بلوچستان میں دہشت گردی قتل و غارت گری اور قومی املاک پر حملوں کا معاملہ ناراضگی والا ہے اور نہ بظاہر احتجاج کرنے والے کردار بلوچی عوام کے مسائل بارے متفکر، ایک منظم سازش اور بیرونی طاقتوں کے ایما پر ماہ رنگ جیسے کردار مختلف ادوار میں لانچ کیے جاتے رہے۔مسنگ پرسنز کے غم میں نڈھال بعض صحافتی عناصر کو ماہ رنگ کے رنگ بھی معلوم ہیں اور اس خاندان کی بلوچ عوام کےلئے خدمات بھی کہ کوئی ذوالفقار علی بھٹو کو قتل کرنے کی کوشش میں مارا گیا، کوئی دہشت گردانہ کاروائی میں جہنم رسید ہوئے اور کچھ مفرورمگر نہ جانے کیوں پھر بھی ہمارے بعض صحافتی و سیاسی حلقے انہیں ناراض بلوچوں کے زمرے میں ڈال کر انکے جرائم پر دانستہ یا غیر دانستہ پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔اس وقت پاکستان دشمنی ایجنڈا کو دو محاذوں پر آگے بڑھایا جا رہا ہے۔مسنگ ہرسنز کی آڑ میں احتجاج سیاسی ہمدردیاں سمیٹنے اور علیحدگی پسند بی ایل اے کو بروئے کار لا کر ریاست کو غیر مستحکم کرنے کا مگر اب معاملہ ناراض بلوچوں والا تو رہا نہیں۔اب تو آستین کے سانپ بھی اپنا رنگ دکھا رہے ہیں۔چند روز قبل ہم نے انہی سطور میں بلوچستان میں دہشت گردی کی لہر کا خدشہ ظاہر کیا تھا کہ بنگلہ دیش میں بھارت نواز حسینہ واجد کے فرار اور شیخ مجیب و مکتی باہنی کی باقیات کےساتھ بنگالی عوام کے سلوک پر بھارت نے چین سے بیٹھنا تھا اور نہ اس کے شہہ دماغ یہودیوں نے کہ بنگالی عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے سال ہا سال کی محنت اور تربیت سے پروان چڑھائی جانے والی مکتی باہنی کے رحم و کرم پر تھے، آخر کار ظلم کا خاتمہ اور بھارت نواز حکومت کے اقتدار کا سورج غروب ہوا تو اب اسے ایسے عوامی غضب کا سامنا کہ جائے پناہ ملنے سے نہیں مل رہی. کچھ اپنی لیڈر حسینہ واجد کی طرح اپنے اصل وطن بھارت جا پہنچے، کچھ جو طلبا کے ہتھے چڑھ رہے ہیں انہیں نشان عبرت بنایا جا رہا ہے۔سو بھارت اتنی بڑی سبکی کا بدلہ براہ راست تو لینے سے رہا مگر اپنے پروردہ گروپوں کو اس نے فعال کیا۔اگرچہ کچھ حلقے اسے انٹیلی جنس کی کوہتائی کے زمرے میں بھی شمار کرتے ہیں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ بلوچستان کے عوام اور ملک کی خاطر گزشتہ دو سالوں میں دو سو سے زائد جوانوں نے جانوں کا نذرانہ پیش کیا جو غیر ملکی مداخلت کا منہ بولتا ثبوت. دہشت گردی کی حالیہ لہر کی ایک وجہ ماہ اکتوبر میں سٹیٹ آف دی آرٹ گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کا افتتاح بھی ہے اور شنید ہے کہ چین کی اہم ترین شخصیت مہمان خصوصی ہو گی ۔ کامیابیوں کے بڑھتے قدم، گوادر پورٹ اور سی پیک پر کام کی تیز رفتاری کے بعد سیکورٹی اداروں کو ایسے واقعات کی توقع نہیں یقین ہونا چاہیے تھا. اس میں شک نہیں کہ گوادر پاکستان کا معاشی مرکز بننے جا رہا ہے اور اس کو روکنے کےلئے کئی ممالک افغانستان میں پناہ گزین دہشت گردوں کے ذریعے متحرک، بھارت اور اسرائیل کی سرپرستی میں یہ کبھی بلوچستان تو کبھی مذہبی و لسانی فرقہ واریت کو بھی ہوا دیکر اپنے اہداف کے حصول ممکن بناتے ہیں۔ادھر بلوچستان میں قدرتی ذخائر بھی دشمن قوتوں کی نظر میں کھٹکتے ہیں۔ بلوچستان میں یورینیم اور تھوریم کے ذخائر کی موجودگی اس علاقے کو عالمی جغرافیائی سیاست میں اہمیت کا حامل بنا دیتی ہے۔ یہ معدنیات نیوکلیئر انرجی اور اسلحہ سازی میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں، بالخصوص تھوریم جو نیوکلیئر انرجی میں بھی استعمال ہوتا ہے اور اس کے استعمال کو مستقبل کی توانائی کی ضروریات کےلئے ایک ممکنہ متبادل سمجھا جاتا ہے۔ تھوریم پر مبنی ریکٹرز زیادہ محفوظ اور موثر ہوتے ہیں اور ان کی نقصانات کی شرح یورینیم کے ریکٹرز کے مقابلے میں کم ہوتی ہے۔ ان ذخائر کی موجودگی بھلا دشمن طاقتوں کو کہاں چین لینے دیتی ہے اور ادھر ہمارے سیاست دان اور حکومتیں بھی ایسی جو بلوچستان کی محرومیوں میں اپنا حصہ بقدرے جثہ ڈالتی چلی ا ٓرہی ہیں. رہی سہی کسر بلوچ سرداران اور وڈیروں نے پوری کی کہ جنہوں نے اپنے علاقوں کو تعلیم، صحت، ذرائع نقل و حمل جیسی ضروریات سے محروم رکھا۔انتہا پسندی کے جنم میں ان محرومیوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔اگر چہ گزشتہ ایک دہائی سے بلوچستان میں تعمیر و ترقی کا سلسلہ شروع مگر اس کے باوجود علیحدگی پسند طبقات اپنے مقاصد کی تکمیل اپنے انداز میں چاہتے ہیں۔مسنگ پرسنز کو بہانہ بنایا جاتا ہے کہ جن کی بڑی تعداد یا تو افغانستان اپنی پناہ گاہوں میں اور کچھ دہشت گردانہ واقعات میں واصل جہنم تو کچھ گرفتار۔لہٰذا اب دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث عناصر کےلئے ناراض بلوچ کی اصطلاح بند ہونی چاہیے۔یہ تو ہوئی سیاسی و صحافتی غیر ذمہ داری مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ بیسیوں دہشت گردوں کو رہائی اور دہشت گردوں کے کیسز کے سال ہا سال معرض التوا میں رکھ کر ہمارا نظام عدل بھی اپنا حصہ ڈال رہا ہے جبکہ برطانیہ جیسی ریاست کہ جسے ہم انسانی حقوق کے حوالے سے رول ماڈل خیال کرتے ہیں کی عدالتیں کبھی دہشت گرد تو دور کی بات انتہا پسندوں کو کیفر کردار تک پہنچائے بغیر بند ہوتی ہیں اور نہ وہ ہفتوں مہینوں ایسے کیسز کو معرض التوا میں ڈالتی ہیں ۔ سوال یہ کہ ایسے سارے مسائل پاکستان کو ہی کیوں درپیش کیوں، آج تک ریاست میں آئین، قانون کی حکمرانی اور بے لاگ احتساب کیوں ممکن نہ ہو سکا اور بدعنوان، طاقتور اور دہشت گردی و انتہا پسندی میں ملوث عناصر ہر بار قانون کی گرفت سے کیوں بچ جاتے ہیں؟ یہ مسائل اب جواب طلب نہیں حل طلب ہیں۔