دنیا آج جس بے یقینی، جنگی کشیدگی، دہشت گردی اور انسانی بحرانوں کے دور سے گزر رہی ہے، اس میں امن کا قیام محض ایک خواہش نہیں بلکہ پوری انسانیت کی مشترکہ ضرورت بن چکا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے امن مشنز اسی عالمی ضرورت کا عملی اظہار ہیں، جہاں مختلف ممالک کے فوجی اور سویلین اہلکار جنگ زدہ علاقوں میں امن و استحکام کے لئے اپنی خدمات انجام دیتے ہیں۔ ہر سال 29 مئی کو یو این امن دستوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے تاکہ ان بہادر مرد و خواتین کو خراجِ تحسین پیش کیا جا سکے جو امن کے قیام کے لئے اپنی جانوں تک کا نذرانہ پیش کرتے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں اقوامِ متحدہ کے پرچم تلے خدمات انجام دینے والے امن محافظین کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے درست طور پر اس امر کی نشاندہی کی کہ امن کے لیے سرمایہ کاری وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس سال عالمی دن کا موضوع امن میں سرمایہ کاری رکھا گیا ہے جو اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ عالمی امن محض بیانات سے نہیں بلکہ سیاسی عزم، مالی معاونت اور مشترکہ کوششوں سے ہی ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جنہوں نے اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں نہ صرف مستقل شرکت کی بلکہ اپنی پیشہ ورانہ مہارت، قربانیوں اور انسان دوستی کی وجہ سے عالمی سطح پر ایک نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1960 سے اب تک پاکستان 48 سے زائد امن مشنز میں دو لاکھ پینتیس ہزار سے زیادہ اہلکار بھیج چکا ہے، جن میں پانچ سو سے زائد خواتین امن محافظین بھی شامل ہیں۔ یہ اعداد و شمار محض رسمی ریکارڈ نہیں بلکہ پاکستان کی اس عالمی ذمہ داری کا ثبوت ہیں جو اس نے انسانیت کے وسیع تر مفاد میں ادا کی۔ یہ امر قابلِ فخر ہے کہ پاکستان آج اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں پانچواں بڑا حصہ دار ملک ہے۔ افریقہ، ایشیا اور دیگر خطوں میں پاکستانی امن دستوں نے جس پیشہ ورانہ مہارت، نظم و ضبط اور انسان دوستی کا مظاہرہ کیا، اس نے پاکستان کی ساکھ کو عالمی سطح پر مضبوط کیا ہے۔ پاکستانی فوجی صرف امن قائم کرنے تک محدود نہیں رہے بلکہ انہوں نے مقامی آبادی کی فلاح، طبی امداد، انفراسٹرکچر کی تعمیر اور انسانی بحرانوں سے نمٹنے میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔تاہم امن کی اس جدوجہد کی ایک بھاری قیمت بھی ادا کی گئی ہے۔ دنیا بھر میں چار ہزار چار سو سے زائد امن محافظین اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں جن میں 181 سے زائد پاکستانی اہلکار بھی شامل ہیں۔ یہ قربانیاں اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ امن کا راستہ آسان نہیں۔ پاکستانی امن محافظین نے کانگو، صومالیہ، سیرالیون اور دیگر شورش زدہ خطوں میں اپنے فرائض انجام دیتے ہوئے جانوں کی قربانی دی، مگر اپنے عزم اور فرض شناسی میں کوئی کمی نہیں آنے دی۔ آج دنیا کو جن چیلنجز کا سامنا ہے، ان میں علاقائی تنازعات، مذہبی انتہا پسندی، مہاجرین کے بحران، ماحولیاتی تبدیلی اور معاشی عدم استحکام شامل ہیں۔ ان حالات میں اقوامِ متحدہ کے امن مشنز کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ بدقسمتی سے عالمی طاقتوں کے سیاسی مفادات اکثر اقوامِ متحدہ کی موثر کارروائی میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کئی تنازعات برسوں سے حل طلب ہیں اور لاکھوں انسان جنگ، بھوک اور بے گھری کا شکار ہیں۔پاکستان کو چاہیے کہ وہ اپنی امن پسند پالیسی کو مزید موثر انداز میں دنیا کے سامنے پیش کرے۔ اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں ہماری شمولیت نہ صرف عالمی ذمہ داری کی ادائیگی ہے بلکہ یہ پاکستان کے مثبت اور ذمہ دار تشخص کو بھی اجاگر کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ عالمی برادری کو بھی یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ پائیدار امن صرف عسکری اقدامات سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لئے انصاف، مساوات، ترقی اور بین الاقوامی قوانین کا یکساں اطلاق ناگزیر ہے۔یہ بھی ضروری ہے کہ اقوامِ متحدہ اپنے امن مشنز کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرے۔ نئی ٹیکنالوجی، بہتر تربیت، خواتین کی زیادہ شمولیت اور متاثرہ علاقوں میں مقامی آبادی کے اعتماد کو بحال کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ پاکستان اس میدان میں اپنی مہارت اور تجربے کی بنیاد پر مزید مثر کردار ادا کر سکتا ہے۔یو این امن دستوں کا عالمی دن دراصل ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ دنیا میں امن خود بخود قائم نہیں رہتا بلکہ اس کے لئے قربانیاں دینا پڑتی ہیں۔ پاکستانی امن محافظین نے ہمیشہ اس عالمی مشن میں صفِ اول کا کردار ادا کیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ان کی خدمات کو دنیا بھر میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی برادری سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر امن، انصاف اور انسانی وقار کے مشترکہ اصولوں پر متحد ہو کیونکہ اگر دنیا نے اجتماعی طور پر امن میں سرمایہ کاری نہ کی تو آنے والے برس مزید تنازعات، بدامنی اور انسانی المیوں کو جنم دے سکتے ہیں۔ پاکستان کا کردار اس حوالے سے نہ صرف قابلِ ستائش ہے بلکہ دنیا کے لئے ایک مثبت مثال بھی ہے۔
پاکستان میں نمازِ عیدالاضحی کے روح پرور
اجتماعات، ملکی سلامتی و امن کیلئے خصوصی دعائیں
پاکستان سمیت بیشتر ملکوں میں بدھ کے روعیدالاضحی منائی گئی جبکہ ایک روز قبل حج کے حوالے سے سعودی عرب میں موجود لاکھوں مسلمان نے حج کی سعادت حاصل کی۔ کراچی، لاہور، اسلام آباد، پشاور اور کوئٹہ سمیت ملک کے چھوٹے بڑے شہروں میں نمازِ عید کے روح پرور اجتماعات منعقد ہوئے جبکہ ملک کی سلامتی، استحکام اور قیامِ امن کیلئے خصوصی دعائیں بھی کی گئیں۔صبح کا آغاز مساجد، عیدگاہوں، امام بارگاہوں اور کھلے میدانوں میں نمازِ عید کی ادائی سے ہوا۔ نماز کے بعد فرزندانِ اسلام سنتِ ابراہیمی کی پیروی کرتے ہوئے جانوروں کی قربانی بھی دی۔ اس موقع پر صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے عیدالاضحی کے موقع پر قوم اور امتِ مسلمہ کو مبارکباد پیش کی۔ صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے اپنے پیغام میں کہا کہ عیدالاضحی اطاعت، ایثار، صبر اور اخلاص کا عظیم درس دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسان کی اصل کامیابی مال و دولت یا ظاہری شان میں نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت میں ہے۔ صدرِ مملکت نے کہا کہ عید کی خوشیاں مستحق، یتیم اور محروم افراد کو شامل کئے بغیر ادھوری ہیں، جبکہ سفید پوش اور ضرورت مند افراد کا خصوصی خیال رکھا جانا چاہیے۔ آصف علی زرداری نے مزید کہا کہ معاشرے میں محبت، برداشت اور مکالمے کو فروغ دینے کی ضرورت ہے جبکہ قانون کا احترام اور ماحول کی صفائی مہذب قوموں کی نشانی ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالی پاکستان کو امن، استحکام، ترقی اور خوشحالی عطا فرمائے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ عیدالاضحی جذب ایثار اور قربانی کی حقیقی روح کو سمجھنے کا پیغام دیتی ہے اور سنتِ ابراہیمی و اطاعتِ الہی کی یاد تازہ کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اعلی مقصد کیلئے جان اور مفادات کی قربانی ایمان کی معراج ہے جبکہ حضرت اسماعیل کی اطاعت، وفا اور ایمان کی روشن مثال ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف اپنی جانیں قربان کرنے والے شہدا قوم کا فخر ہیں۔ وزیراعظم نے فلسطین اور مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ہماری قربانیاں قبول فرمائے اور دنیا کو امن کا گہوارہ بنائے۔ علاوہ ازیں سید عاصم منیر سمیت مسلح افواج کے سربراہان نے بھی قوم کو عیدالاضحی کی مبارکباد پیش کی۔ پاک فوج کے شعب تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق نیول چیف نوید اشرف اور ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے بھی قوم کو عید کی مبارکباد دی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان کی مسلح افواج نے شہدائے پاکستان اور ان کے اہلخانہ کو خصوصی خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہدا کی بے مثال قربانیاں ملک کی بنیادوں کو مضبوط بنا رہی ہیں جبکہ پاک افواج امن، خوشحالی اور اتحاد کیلئے دعاگو ہیں۔
اداریہ
کالم
اقوامِ متحدہ کے امن مشنز اور پاکستان کا عالمی کردار
- by web desk
- مئی 30, 2026
- 0 Comments
- Less than a minute
- 9 Views
- 3 گھنٹے ago

