کالم

بھارتی دہشت گردی کا بھیانک چہرہ

مودی سرکار کی سرپرستی میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کا بھیانک چہرہ بے نقاب ہوگیا۔بدنام زمانہ بھارتی خفیہ ایجنسی "را” ریاستی سرپرستی میں پاکستان سمیت مختلف ممالک میں دہشت گردی پھیلانے میں سرگرم رہی ہے، جبکہ بھارتی دہشتگردی اوراسکے زیرِ سایہ فتنہ الہندوستان کو بھارتی فنڈنگ کے متعدد ناقابل تردید شواہد عالمی منظر نامہ پر پہلے ہی آشکار ہو چکے ہیں۔پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث بھارتی خفیہ ایجنسی را کے افسر کلبھوشن یادو بھی بھارتی دہشت گردی کا برملا اعتراف کر چکا ہے، بھارتی مشیر برائے قومی سلامتی اجیت دوول بارہا بلوچستان کو توڑنے کی کھلے عام دھمکی دے چکا ہے۔بلوچستان سے گرفتار دہشت گردوں نے بھی بھارت کی جانب سے مالی، تربیتی اور انٹیلی جنس معاونت کی فراہمی سے متعلق ہوشربا انکشافات کیے ، جس میں کینیڈا،امریکا اور دیگر ممالک میں بھارتی ریاستی سرپرستی میں سکھ رہنماؤں کے بہیمانہ قتل بھی بھارتی ریاستی دہشتگردی کا واضح ثبوت ہے۔ پاکستان بارہا بھارتی ریاستی سرپرستی میں پھیلائی جانے والی دہشت گردی کے ناقابل تردید شواہد اقوام عالم کے سامنے رکھ چکا ہے، تاہم بھارت بیرون ممالک دہشت گردی اور خطے کے امن کو سبوتاژ کرنے کیلئے منظم حکمتِ عملی کے تحت مہم سازی کر رہا ہے۔ امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے سکھ کارکنوں کے خلاف قتل کی سازشوں میں ملوث ہونے پر بھارت کی خفیہ ایجنسی”را ” پر مخصوص پابندیوں کی سفارش کرتے ہوئے کہاہے کہ بھارت میں اقلیتوں کو ناروا سلوک کا سامنا ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ طویل عرصے سے بھارت کو ایشیا اور دیگر جگہوں پر چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے والے ملک کے طور پر دیکھتا رہا ہے اور اسی وجہ سے بھارت میں انسانی حقوق کی پامالیوں کو نظر انداز کرتا رہا ہے۔ 2023 کے بعد سے بھارت کی طرف سے امریکہ اور کینیڈا میں سکھ رہنمائوں اور کارکنوں کو نشانہ بنانے پر امریکہ اور بھارت کے تعلقات میں سرد مہری سی پیدا ہوگئی اور واشنگٹن نے ایک سابق بھارتی انٹیلی جنس افسر وکاس یادو پر امریکہ میں سازش کا الزام عائد کیاجسے ناکام بنادیاگیا۔ امریکی کمیشن نے اپنی حالیہ رپورٹ میں کہاکہ2024 میں بھارت میں مذہبی آزادی کی صورتحال مزید ابتر ہو گئی کیونکہ مذہبی اقلیتوں پر حملوں اور امتیازی سلوک میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندو قوم پرست وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی بھارتیہ جنتا پارٹی نے گزشتہ سال انتخابی مہم کے دوران مسلمانوں اور دیگر مذہبی اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز بیان بازی کی اورجھوٹی خبریں پھیلائیں۔مودی نے گزشتہ سال اپریل میں مسلمانوں کو”درانداز” قراردیکر کہا تھا کہ ان کے زیادہ بچے ہوتے ہیں ۔ انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کے بارے میں امریکی محکمہ خارجہ کی رپورٹوں میں بھارت میں حالیہ برسوں میں اقلیتوں کے ساتھ زیادتیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔کمیشن نے امریکی حکومت کو مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں پر بھارت کو ”خصوصی تشویش والے ممالک ”کی فہرست میں شامل کرنے اور وکاس یادو اور ”را ”پر مخصوص پابندیاں لگانے کی سفارش کی ہے۔ مودی سرکار اور بھارتی را کی دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور جاسوسی ایک کھلی حقیقت ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ الیکشن 2024 میں ہندو قوم پرست وزیراعظم نریندر مودی اور بی جے پی نے مسلمانوں اور اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کر کے ووٹ بٹورنے کی کوشش کی ۔ بھارت میں بڑھتی ہوئی نفرت انگیز تقاریر، امتیازی شہریت اور تبدیلی مذہب کے خلاف قانون سازی، کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی اور مسلم املاک کی مسماری اقلیتوں کے حقوق پر حملہ ہیں۔امریکی ادارے کا کہنا ہے بھارتی خفیہ ایجنسی "متعصبانہ اور سیاسی طور پر محرک سرگرمیوں” میں مصروف ہے۔ یو ایس سی آئی آر ایف نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ بہت ہی خراب سلوک کیا جا رہا ہے۔ یو ایس سی آئی آر ایف کی سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں مذہبی امور کو منظم اور کنٹرول کرنے کی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں اس لیے اسے، "خاص تشویش کا ملک” قرار دیا جائے ۔ ادارے نے الزام لگایا ہے کہ سن 2023 کے بعد سے بھارتی ایجنسی را امریکہ اور کینیڈا میں خالصتانی کارکنان کو نشانہ بنانے کی سازشوں میں ملوث رہی ہے۔پینل نے امریکی حکومت کو مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں کیلئے "بھارت کو خاص تشویش کا حامل ملک” کے طور پر نامزد کرنے اور را نیز اس ادارے سے وابستہ بعض افراد کیخلاف "ٹارگٹڈ پابندیاں لگانے” کی سفارش کی۔واضح رہے کہ یہ کمیشن ریپبلکن اور ڈیموکریٹک دونوں جماعتوں کے اراکین پر مشتمل امریکی حکومت کا مشاورتی ادارہ ہے، جو بیرون ملک مذہبی آزادی پر نظر رکھتا ہے اور پالیسی سازی سے متعلق اپنی سفارشات پیش کرتا ہے۔امریکی ادارے نے یہ بھی سفارش کی کہ امریکی حکومت اس بات کا جائزہ لے کہ آیا آرمز ایکسپورٹ کنٹرول ایکٹ کے سیکشن 36 کے تحت بھارت کو ایم کیو 9 بی ڈرون، کی فروخت کہیں مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں میں اضافہ تر نہیں کر سکتی ہے ۔ گزشتہ اکتوبر میں بھارت نے امریکہ کے ساتھ تقریباً چار بلین ڈالر کی لاگت سے 31 پریڈیٹر ڈرون حاصل کرنے کیلئے ایک بڑے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔یو ایس سی آئی آر ایف ماضی میں اقلیتوں کے حقوق اور ان پر مظالم کے حوالے سے بھارت پر نکتہ چینی کرتا رہا اور اس نے بھارت پر پابندی کی سفارش بھی کی ہے، جنہیں بھارت حسب معمول مسترد کر دیتا ہے۔یہ پہلا موقع ہے کہ مذہبی آزادی کے امریکی کمیشن نے مذہبی اقلیتوں پر مبینہ جبر اور مظالم کے معاملے میں انڈیا کی خفیہ ایجنسی کا نام لیا ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ‘انڈیا کی حکومت نے مذہبی اقلیتوں بالخصوص سکھ برادری اور ان کی حمایت کرنے والوں کو ہدف بنانے کے لیے اپنے جبر کا دائرہ غیر ممالک تک پھیلا دیا ہے۔ بین الاقوامی رپورٹنگ اور کینیڈا حکومت کی خفیہ اطلاعات سے ان الزامات کی تصدیق ہوئی تھی کہ انڈیا کی ریسرچ اینڈ اینالیسس ونگ، یعنی را اور چھ سفارتکار نیویارک میں سنہ 2023 میں ایک امریکی سکھ علیحدگی پسند لیڈر کے قتل کی کوشش سے منسلک تھے۔’اس نے اپنی رپورٹ میں سفارش کی ہے کہ امریکی کانگریس ‘مذہبی آزادی کو مسلسل نقصان پہنچانے اور اس کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہونے کے لیے انڈیا کو خاص تشویش ملکوں کے زمرے میں شامل کرے۔’

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے