کالم

اسرائیل فلسطینی علاقوں پر مکمل قبضہ چاہتا ہے

اسرائیل فلسطینی علاقوں پر مکمل قبضہ چاہتا ہے۔ غزہ کی پٹی سے فلسطینیوں کے انخلاءکی اسرائیلی خواہش بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے آر ڈبلیو اے نے کہا کہاسرائیل کا منصوبہ فلسطینیوں کو غزہ سے مصر میں دھکیلنا ہے۔ اسرائیلی فوج کی شمالی غزہ میں تباہی اس منصوبے کا پہلا قدم تھا اور جنوبی غزہ سے فلسطینیوں کو انخلا کی دھمکی اس منصوبے کا اگلا قدم ہے۔ جنوبی غزہ میں 19 لاکھ فلسطینی بدترین حالات میں پھنسے ہیں۔ اسرائیل کی فلسطینیوں کو مصر میں دھکیلنے کی کوششیں جاری ہیں، اگر یہی صورتحال رہی تو غزہ کی سرزمین فلسطینیوں کی نہیں رہے گی۔ دوسری طرف اسرائیل کی غزہ اور اس سے ملحقہ علاقوں میں بمباری اور زمینی کارروائی کا سلسلہ جاری ہے جس میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے بعد 300 اموات کے بعد جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 18 ہزار سے تجاوز کر گئی 550 سے زائد زخمی ہوئے۔جبکہ تقریباً 50 ہزار افراد زخمی ہیں۔سلامتی کونسل میں غزہ میں جنگ بندی کےلئے جو تازہ قرارداد پیش ہوئی تھی اس کے حق میں 15 میں سے 13 ارکان نے ووٹ دیے۔ حسبِ توقع برطانیہ ووٹنگ کے عمل سے باہر رہا جبکہ امریکا کی جانب سے ہمیشہ کی طرح دہشت گرد اور غاصب صہیونیوں کی مدد کرنے کے لیے اس قرارداد کو ویٹو کردیا گیا۔ ایران نے امریکا کی طرف سے غزہ جنگ بندی قرارداد ویٹو کرنے پر ردعمل میں کہا ہے کہ جنگ کی امریکی حمایت جاری رہی تو خطے میں بے قابو صورتحال کا امکان ہے۔ امریکہ خطے میں کشیدگی کا ذمہ دار ہے۔ ادھر، ترک صدر رجب طیب اردگان کا کہنا ہے کہ غزہ جنگ بندی کی قرارداد صرف امریکا نے ویٹو کی، کیا یہ انصاف ہے؟ اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔ ترک صدر کا یہ مطالبہ یا تجویز بالکل جائز ہے لیکن اس پر عمل کون کرے گا؟ امریکا اور اس کے حواری کبھی بھی ایسی اصلاحات نہیں ہونے دینگے۔ ترک صدر رجب طیب اردگان نے امریکہ کی جانب سے غزہ کےلئے سیز فائر کی قرارداد کو ویٹو کرنے کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’اسرائیل پروٹیکشن کونسل‘ قرار دیا ہے۔ قرار دادویٹو کے بعد امریکا دنیا میں تنہا رہ گیا ہے۔ امریکا کے غزہ میں جنگ بندی کی قرارداد ویٹو کرنے کے اقدام کو یو اے ای، چین، فلسطین ، برازیل ، روس اور ترکیہ نے مذمت کی ہے ، چینی سفیر نے بیان میں کہا کہ ثابت ہو گیا کہ امریکا غزہ میں لڑائی جاری رکھنے کا خواہشمند ہے۔ برازیلین سفیر نے کہا کہ ویٹو سے دوریاستی حل کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا، روس نے بھی غزہ جنگ کو امریکا کی جیو پولیٹیکل گیم قرار دے دیا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ انہیں افسوس ہے کہ سلامتی کونسل غزہ پٹی میں جنگ بندی کا مطالبہ کرنے میں ناکام رہی۔ سلامتی کونسل جیو سٹرٹیجک تقسیم کی وجہ سے مفلوج ہوچکی ہے جس کے نتیجے7اکتوبر سے جاری غزہ جنگ کی روک تھام کا حل نکالنا مشکل ہو گیا ہے۔ جنگ بندی کی قرارداد میں ناکامی سے سلامتی کونسل کی ساکھ کو نقصان پہنچا، مگر وہ غزہ میں انسانی بنیادوں پرجنگ بندی کی اپیلوں سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ اسی حوالے سے فلسطینی صدر محمود عباس نے کہا ہے کہ غزہ جنگ بندی قرارداد پر امریکی ویٹو اشتعال انگیزی ہے۔ غزہ میں معصوم بچوں، خواتین اور معمر افراد کے خون بہانے کا ذمہ دار امریکا ہے۔ امریکی اقدام تمام انسانی اصولوں اور اقدار کی خلاف ورزی اور اشتعال انگیز اور غیر اخلاقی ہے۔قطر نے کہا ہے کہ اسرئیلی قیدی اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کی وجہ سے نہیں مذاکرات کی وجہ سے رہا ہوئے ہیں، بمباری مزید قیدیوں کی رہائی کو محدود کر رہی ہے۔ ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ سلامتی کونسل مین جنگ بندی قرارداد کا ویٹو کر کے امریکہ جنگی جرائم میں شریک ہو گیا ہے۔ امریکہ نے جنگی جرائم میں ساتھی ہونے کا خطرہ مول لیا ہے۔ حافظ نعیم الرحمان امیر جماعت اسلامی کراچی کا کہنا ہے کہ اسرائیل بچوں پہ بمباری کرکے اپنی طاقت دکھا رہا ہے۔ 7 اکتوبر کو اسرائیل کو جھٹکا لگا، اسرائیل کی تمام ٹیکنالوجی ناکام ہوگئی ہے۔ حماس چھوٹی جماعت ہے لیکن مضبوط ایمان کے ذریعے اس جنگ کو لڑ رہی ہے، حماس نے بتایا کہ مزاحمت میں زندگی ہے۔ حماس نے ثابت کر دیا کہ اسرائیل قابل شکست ہے۔ اسرائیل اپنی شکست کے بعد فاتحین کے گھر والوں کو نقصان پہنچا رہا ہے۔یونیسیف کی ریجنل ڈائریکٹر برائے مشرق وسطی اور شمالی افریقہ عدیل خضر نے کہا کہ غزہ کی پٹی بچوں کے لیے دنیا کی سب سے خطرناک جگہ ہے۔ روزانہ درجنوں بچے ہلاک اور زخمی ہوتے ہیں۔ متعدد کے جسم جھلس چکا ہے۔ بیشماربچوں کے والدین بمباری میں مارے جا چکے ہیں۔ دس لاکھ بچوں کو زبردستی ان کے گھروں سے بے گھر کر دیا گیا ہے۔غزہ میں اس وقت کام کرنےوالے طبی عملے کو بہت زیادہ بوجھ کا سامنا ہے اور وہ ناکافی وسائل کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔غزہ میں امریکی سہولت کاری کے ساتھ ہونے والی اسرائیلی دہشت گردی کے خلاف پوری دنیا میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور ان مظاہروں کے دوران عوام اپنے ممالک کی حکومت کو یہ احساس دلا رہے ہیں کہ معصوم فلسطینیوں پر ہونے والے ظلم و ستم پر وہ خاموش نہیں بیٹھیں گے لیکن مسلم ممالک کے حکمران خاموش تماشائی بن کر یہ سب کچھ دیکھ رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے