رواں سال پاکستان نے جہاں ایک دفعہ پھراپنے سے کئی گناہ بڑے دشمن کوآپریشن بنیان المرصوص میں شکست فاش سے دوچار کیاوہیں پاکستان نے دیگرمحاذوں پربھی خاطرخواہ کامیابیاں سمیٹیں۔آپریشن بنیان مرصوص میں فتح کے بعدجہاں اقوام عالم نے پاکستان کیساتھ اپنے روابط مضبوط کئے وہیں پاک سعودی عرب تاریخی دفاعی معاہدہ بھی پاکستان کیلئے خارجہ محاذ پربہت بڑی کامیابی ہے۔وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان محمد شہبازشریف کی کامیاب خارجہ پالیسی کے بدولت اقوام عالم سے پاکستان کے تعلقات ایک نئے دورمیں داخل ہورہے ہیں۔گزشتہ ہفتے کرغزستان کے صدرکے کامیاب دورہ پاکستان کے بعد گزشتہ روزہی پاکستان اور انڈونیشیا کے 75سالہ تاریخی تعلقات کے موقع پر انڈونیشیا کے صدردورہ پاکستان پرپہنچے۔ دونوں ممالک کے درمیان 28 اپریل 1950کو سفارتی قائم ہوئے۔ انڈونیشیا دنیا میں سب سے زیادہ مسلم آبادی رکھنے والاملک ہے۔پاکستان کاجکارتہ میں سفارت خانہ جبکہ انڈونیشیا بالترتیب اسلام آباد اور کراچی میں ایک سفارت خانہ اور قونصلیٹ جنرل رکھتا ہے۔ انڈونیشیائی قوم پاکستان کواپناحقیقی محسن سمجھتے ہیں کیونکہ انڈونیشیا میں عوامی انقلاب کے دوران پاکستان نے انڈونیشیا کی بھرپورمدد کی تھی اوربانی پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناح نے مسلمان فوجیوں کی جانب سے ڈچ ایسٹ انڈیز کیخلاف لڑنے اورانڈونیشیا کی عوام کی بھرپورحمایت کی حوصلہ افزائی کی تھی۔پاکستانی مسلمان فوجیوں کی مدد کے اعتراف میں انڈونیشیا نے 17اگست 1995 کو انڈونیشیا کی گولڈن جوبلی کی تقریب کے دوران رضاکار جنگجوں کو آزادی جنگ کے ایوارڈزاور بانی پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناح کواڈی پورہکااعلی ترین اعزاز بھی دیاہواہے۔اِسی طرح جب 1965 میں بھارت نے رات کی تاریکی میں چھپ کرپاکستان پرحملہ کیاتوتب بھی انڈونیشیا نے پاکستان کی بھرپورحمایت کی اورجنگ میں پاکستان کیساتھ مل کربھارت کیخلاف لڑنے کااعلان کیاتھا۔ آج سات دہائیوں کے بعدبھی انڈونیشیا مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کے موقف کی بھرپورحمایت کرتاہے اورہرعالمی پلیٹ فارم پرمقبوضہ کشمیرکی عوام کے حق خودارادیت کے حق میں بھرپور آوازبلندکررہاہے۔دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کاجائزہ لیاجائے توپاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان 2012 میں ایک مستقل ترجیحی تجارتی معاہدہ کیاگیاجس کے بعدمزیددوطرفہ تجارتی تعلقات کے حوالے سے سابق وزیر اعظم وصدرمسلم لیگ ن میاں محمد نوازشریف کے دوراقتدار میں دونوں ممالک کی دوطرفہ تجارت مزیدمضبوط ہوئی۔رواں مالی سال تک دونوں ممالک کی دوطرفہ تجارت کاحجم 4.7 بلین ڈالرہے۔ اِسی طرح دونوں ممالک میں دفاعی تعاون کی یادداشتوں پر بھی دستخط ہیں دونوں ممالک میں تمام دستیاب فورمز کے ذریعے دو طرفہ دفاعی تعاون کو مضبوط، وسعت دینے اور متنوع بنانے کیلئے جوائنٹ ڈیفنس کوآپریشن کمیٹی بھی ہے۔ گزشتہ روز جب انڈونیشیا کے صدر ابووو سوبیانتوپاکستان کے دورروزہ دورے پر پہنچے تو صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے نورخان ایئربیس پر ان کا پرتپاک استقبال کیا، وفاقی کابینہ کے ارکان اور اعلی حکام بھی انڈونیشیاکے صدر کے استقبال کیلئے موجود تھے۔ انڈونیشیاکے صدر طیارے سے باہر آئے تو صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ان سے پرجوش مصافحہ
کیا۔ روایتی لباس میں ملبوس بچوں نے انڈونیشیاکے صدرپرابووو سوبیانتو کو پھول پیش کئے۔انڈونیشیا کے صدر کا اس موقع پر صدر مملکت اور وزیراعظم سے خوشگوار جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ دونوں ملکوں کے پرچم تھامے بچوں نے معزز مہمانوں کو خوش آمدید کہا۔ انڈونیشیا کے صدر کو 21 توپوں کی سلامی بھی دی گئی۔ بعدازاں معززمہمان کاوزیر اعظم ہاس آمدپربھی بھرپوراستقبال کیاگیا۔ صدر ابووو سوبیانتونے صدرمملکت آصف علی زرداری،وزیراعظم محمد شہباز شریف اورفیلڈمارشل،آرمی چیف حافظ جنرل سیدعاصم منیرسے بھی ملاقات کی۔ا یوان صدر میں معززمہمان کووفاقی کابینہ ،اراکین سینٹ وقومی اسمبلی کی موجودگی میں صدرمملکت آصف علی زرداری نے نشان پاکستان سے بھی نوازا۔وزیر اعظم ہاس میں دونوں ممالک میں مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے متعدد معاہدوں اور مفاہمتی یاداشتوں پر دستخط کئے گئے جن میں حلال تجارت، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار، اعلی تعلیم، منشیات کے خلاف اقدامات اور صحت کے شعبے شامل ہیں۔ تقریب میں انڈونیشیا کے صدر پرا بوو سوبیانتو اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نے معاہدوں اور مفاہمت کی یاداشتوں کی دستاویزات کے تبادلے کا مشاہدہ کیا جبکہ فریقین کے متعلقہ وزرا نے دستخط شدہ معاہدے اور مفاہمت کی یادداشتیں (ایم اویوز) باقاعدہ طور پر ایک دوسرے کے حوالے کیں۔ 2018 کے بعد انڈونیشیا کی جانب سے پاکستان کایہ دورہ انتہائی اہمیت کاحامل ہے خصوصا دونوں فریقین کی جانب سے دو طرفہ تجارت کے حجم کو مزید بڑھانے کیلئے انڈونیشیا-پاکستان ترجیحی تجارتی معاہدے (IP-PTA)پر نظرثانی،تجارتی عدم توازن کو دور کرنے کی کوششیں قابل تحسین ہیں۔اِسی طرح خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC) اور انڈونیشیا کے خودمختار دولت فنڈ (Danantara)کے درمیان بہتر تعاون کے ذریعے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری اور مشترکہ منصوبوں میں تعاون سے بھی دوطرفہ تجارت میں اضافہ ہوگا۔اگرخطے کے حوالے سے بات کی جائے توانڈونیشیا کے صدرکے دورہ پاکستان پردونوں ممالک نے ایک دفعہ پھر واضح کردیاہے کہ دونوں مسئلہ کشمیرپریکساں موقف رکھتے ہیں۔خصوصادونوں ممالک اقوام متحدہ کیساتھ ساتھ اوآئی سی،اورڈی ایٹ کثیر الجہتی فورمزکے بھی رکن ہیں اورحال ہی میں انڈونیشیا نے ڈی ایٹ کی قیادت بھی سنبھالی ہے۔صدرابووو سوبیانتو کا دورہ پاکستان نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے بلکہ باہمی مفاد پر مبنی تعاون کو بھی وسعت دے گاجو دونوں ممالک کی شراکت داری کے مسلسل فروغ میں مددگار ثابت ہوگی۔
کالم
انڈونیشیا کے صدرکادورہ پاکستان!
- by web desk
- دسمبر 12, 2025
- 0 Comments
- Less than a minute
- 88 Views
- 3 ہفتے ago

