حالیہ دنوں میں بین الاقوامی میڈیا اور سفارتی حلقوں میں امریکن صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کو پیش کیے گئے نام نہاد "15 نکاتی جنگ بندی معاہدے” کا شور ہے۔ اس سطح پر تو یہ امن کی ایک کوشش نظر آتی ہے، لیکن اگر ان نکات کی گہرائی میں جایا جائے تو یہ محض سیاسی شرائط نہیں بلکہ ایک اسلامی ریاست کے دفاعی نظام کو مفلوج کرنے اور اسے بیساکھیوں پر لانے کی ایک گہری عالمی سازش ہے۔ان مجوزہ نکات کا لبِ لباب یہ ہے کہ ایران کسی قسم کا دفاعی ساز و سامان، میزائل ٹیکنالوجی یا نیوکلیئر پروگرام جاری نہیں رکھ سکتا۔ باالفاظِ دیگر، امتِ مسلمہ کے ایک اہم ملک کو اپنی دفاعی صلاحیت دشمن کی مرضی کے تابع کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے۔ قرآنِ حکیم کا دوٹوک فیصلہ،ایسے وقت میں جب مسلم حکمران مصلحتوں کا شکار ہیں، ہمیں خالقِ کائنات کے اس واضح حکم کی طرف رجوع کرنا ہوگا جو سورة الأنفال میں نازل ہوا:ترجمہ ”اور ان کے (مقابلے) کیلئے تیار رکھو جتنی طاقت تم فراہم کر سکو اور جتنے گھوڑے تم باندھ سکو، تاکہ تم اس سے اللہ کے دشمن اور اپنے دشمن کو خوفزدہ کر سکو۔یہ آیتِ مبارکہ کسی بھی اسلامی ریاست کے لیے دفاعی تیاری کو ایک "مقدس فریضہ” قرار دیتی ہے۔
جب اللہ تعالیٰ خود دشمن کو مرعوب کرنے کے لیے طاقت کے حصول کا حکم دے رہا ہے، تو کوئی دنیاوی طاقت ایران سمیت کسی بھی اسلامی ملک کو اس حق سے کیسے محروم کر سکتی ہے؟فرمانِ نبوی ۖ کی روشنی میں:صرف قرآن ہی نہیں، بلکہ احادیثِ مبارکہ بھی ہمیں غافل رہنے کے بجائے چاک و چوبند رہنے کا درس دیتی ہیں۔ نبی کریم ۖ کا ارشادِ گرامی ہے:”الممِن القوِی خیر وحب ِل اللہِ مِن الممِنِ الضعِیفِ”طاقتور مومن، اللہ کے نزدیک کمزور مومن سے بہتر اور زیادہ محبوب ہے۔”(صحیح مسلم)یہ طاقت صرف جسمانی نہیں بلکہ عسکری، تکنیکی اور دفاعی بھی ہے۔ ٹرمپ کے 15 نکات ایران کو اسی "قوت” سے محروم کر کے کمزوری کی دلدل میں دھکیلنا چاہتے ہیں آج امتِ مسلمہ ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔
مسلم حکمرانوں کا موقف واضح ہونا چاہیے کہ دفاع ہمارا شرعی فرض ہے، کسی بھی اسلامی ملک کو نہتا کرنا قرآن و سنت کے صریحاً خلاف ہے۔ مسلمانوں کو جنت ٹرمپ کی شرائط ماننے سے نہیں بلکہ اللہ کے احکامات پر عمل کرنے سے ملے گی۔اس لئے ٹرمپ کے ان شرمناک نکات کو کسی بھی مسلم ممالک کو ایران
تک پہنچانا اور ان پر عمل درآمد کے لیے دباؤ ڈالنا "ثالثی”نہیں بلکہ ایک جرم ہے۔ کسی بھی مسلمان ملک کو استعماری طاقتوں کا آلہ کار نہیں بننا چاہیے مسلم حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی ایمانی غیرت کا ثبوت دیں اور ٹرمپ سمیت پوری دنیا پر واضح کر دیں کہ دفاعی صلاحیت کی تیاری مسلمانوں کا حق ہے جس پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں وقت آ گیا ہے کہ امت مسلمہ اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں اور کسی بھی بیرونی دبا کے سامنے جھکنے کے بجائے اپنی "ایمانی طاقت” اور قرآنی اصولوں پر بھروسہ کریں۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ کامیابی مادی وسائل میں نہیں بلکہ اللہ کی اطاعت اور ثابت قدمی میں پوشیدہ ہے۔
کالم
ایمانی غیرت یا ٹرمپ کے 15نکات؟ فیصلہ ہمیں کرنا ہے
- by web desk
- مارچ 28, 2026
- 0 Comments
- Less than a minute
- 61 Views
- 2 مہینے ago

