
ہرسال 19جون کوجنگ میں عصمت دری کے خاتمہ کا دن بھی منایا جاتا ہے مگربھارت نے مقبوضہ کشمیرمیں عصمت دری کو ہمیشہ سے بطور ہتھیار استعمال کیا ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی سیکورٹی فورسز اور آزادی کا
ےہ منظر جرمنی کے مشہور شہر براﺅن شائر کی اےک عدالت کا ہے ۔عظےم جرمن ڈکٹےٹر ”ہر اےڈولف ہٹلر“کی جنم بومی بھی ےہی شہر ہے ۔اےک عدالت کی انتظار گاہ مےں مقدمات کی پےشےاں بھگتنے آئے سائلےن نشستوں پر بےٹھے
اسرائیل امریکی امداد کی بدولت غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہا ہے۔ اسی وجہ سے امریکی عوام کی اکثریت ان کی فارن پالیسیوں سے ناراض ہے اور وہ انہیں اس سال ہونے والے صدارتی انتخاب میں دوبارہ ووٹ
اسرائیل فلسطینی علاقوں پر مکمل قبضہ چاہتا ہے۔ غزہ کی پٹی سے فلسطینیوں کے انخلاءکی اسرائیلی خواہش بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے آر ڈبلیو اے نے کہا کہاسرائیل کا منصوبہ فلسطینیوں کو غزہ سے
ہمارے ہاں ادبی تنظیموں کی بھرمار ہوئی پڑی ہے۔جدھر دیکھو،تنظیمات ہی تنظیمات نظر آرہی ہیں۔جس کا بھی،جب بھی دل چاہتا ہے ایک ادبی تنظیم بنا لیتا ہے اور خود کو صحافی کہتا اور لکھتا ہے۔اگر یہ صحافی ہیں تو برسوں
زمانہ طالب علمی سے ہی علامہ اقبالؒ کے اکثر اشعار زبان زد عام ہونے کی وجہ سے ازبر ہو گئے ۔بعض علماءکرام نے علامہ کی زندگی مےں تو ان پر فتوے صادر کرنے سے گرےز نہ کےا اور ان کے
محی الدین اورنگ زیب عا لمگیر بہادر مسلمان مغل حکمران 1618ءمیں پیدا ہوا اور1707ءمیں وفات پائی۔ اُن کی وصیت کے مطابق خلد آباد اورنگ آباد دکن میں دفنایاگیا۔ اورنگ زیب مغلیہ سلطنت کا چھٹا بادشاہ تھا۔ اس نے1650ءتا1707ءتک پورے پچاس
چینی کی قلت اور بڑھتی ہوئی قیمت کے پیش نظر عوام کو ارزاں نرخوں پر چینی کے حصول کےلئے پنجاب حکومت اورشوگر ملز مالکان کے درمیان مسلسل تین روز سے جاری مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں۔اس ضمن میں نگران وزیر اعلی
حکومت کی جانب سے سانحہ جڑانولہ کے متاثرین کی امداد کا سلسلہ بدستور جاری وساری ہے ، وفاق ہی نہیں پنجاب کی نگران حکومت بھی مسیحی خاندانوں کو نقد رقوم کی ادائیگی کے علاوہ ان کے تباہ حال گھروں اور
دنیا بھر میں اقتصادی نوعیت کے فیصلے کرتے وقت اس اصول کو سامنے رکھا جاتا ہے کہ مالدار طبقے سے براہ راست ٹیکسوں کے دریعے سرمایہ حاصل کرکے پسے ہوئے طبقات کی فلاح وبہبودو پر خرچ کیا جائے-بد ترین سرمایہ