الیکشن 2024 میں اب چند روز باقی ہیں انتخابی مہم میں تیزی آ گئی ہیے۔ ہر امیدوار ووٹ حاصل کرنے کے لئے بلند بانگ دعوے کر رہا ہے کوئی بجلی کے 300 یونٹ تک فری دینے کی بات کر رہا ہیے تو دوسرا سرکاری ملازمین کی تنخواہیں تین گنا کرنے کی نوید سنا رہا ہیے۔ پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری بھرپور طریقے سے الیکشن مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔ آصف زرداری نے خاموشی توڑتے ہوئے کہا ہمارے بغیر حکومت نہیں بن سکے گی۔ بلاول اپنے ہر جلسے میں مسلم لیگ ن کی حکومت کے سابقہ ادوار کو تنقید کا نشانہ بنا رہیے ہیں وہ کہتے ہیں تیر سے شیر کا شکار کریں گے۔ انہوں نے نواز شریف کو مناظرے کا چیلنج بھی دے دیا۔ بلاول بھٹو کا جواب مریم نواز دے رہی ہیں انہوں نے کہا کہ سندھ کے سکولوں میں جہاں طالب علم ہونے چاہیں وہاں مویشی باندھے جاتے ہیں۔ شہباز شریف نے بلاول بھٹو کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ سندھ پر پندرہ سال حکومت کرنے والے اپنے 15 بڑے پراجیکٹ ہی بتا دیں جن پر وہ فخر کر سکیں۔ بلاول کے اس بیان پر کہ ہمارے دور میں کو?ی سیاسی قیدی نہیں ہو گا شہباز شریف نے کہا پہلے سندھ میں ذاتی جیلیں تو ختم کرلو۔ اس وقت ہر جماعت عوام کو بڑے خواب دکھا رہی ہیے۔ نواز شریف نے مانسہرہ اور ننکانہ صاحب میں بڑے جلسوں سے خطاب کیا۔ دیکھا یہ گیا ہیے کہ نواز شریف نے لندن سے واپسی پر جو بیا نیہ دیا وہ جلسوں میں اسے بیان کر رہیے ہیں۔ نواڑ شریف اپنی تقریروں میں بتاتے ہیں کہ کس طرح پانچ ججوں نے ایک منتخب وزیراعظم کو حکومت سے نکالا۔ 2017 میں ملک ترقی کر رہا تھا لوڈ شیڈنگ کے اندھیرے ختم ہو گئے تھے ڈالر اور پٹرول کی قیمتیں قابو میں تھیں موٹر ویز اور میٹروز بن رہی تھیں مہنگائی کے جن کو قابو کیا ہوا تھا پاکستان ایٹمی طاقت بن چکا تھا۔ لیکن بطور وزیراعظم شہباز شریف کے دور میں مہنگائی کے جو ریکارڈ قائم ہوئے وہ ایک علحدہ کہانی ہیے اس کا کوئی جواز قابل قبول نہیں کیونکہ تیرہ جماعتی اتحاد نے اقتدار میں حصہ بقدر جثہ وصول کیا۔ ایک عدالتی فیصلے کے نتیجے میں پی ٹی آئی سے بلے کا نشان واپس لے لیا گیا اب اس جماعت کے نامزد امیدوار الگ الگ شناختی نشان کے ساتھ بطور آزاد امیدوار انتخابات میں حصہ لے رہیے ہیں۔ انہیں الیکشن مہم چلانے جلسے جلوس کرنے کی مکمل آزادی ہیے لیکن دیکھا یہ گیا ہیے کہ پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا اندرون اور بیرون ملک مختلف اکاونٹس سے بھرپور طریقے سے پی ٹی آئی کی انتخابی مہم چلا رہا ہیے۔ استحکام پاکستان کے جہانگیر ترین اور علیم خان جلسوں میں مسلم لیگ ن پر بھرپور اندز میں تنقید کر رہیے ہیں۔ ایسا لگ رہا ہیے کہ ہر سیاسی جماعت کا ٹارگٹ مسلم لیگ ن کی قیادت ہیے۔ پی پی تو پہلے ہی اپنے منشور کا اعلان کر چکی ہیے اب مسلم لیگ ن نے بھی اپنے پارٹی منشور کا اعلان کر دیا ہیے۔ جس میں اہم نعرہ قوم کو نواز دو ہیے۔ زوالفقار علی بھٹو کے زمانے میں پنجاب پی پی کا گڑھ ہوا کرتا تھا بینظیر بھٹو نے بھی پنجاب سے کافی سیٹیں جیتی تھیں اس کے بعد یہ مسلم لیگ ن کا قلعہ بن گیا 2018 کے الیکشن میں پی پی کی جگہ پی ٹی آئی نے لے لی اور پی پی کا صفایا ہو گیا اب پنجاب میں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن آمنے سامنے ہیں دونوں جماعتیں پنجاب سے زیادہ سے زیادہ سیٹیں حاصل کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہیں۔ عمران خان پر عرصہ دراز سے پی ٹی آئی کے جلسے میں سائفر لہرانے کا کیس چل رہا تھا آخر کار جج نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو دس دس سال قید کی سزا سنا دی۔ توشہ خانہ کیس میں عمران خان اور بشری بی بی کو چودہ چودہ سال قید کی سزا سنا دی گئی۔ عمران خان اور بشری بی بی کی سزاﺅں کے خلاف کوئی خاص عوامی رد عمل سامنے نہیں آیا۔ بیرسٹر گوہر نے پی ٹی آئی کارکنوں کو پرامن رہنے کی اپیل کی کیونکہ انہیں امید ہیے کہ سپریم کورٹ ان فیصلوں کو کالعدم قرار دے دے گی۔ اس وقت ہمارا المیہ یہ ہیے کہ ملک کی اقتصادی حالت انتہائی خراب ہیے آئی ایم ایف 2024 میں شہروں میں مہنگائی کی شرح 18 فیصد اور دیہاتوں میں 25 فیصد رہنے کی نوید سنا رہا ہیے۔ فنڈ کا یہ بھی تجزیہ ہیے کہ اس سال گروتھ دو فیصد اور اگلے سال تین فیصد سے زیادہ نہیں ہو گی۔ سری لنکا ڈیفالٹ ہوا لیکن آئی ایم ایف سے قرضہ لے کر ان کی معیشت بہتر ہو رہی ہیے دوسری طرف پاکستان نے ڈیفالٹ سے بچنے کے لئے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے قرض لیا لیکن ہماری اقتصادی حالت سدھر نہ سکی کیوں کہ ہم معاشرے کے بااثر طبقات پر ٹیکس لگانے سے کتراتے ہیں۔ اس وقت صورت حال یہ ہیے کہ لوگ تمام سیاسی جماعتوں کو آزما چکے ہیں اب بھی الیکشن مہم میں تمام امیدوار بڑے پرکشش نعرے لگا رہیے ہیں لیکن کسی بھی جماعت کے پاس ملک کی معاشی حالت کی درستگی کے لئے کوئی ٹھوس اور قابل عمل پروگرام نہیں۔ صرف جماعت اسلامی حقیقی اصلاحات کر سکتی ہیے لیکن اس کو لوگ ووٹ نہیں دیتے۔ انتخابات میں اب چند روز باقی ہیں الیکشن کمیشن نے انتخابات کی تمام تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ الیکشنز کے شفاف انعقاد کے لئے حساس مقامات پر فوج تعینات ہو گی۔ تمام پارٹیاں جلسوں میں ایک دوسرے پر تنقید کر رہی ہیں۔ نواز شریف مریم نواز بلاول بھٹو مولانا فضل الرحمن جہانگیر ترین بڑے جلسوں سے خطاب کر رہیے ہیں۔ عوام کو نئے خواب دکھائے جا رہیے ہیں۔ ایسے لگ رہا ہیے کہ کوئی جماعت بھی انتخابات میں واضع اکثریت حاصل نہیں کر پائے گی اور تمام جماعتیں مل کر مخلوط حکومت بنائیں گی ایسے میں مختلف شناختی نشانات کے ساتھ پی ٹی آئی کے آزاد امیدوار مرکزی کردار ادا کریں گے۔ عوام پہلے ہی مہنگائی کے ہاتھوں تنگ ہیں ایسے میں نگران حکومت نے ان پر پٹرول بم گرا دیا ہے انتخابات سے چند روز قبل پٹرولیم پروڈکٹس کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ عوام کے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہیے اس سے تمام ضروریات زندگی اور ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافہ ہو جائے گا۔

