دنیا اس وقت ایک ایسی تبدیلی کے دور سے گزر رہی ہے جہاں پرانے اتحاد ٹوٹ رہے ہیں اور نئی صف بندیاں جنم لے رہی ہیں۔ طاقت کا توازن مشرق کی طرف بڑھ رہا ہے۔ معیشت خارجہ پالیسی کی اصل زبان بن چکی ہے۔ نظریات کی بجائے مفادات فیصلہ کن کردار ادا کر رہے ہیں۔ ایسے میں پاکستان کے لیے یہ سوال محض اہم نہیں بلکہ ناگزیر ہو چکا ہے کہ وہ بدلتی دنیا میں اپنی خارجہ ترجیحات کا تعین کس بنیاد پر کرے؟ یہ سوال محض سفارتی بیانات یا رسمی دوروں سے حل نہیں ہو گا بلکہ اس کے لیے واضح سمت مستقل مزاجی اور زمینی حقائق کو تسلیم کرنے کی جرات درکار ہے۔پاکستان کی خارجہ پالیسی طویل عرصے تک ردعمل کا شکار رہی ہے۔ ہم نے اکثر عالمی تبدیلیوں کو سمجھنے کی بجائے ان کا انتظار کیا اور پھر دباؤ میں فیصلے کیے۔ سرد جنگ کے دور سے لے کر نائن الیون کے بعد کے عالمی منظرنامے تک پاکستان نے خود کو بارہا ایسے محاذوں پر پایا جہاں فیصلے ہمارے کم اور حالات کے زیادہ تھے۔ اس طرز عمل نے وقتی فوائد تو دیے مگر طویل المدت نقصان بھی پہنچایا۔ آج جب دنیا ایک بار پھر نئی سمت اختیار کر رہی ہے تو پاکستان کے لیے پرانی غلطیوں کو دہرانا مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔آج کی دنیا میں خارجہ پالیسی کا مرکز طاقت نہیں بلکہ معیشت ہے۔ وہ ممالک مؤثر سمجھے جاتے ہیں جو تجارت سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کے ذریعے اپنے اثر و رسوخ کو بڑھاتے ہیں۔ پاکستان بدقسمتی سے اب بھی خارجہ پالیسی کو زیادہ تر سیکیورٹی کے زاویے سے دیکھتا ہے۔ یہ زاویہ اپنی جگہ اہم ہے مگر اگر اسے واحد ترجیح بنا لیا جائے تو ریاست عالمی دوڑ میں پیچھے رہ جاتی ہے۔ پاکستان کو اب یہ سمجھنا ہو گا کہ سفارتکاری صرف دفاعی مفادات کا تحفظ نہیں بلکہ معاشی دروازے کھولنے کا نام بھی ہے۔امریکا اور چین کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے دنیا کو ایک نئے دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ صورتحال بیک وقت موقع بھی ہے اور چیلنج بھی۔ چین پاکستان کا قریبی شراکت دار ہے اور اقتصادی تعاون کا بڑا ذریعہ بھی مگر اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ امریکا عالمی مالیاتی نظام اور تجارتی ڈھانچے میں اب بھی مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستان کے لیے کسی ایک بلاک میں مکمل جھکاؤ کی بجائے متوازن پالیسی ہی واحد راستہ ہے۔ توازن کا مطلب غیر جانبداری نہیں بلکہ اپنے قومی مفاد کو مرکز میں رکھ کر فیصلے کرنا ہے۔خطے کی سیاست بھی تیزی سے بدل رہی ہے۔ افغانستان کی صورتحال نے پاکستان کے لیے نئے سوالات پیدا کر دیے ہیں۔ ایک طرف سرحدی سلامتی کا مسئلہ ہے تو دوسری طرف انسانی اور معاشی چیلنجزہیں۔ پاکستان اگر افغانستان کے ساتھ تعلقات کو محض سیکیورٹی کے تناظر میں دیکھتا رہا تو یہ تعلق کبھی مستحکم نہیں ہو سکے گا۔ خطے میں پائیدار امن کے لیے معاشی روابط اور علاقائی تعاون ناگزیر ہے۔ وسطی ایشیا تک رسائی پاکستان کے لیے ایک بڑا موقع ہے مگر یہ موقع تبھی حقیقت بنے گا جب خارجہ پالیسی میں تسلسل اور اعتماد ہو گا۔بھارت کے ساتھ تعلقات پاکستان کی خارجہ ترجیحات کا سب سے پیچیدہ باب ہیں۔ ماضی کی تلخیاں اپنی جگہ مگر دنیا یہ سوال پوچھتی ہے کہ جنوبی ایشیا ہمیشہ کشیدگی کا شکار کیوں رہتا ہے؟ پاکستان کے لیے اصولی مؤقف سے دستبردار ہونا ممکن نہیں مگر سفارتکاری کا دروازہ بند رکھنا بھی دانش مندی نہیںکہلائے گا۔ دنیا بات چیت کرنے والوں کو سنجیدگی سے لیتی ہے محاذ آرائی کرنے والوں کو نہیں اگر پاکستان خطے میں معاشی تعاون کی بات کرے تو اسے عالمی سطح پر بھی وزن مل سکتا ہے۔مسلم دنیا کے ساتھ پاکستان کے تعلقات جذباتی بنیادوں پر قائم رہے ہیں مگر عملی سطح پر وہ نتائج سامنے نہیں آئے جو آ سکتے تھے۔ آج مشرق وسطیٰ بھی تبدیلی کے عمل سے گزر رہا ہے۔ خلیجی ممالک اپنی سرمایہ کاری کو ترجیح دے رہے ہیں۔ پاکستان اگر صرف سیاسی حمایت کا خواہاں رہے گا تو پیچھے رہ جائے گا۔اسے اپنی افرادی قوت سرمایہ کاری کے مواقع اور مشترکہ منصوبوں کے ذریعے تعلقات کو نئی بنیاد دینا ہو گی۔یورپ اور افریقہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں اکثر نظر انداز رہے ہیں۔ یورپی یونین پاکستان کا ایک بڑا تجارتی شراکت دار ہے مگر ہم نے اس تعلق کو سیاسی سطح پر وہ اہمیت نہیں دی جو دی جانی چاہیے تھی۔ افریقہ ابھرتی ہوئی منڈیوں کا براعظم ہے مگر پاکستان کی موجودگی وہاں برائے نام ہے۔ بدلتی دنیا میں خارجہ ترجیحات کا مطلب یہی ہے کہ نئے دروازے تلاش کیے جائیں اور پرانے تعصبات ترک کیے جائیں۔داخلی کمزوری خارجہ محاذ پر سب سے بڑی رکاوٹ بنتی ہے۔ کوئی بھی ملک اس ریاست کو سنجیدگی سے نہیں لیتا جس کی معیشت کمزور ہو اور سیاست غیر مستحکم۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی سب سے بڑی کمزوری یہی رہی ہے کہ اندرونی بحرانوں نے اس کے مؤقف کو کمزور کیا۔ قرضوں پر انحصار نے سفارتی خودمختاری کو متاثر کیا۔ جب فیصلے معاشی مجبوری میں ہوں تو خارجہ پالیسی آزاد نہیں رہتی۔پاکستان کو اب یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ دنیا میں کس حیثیت سے کھڑا ہونا چاہتا ہے۔ کیا وہ ایک مستقل شکوہ کناں ریاست رہے گا یا ایک ذمہ دار شراکت دار کے طور پر خود کو پیش کرے گا۔ دنیا کو جذبات نہیں منصوبے چاہئیں۔ بیانات نہیں تسلسل چاہیے۔ پاکستان اگر اپنی خارجہ ترجیحات کو واضح کر لے تو دنیا اس کے ساتھ چلنے پر مجبور ہو سکتی ہے۔نئی دنیا میں سفارتکار صرف مذاکرات کار نہیں بلکہ معاشی نمائندے بھی ہوتے ہیں۔ پاکستان کو اپنی سفارتی مشینری کو اسی تقاضے کے مطابق ڈھالنا ہو گا۔ سفارتخانوں کو صرف سیاسی رپورٹنگ کی بجائے تجارت سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کے مراکز بنانا ہو گا۔ یہ تبدیلی مشکل ضرور ہے مگر ناگزیر ہے۔پاکستان کی خارجہ ترجیحات کا مرکز اب صرف سلامتی نہیں بلکہ خوشحالی ہونا چاہیے۔ ایک خوشحال ریاست ہی خودمختار ہوتی ہے۔ جب معیشت مضبوط ہو تو مؤقف بھی مضبوط ہوتا ہے۔ دنیا ان ہی ممالک کو اہمیت دیتی ہے جو اپنے پاؤں پر کھڑے ہوں۔تبدیل ہوتی دنیا پاکستان سے بھی تبدیلی کا مطالبہ کر رہی ہے۔ یہ تبدیلی سوچ میں ہو ،ترجیح میں ہو اور عمل میں ہو۔ اگر پاکستان نے وقت کی آواز سن لی تو وہ اس بدلتی دنیا میں اپنا مقام بنا سکتا ہے اگر اس نے تاخیر کی تو تاریخ کا یہ موڑ بھی ہاتھ سے نکل سکتا ہے۔ اب فیصلہ محض خارجہ پالیسی کا نہیں بلکہ ریاست کے مستقبل کا ہے۔

