کالم

بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کی لایعنیاں

بھارتی متعصب قیادت کی طرف سے کبھی کبھی کوئی ایک بیان ایسا آ جاتا ہے جو خاموش پانیوں میں پتھر پھینکنے کے مترادف ہوتا ہے۔ بھارتی وزیرِ خارجہ جے شنکر کا حالیہ بیان بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ انہوں نے پاکستانی افواج پر ایسا تبصرہ کیا جو نہ صرف بے بنیاد ہے بلکہ کھلا اشتعال انگیز بھی۔ یقینا یہ کوئی نئی بات نہیں کہ بھارت کی جانب سے ایسے بیانات وقتا فوقتا سامنے آتے رہتے ہیں، مگر اس بار پاکستان نے سخت ردعمل دیتے ہوئے بھارت کو واضح پیغام دیا ہے کہ پاکستان کی ریاست اور اس کے اداروں کو نشانہ بنانا ایک بھارت کی پرانی سوچی سمجھی مہم کا حصہ ہے۔اس حوالے سے پاکستان کے دفترِ خارجہ نے جو مقف اختیار کیا، وہ کسی جذباتی ردِعمل پر نہیں بلکہ ٹھوس حقیقتوں پر مبنی تھا۔ پاکستان نے یہ بات کھل کر بتا دی کہ اس کے ریاستی ادارے، خصوصا مسلح افواج، قومی سلامتی کے مضبوط ستون ہیں اور یہ وہ حقیقت ہے جس سے خطے میں موجود ہر سنجیدہ ریاست واقف ہے۔ مئی 2025 میں بھارتی اشتعال انگیزی کے نتیجے میں دونوں ملکوں میں جو کشیدگی پیدا ہوئی تھی، اس نے دنیا کے سامنے یہ بات ثابت کر دی تھی کہ پاکستان کی فوج نہ صرف پیشہ ور ہے بلکہ ملک کے دفاع میں ایک لمحے کیلئے بھی ہچکچاتی نہیں۔اصل سوال یہ بنتا ہے کہ بھارت کو آخر اس وقت ایسا بیان دینے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟سیاسی ہمارے نزدیک تو یہی حقیقت کھلتی ہے کہ جب بھی بھارت کے اندرونی معاملات بگڑنے لگتے ہیں، وہاں کی قیادت اپنے عوام کی توجہ ہٹانے کیلئے پاکستان کو موضوع بنا دیتی ہے۔یوں سمجھ لیا جائے کہ جیسے کوئی استاد غلطی کرنے والے بچے کو ڈانٹنے کے بجائے دوسرے بچے کو الزام دے دے، تاکہ اصل مسئلہ چھپ جائے۔بھارت کے اندر اس وقت ہندوتوا سوچ نے ایسا جال بچھایا ہوا ہے کہ اقلیتوں کی زندگی مشکل سے مشکل تر ہوتی جا رہی ہے۔ مسلمانوں پر تشدد، من گھڑت مقدمات، اور عبادت گاہوں کی مسماری جیسے واقعات اب معمول بن گئے ہیں۔ ایسے ماحول میں بھارتی حکومت پر دباؤ بڑھتا ہے اور پھر اچانک پاکستان کے خلاف بیانات شروع ہو جاتے ہیں۔ مقصد بالکل سیدھا ہوتا ہے: عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانا۔پاکستان نے اپنے جواب میں یہی بات کہی کہ بھارت کا بیان خطے میں عدم استحکام لانے کی کوشش ہے۔ جب ایک ملک جان بوجھ کر آپ کے مضبوط اداروں کو نشانہ بنائے، تو مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی ناکامیوں کا بوجھ آپ پر ڈال سکے۔ بھارت کے الزامات کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ وہ خطے میں ہونے والی اپنی کارروائیوں پر پردہ ڈال سکے، خصوصا وہ کارروائیاں جن کے نتیجے میں پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے، جبکہ دوسری طرف پاکستان کا موقف ہمیشہ یہی رہا ہے کہ وہ پرامن بقائے باہمی پر یقین رکھتا ہے۔ جنگ یا کشیدگی کسی ریاست کے مفاد میں نہیں ہوتی، اور پاکستان اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھتا ہے۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ پاکستان اپنی خودمختاری پر کسی قسم کی انگلی اٹھنے دے۔ جب پاکستان کہتا ہے کہ وہ متحد ہے اور مضبوط ہے، تو اس بات کے پیچھے صرف سیاسی بیانیہ نہیں بلکہ ایک تاریخی حقیقت ہوتی ہے۔ اس ملک نے جو کچھ پچھلے بیسیوں سال میں جھیلا، ہر مشکل نے اسے مزید مضبوط ہی کیا ہے۔ پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے ہم اپنے ہر تجزئیے میں اس بات پر زور دیتے چلے آ رہے ہیں کہ بھارت کے اس قسم کے تمام بیانات اس کے ایک بڑے سیاسی کھیل کا حصہ ہوتے ہیں اور کے شنکر کا تازہ ترین بیان اسی سلسلے کی کڑی ہے کیونکہ جب بھارتی حکومت اپنے اندرونی مسائل حل کرنے میں ناکام رہتی ہے، وہ قومی جذبات کو گرم کر کے اپنی شہرت بچانے کی کوشش ضرور کرتی ہے۔ بھارت کے اندر اس وقت معاشی دبا، بے روزگاری اور اقلیتوں کے مسائل بڑھتے جا رہے ہیں۔ ایسے میں پاکستان پر الزام تراشی بھارت کی قیادت کے لیے آسان راستہ بن جاتا ہے۔پاکستان کا جواب اس لحاظ سے اہم ہے کہ اس نے نہ صرف الزام کو مسترد کیا بلکہ اصل مسئلے کی طرف بھی اشارہ کیا: بھارت کی فسطائی سوچ۔ یہ وہ سوچ ہے جس نے خطے میں کئی سال سے ایک غیر ضروری کشیدگی پیدا کر رکھی ہے۔ پاکستان نے یہ بھی یاد دلایا کہ خطے میں امن تبھی ممکن ہے جب دونوں ممالک سنجیدہ مکالمہ کریں، الزامات اور دھمکیاں مسائل کا حل بالکل نہیں ۔ آخر میں ایک بات جو سب سے اہم ہے: پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں۔ دونوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ خطے میں امن کو اہمیت دیں۔ لیکن بدقسمتی سیپاکستان کے خلاف شہری جذبات کو بھڑکانے والا بیانیہ بھارتی سیاست میں روزانہ کی روٹین ہی نہیں بلکہ ضرورت بن چکا ہے۔ اس کے جواب میں پاکستان کا ٹھنڈے دماغ سے، مگر مضبوط لہجے میں بات کرنا اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان بڑے ملکوں والا رویہ رکھتا ہے۔ پاکستان نے جو کچھ کہا، اسے آسان لفظوں میں یوں سمجھ لو: "ہم لڑائی نہیں چاہتے، لیکن ہم کمزور بھی نہیں۔ اگر کوئی ہمیں چھیڑے گا تو ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے۔”ریاستوں کے درمیان یہی زبان چلتی ہے، اور یہی زبان زیادہ اعتماد دیتی ہے۔ بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کا حالیہ بیان ایک بار پھر واضع کر چکا ہے کہ خطے میں امن کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ کون ہے۔ جب تک بھارت اپنی پالیسیوں اور بیانیے میں سنجیدگی نہیں لاتا، تب تک ہر اچھا قدم بھارتی بیان بازی میں دب کر رہ جائے گا۔ پاکستان کا مقف واضح ہے، مضبوط ہے، اور حقیقت پر مبنی ہے۔ اور یہی بات اسے سفارتی طور پر بھی برتری دیتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے