کالم

بھیانک عکس

taiwar hussain

مجھے یاد ہے بچپن میں جب کسی بات پر ہم دونوں بھائی لڑتے تو ہمارے دادا ہمیں ایسی سزا دیتے کہ تھوڑے وقت میں ہم دونوں ہچکیوں سے رونے لگ جاتے وہ سزا یہ تھی کہ ہم دونوں بھائیوں کو الگ الگ کرسی پر بٹھا دیا جاتا اور ہمارے منہ دیوار کی طرف ہوتے زندگی اور اسکے معمولات پس پشت ہوجاتے ۔ ہم کچھ دیر تو دیوار کی طرف منہ کئے بیٹھے رہتے ۔ اگر آپس میں بات کرنے کی کوشش کرتے تو دادا جان کی گر جدا ر آواز سے نہ صرف سہم جاتے بلکہ رونا شروع کردیتے ۔ دیوار کی طرف منہ کرکے خاموش بیٹھنا ہمارے لئے بہت اذیت ناک تھا ۔ ہماری والدہ دونوں بھائیوں کو روتا دیکھ کر دادا جان سے سفارش کرتیں کہ انہیں معاف کردیں دوبارہ جھگڑا نہیں کرینگے تو دادا جان ہماری والدہ سے کہتے بیٹا آپ سفارش نہ کرو ان دونوں کو ذرا بیٹھا رہنے دو یہ سیدھے ہوجائیں گے ۔ بہر حال دادا جان سے نہ صرف معافی مانگتے بلکہ آئندہ کیلئے وعدہ بھی کرتے کہ نہ تو شرارتیں ہوں گی اور نہ ہی کبھی بھائیوں میں جھگڑا ہوگا۔ میں یہ واقع تحریر کرتے ہوئے اپنے بچپن میں کھوگیا جب والدین بچوں کی تربیت پر خاص دھیان دیتے تھے ، ادب آداب سکھائے جاتے ، بات چیت کرتے ہوئے ”تو یاتم کہنے پر ٹوکتے تھے ©©“ آپ اور ہم جیسے الفاظ گفتگو میں استعمال ہوتے بڑوں کا ادب اور احترام نہ صرف سکھایا جاتا بلکہ کسی بھی طرح بدتمیزی یا بدتہذیبی کو برداشت نہ کیا جاتا جیسے وقت گزرتا گیا ہماری معاشرتی اقدار زوال پذیر ہوتی گئیں ۔ بحیثیت قوم اخلاقی طور پر ہم بہت گرے ہوئے ہیں شرم حیا عزت احترام تہذیب شرافت رکھ رکھاو¿ سبھی کا جنازہ نکل چکا ۔ کہا جاتا ہے عزت کروانا ایک فن ہے پہلے خود ایک مثال بنیں پھر دوسروں سے توقع کریں بات تو ٹھیک ہے۔ ہمارے بزرگ خود مثالی شخصیتیں تھے ۔ انہوں نے اولاد کی پرورش پر خصوصی توجہ دی ۔ تعلیم اور تربیت دونوں کا خیال رکھا ۔ اب تعلیم بھی تجارتی کموڈیٹی بن گئی اور تربیت پر دھیان دینے کیلئے موڈرن والدین کے پاس وقت ہی نہیں ۔ رات دو بجے تک جاگتے رہنا معمول بن چکا ہے ۔ پارٹیز اور ہلہ گلہ وقت کا احساس ہی نہیں ہونے دیتے ۔ ایک زمانہ تھا جب مغرب کے بعد کہیں آنا جانا معیوب سمجھا جاتا تھا سوائے ضروری کام کے عشاءکے بعد تو سونے کیلئے ماحول بن جاتا ، صبح فجر کی نماز کیلئے سب گھر والے اٹھ جاتے اور بزرگ نماز کے بعد قرآن پڑھتے ، اللہ کے کلام کی تاثیر گھر اور گھرو الوں پر دکھائی دیتی ، اب سب کچھ الٹ پلٹ ہوچکا ہے ۔ بہت کم گھرانوں میں یہ روایت زندہ ہے ۔ برگر اور کوک کی بوتل ہاتھ میں تھامے موسیقی کی تیز دھنوں پر تھرکتے جسم دیر سے سونے اور دیر سے اٹھنے کے عادی بن چکے ہیں ، یہی نسل اب ہمارے ملک جسے لاکھوں قربانیاں دے کر حاصل کیا اس کی وارث ہے ۔ ان کی تعلیم اور تربیت کا بھیانک عکس ہمیںاس وقت دکھائی دیتا ہے جب عوامی جگہوں پر انہیں کسی حیثیت سے اظہار خیال کا موقع ملے ۔ اسکی واضح اور ناقابل تردید مثال انتخابات کیلئے ہونےوالے جلسے ہیں جہاں اعلیٰ خاندانوں سے تعلق رکھنے والے اعلیٰ تعلیم یافتہ اعلیٰ سوسائٹی کے شاہکار سیاسی جماعتوں کے نمائندے بن کر اپنی اصل باطنی حقیقت کو گھٹیا ترین زبان کے استعمال سے ظاہر کررہے ہیں ۔ الفاظ کے صحیح چناو¿ اور موقع محل کی مطابقت میں ان کا استعمال شخصیت کی ترجمانی کا مستند ذریعے ہوتا ہے ۔ اندر اگر خباثت بھری ہو تو منہ سے ایسے ہی الفاظ اداہوتے ہیں جو ماحول کو برباد کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے ۔ پاکستان کی بدقسمتی ہے کہ ایسے اایسے مکروہ چہروں میں سیاست دان مل رہے ہیں جنہیں نہ تربیت ہے اور تعلیم بھی ان کا کچھ بگاڑ نہیں سکی ۔ اب عوامی مسائل اور ان کے حل تو گئے بھاڑمیں ذاتیات کو زیر بحث لاکر ایک دوسرے کی دل کھول کر پگڑی اچھا لنا عام فیشن بن گیا ہے جو زیادہ زبان دراز اور بدتمیزی سے بات کرسکتا ہو وہ کامیاب لیڈر ہے ۔ آج کل جو کچھ سننے اور دیکھنے کو مل رہا ہے اس پر جتنا افسوس کیا جائے اتنا ہی کم ہے لگتا یوں ہے کہ اب شرفاءکا سیاست میں آنا محال ہے ۔ بازاری ٹائپ کے لوگوں کیلئے ماحول ساز گار ہے ۔ نہ تو فی میل سیاستدان تہذیب کے دائرے میں رہنے کو تیار ہیں اور نہ میل سیاستدان یوں محسوس ہوتا ہے جیسے بد زبانی کا مقابلہ اور ہر سیاسی جماعت کا نمائندہ اپنی تعلیم تربیت اور خاندانی پس منظر کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے بتیس دانتوں اور ہونٹوں کے حصار کو توڑ کر خیالات کا اظہار کررہا ہے جس کی کثافت فضا اور ماحول کو مزید گندہ کرتی ہے ۔ میرے خیال میں یہ لوگ اللہ کے بندے بننے کی بجائے اپنی جماعت کے سربراہ کے زیادہ بندے یعنی غلام ہونے کا ثبوت دیتے ہیں ۔ کسی زمانے میں حکمران جماعت کی کمزور پالیسیوں پر تنقید ہوتی تھی اب ذاتیات زیر بحث ہوتی ہیں ۔ سیاسی راہنما و¿ں نے گھٹیا اور غلیظ زبان میں تقاریر کرنے کا فیشن بنالیا ہے ۔ بازاری پن کی انتہا ہوچکی ہے اب تو گھریلو خواتین بھی ان زبان دراز بدتہذیب اور بدتمیز سیاستدانوں کو کو چاہے وہ خواتین ہیں یا مرد حضرات سب کو ملک پر عذاب سمجھتی ہیں ۔ تعجب یہ ہے کہ ان کی جماعتوں کے سربراہ بھی سرزنش نہیں کرتے شاید اس کی وجہ یہ بھی ہو کہ گھٹیا زبان میں بات کرنے کی بنیاد انہوں نے خود ڈالی ہو ۔ نئی نسل جو پہلے ہی بے راہ روی کا شکار ہے انہیںیہ سیاسی جماعتیں کیا تربیت دے رہے ہیں ۔ ملک کی باگ ڈور مستقبل میں کن لوگوں کے ہاتھ میں آئے گی ۔ اخلاقی طور پر دیوالیہ لوگوں کے ہاتھ میں جو بے حس ہونے کے ساتھ ساتھ بے کردار بھی لگتے ہیں ۔عوامی مسائل دن بدن گھمبیر ہوتے جارہے ہیں ، مہنگائی نے لوگوں کو پریشان کر رکھا ہے ، آمدنی اخراجات سے کہیں کم ہوتی جارہی ہے ، روزانہ استعمال کی اشیاءاور ادویات کا حصول مشکل ہوتا جارہا ہے ۔ تیل کی قیمتیں بڑھنے سے مہنگائی مزید بڑھے گی ، کس کس چیز کا رونا رویا جائے ، عوام ذبح ہورہے ہیں ، ان کی گردن پر مہنگائی کی کند چھری چلائی جارہی ہے ۔ مغربی ممالک میں اشیاءسستی ہوتی ہیں لیکن ہمارے ہاں اس کے بالکل بر عکس ہوتا ہے ۔ منافع خوروں کا پیٹ تو شاید بھر جاتا ہے لیکن نیت نہیں بھرتی ۔ عوامی نمائندوں کی اس جانب تو جہ جاتی ہی نہیں۔ انہیں اپنے مفادات عزیز ہوتے ہیں ، عوامی مسائل نہ تو کسی فورم پر زیر بحث آتے ہیں اور نہ ہی کوئی خاطر خواہ نتیجہ سامنے آتا ہے ۔ جن پر تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے کے مصداق حکمران سابقہ پالیسیوں سے مری ہوئی عوام کو مزید مارنے پر تلے ہوئے ہیں ۔ اب تو ہر شخص ماضی اور حال کا تجزیہ کرتا نظر آرہا ہے ۔ غربت میں انسان زیادہ سیانہ ہوجاتا ہے لوگ کہہ رہے ہیں کہ بلے کو ووٹ دیا الٹا اس نے ہماری پھینٹی لگادی۔ نہ تو اسکے پاس صحیح پالیسیاں ہیں اور نہ ہی اچھی ٹیم، ان کی اصل کھل کر سامنے آگئی ہے ۔ ہر دیگی چمچے تو اس جماعت کے سربراہ کی تعریفیں کرتے ہوئے نہیں تھکتے ، مستقبل میں انہیں کے دام میں آنے کی پیشن گوئیاں کررہے ہیں ۔ اللہ ان درباریوں سے جان چھڑائے انہوں نے ہر دور میں چڑھتے سورج کی پوجا کی اور اپنے مفادات کی فضل کاٹی ہے ، یاد رکھیں کام بولتا ہے صرف نام نہیں ۔ عوام سیانے ہیں ووٹ کے ذریعے بدلہ لینے کو تیار بیٹھے ہیں وہ بھی اپنی سوچوں کے دربار میں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے