹیوں کے ورکرز کو ”بدل دو نظام” تحریک کا حصہ بنائیں۔ہم پنجاب میں بدلتی نظام کے انتخابات کروا کر اختیارات نچلی سطح منتقل کر نے کا کہتے ہیں ۔ بلاول بتائیں سندھ کے ہاریوں اور ڈیلی ویجز خواتین کو ان کے حقوق کیوں نہیں دیتے؟ بچوں کو مفت اور تعلیم کیوں نہیں دی جار ہی ؟ امیر جماعت اسلامی کی صدارت میںنے جمعیت طلبہ پاکستان کے منتظم اعلیٰ مولانا محمد افضل،اسلامی جمعیت طلبہ پاکستا ن حسن بلال ہاشمی، نیشنل لیبر فیڈریشن کے صدر شمس الرحمان سواتی اور امیر جماعت اسلامی ضلع بہاول نگر ارسلان خاکوانی کا ”بدل دو نظام ”کے تحت پروگرام ہوا۔تمام حضرات نے اپنے اپنے شعبے میں کام کی روپورٹیں اجتماع عام میں شرکہء کے سامنے رکھی۔ اور آئندہ کے ہدائف سے لوگوں کے سامنے پیش کیے۔اسلامی جمعیت کے ناظم اعلیٰ نے کہا کہ اسلامی جمعیت طلبہ کی نوجونوں کو تعلیم انصاف ترقی اور طلبہ حقوق کیلئے کرادار ادا کرنے کی دعوت دی ۔ ہمارے ابائو اجداد کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا ۔ دو کروڑ باسٹھ لاکھ بچے اج بھی تعلیم سے محروم ہیں۔ اشرافیہ وسائل پر قابض ہے۔ناظم اعلیٰ نے جماعت اسلامی پاکستان کو مینار پاکستان میں عظیم اجتماع عام منعقد کرنے پر مبارک باد دی۔ناظم اعلیٰ جمعیت طلبہ عربیہ نے بھی طالب علموں کے مسائل پر تقریر کی۔دینی مدارس میں طلبہ کی ایک بڑی تنظیم مسائل میں مبتلا ہے۔ فرقوں سے پاک اسلامی بنیاد پر طلبہ کو منظم کرنااور اپنے ساتھ شامل کرنا اس کا اہم کام ہے۔

