ےہ26 ستمبر1947ءکی بات ہے کہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے فرماےا :Education is a matter of life and death for Pakistan.The world is progressing so rapidly that without requisite advance in education, not only shall we lag behind others but may be wiped out altogether.©”تعلےم پاکستان کےلئے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔دنےا اتنی تےزی سے ترقی کر رہی ہے کہ تعلےمی مےدان مےں مطلوبہ پےش رفت کے بغےر ہم نہ صرف اقوام عالم سے پےچھے رہ جائےں گے بلکہ ہوسکتا ہے کہ ہمارا نام ونشان ہی صفحہ ہستی سے مٹ جائے۔“عصر حاضر میں جب وطن عزیز کی تعلیمی اداروں پر طائرانہ نظر دوڑاتے ہیں توعیاں ہوتا ہے کہ ہمارے تعلیمی ادارے جدید تقاضا کو پورا نہیں کرتے ،ہمارے تعلیمی ادارے ڈگریاںدیتی ہیں لیکن تعلیم کےساتھ طلبہ کی تربیت نہیں کرتے، اسلئے ڈگریوں کے حصول کے بعد ہمارے طلبہ روزگار کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں۔ تقرےباً پندرہ صد برس قبل اللہ رب العزت کے محبوبﷺ غار حرا مےں محو عبادت تھے کہ حضرت جبرائےل امےن تشرےف لائے اور فرماےا کہ ”پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے انسان کو خون کی پھٹک سے پےدا کےا۔پڑھ اور تمہارا رب ہی سب سے بڑا کرےم ہے جس نے قلم سے لکھنا سکھاےا ۔ انسان کو سکھاےا جو وہ نہےں جانتا تھا“۔یعنی اللہ رب العزت سورة العلق میں فرماتے ہیں ۔اقرا باسم ربک الذی خلق ۔خلق الا نسان من علق۔اقرا و ربک الاکرم۔الذی علم بالقلم۔علم الانسان مالم ےعلم۔©”اللہ رب العزت کے ابتدائی کلمات مےںتعلےم کا تذکرہ اس بات کی دلےل ہے کہ انسان کو علم کے درےچوں مےں جھانکنا چاہےے اور انسان کےلئے علم کی کتنی اہمےت ہے؟ انسان علم کے بغےر حےوان کی طرح ہے۔ خاکسار نے حال ہی میں کالاباغ کے گورنمنٹ گرلز کالج کا وزٹ کیاتو تعمیر و مرمت کا کام بند تھا، وہاں پر بتایا گیا کہ گذشتہ چھ ماہ سے فنڈ بند ہیں،حالانکہ کالاباغ لاہور سے بھی قدیم شہر ہے،وہاں پر اعلیٰ تعلیمی ادارے ہونے چاہیے تھے، اس حلقے کے ایم پی اے میجر (ر) اقبال خٹک صوبائی اسمبلی پنجاب میں اپنے علاقے کے مسائل اجاگر کرتے رہتے ہیں،ان کی کاوشیں قابل تعریف ہیں،اسی علاقے کے ممبر قومی اسمبلی جمال احسن خان انسان دوست اور صاحب علم ہیں،وہ اپنے لوگوںکے مسائل کے حل کےلئے کوشاں رہتے ہیں،وہ اب ایم این اے ہیں مگر وہ حسب اختلاف میں ہیں،اس لئے وہ سرعت سے ترقیاتی کام نہیں کراسکتے ہیں اور نہ ہی قانون سازی میں کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیںلیکن ان کی حب الوطنی ، اخلاص اور دیانت پر کوئی شبہ نہیں،ان کو جب بھی موقع ملے گا ،وہ اپنے ملک اور علاقے کےلئے صلاحیتوں کا استعمال کریں گے ۔دس بارہ برس قبل انھوں نے مجھے بتایا تھا کہ خالد خان ! اقتدار مےں آکر تعلےم، صحت اور روزگار کو ترجیح دوں گا۔ جدےد تعلےم حاصل کرنا ہمارے بچوں کا بنےادی حق ہے۔ حکمرانوں سے تھانہ کچہری کی سےاست، سےورےج نالی اور گلےاں مانگنے کی بجائے صرف اور صرف تعلےم اور اچھے تعلےمی اداروں کا تقاضا کرےں۔ ان کی باتوں سے خاکسار خیالات مےں کھوگےا کہ انھوں نے درست فرمایا۔ انسان کے لئے ان تےن چےزوں کا ہونا ناگزےر ہے، تعلیم ، صحت ، روزگار۔(اول)تعلےم ہمارے لئے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ (دوم) صحت کے بغےر کوئی کام نہےں ہوتا ےعنی جان ہے تو جہان ہے(سوم) انسان کے لئے روزگار بہت ضروری ہے۔بلاشبہ تعلےم و تربیت ہی ترقی اور دوام کے لئے لازم ہے،اس کے بغےرترقےب ِ زےست ناممکن ہے بلکہ اس کے بغےر ہمارا ٹھور ٹھکانا نہ رہے گا۔ آج وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے گرےبان مےں جھانکےں اور ماضی کی غلطےوں کو دھرانے کی بجائے ان سے سبق حاصل کرےں۔ اپنے منشور ، پلان اور فیصلہ جات مےں ان تےن درج بالا نکات کو سر فہرست رکھےں۔جدےد عصری تقاضوں سے ہم آہنگی کے لئے ہنگامی بنےادوں پرتعلےم کے فروغ کے لئے کام کرےں، سائنس اور ٹےکنالوجی کے علوم پر خصوصی توجہ دیں، دور دراز علاقوں مےں تعلےم کے فروغ کے لئے عملاً اقدامات اٹھا ئیں کہ طلبہ کو اپنے ہی علاقے میں تعلیم حاصل کرنے کے مواقع ملےں، اس سے ان کے اخراجات بچ جائیں گے اور بڑے شہروں پر بوجھ بھی کم ہوجائے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ابتدائی تعلیم سے اعلیٰ تعلیم تک جامع پلان بننا چاہیے،جس میں طلبہ کےلئے تعلیم کےساتھ ساتھ تربیت لازمی ہو، پیشہ وارانہ تربیت کےساتھ اخلاقی تربیت بھی ہو۔اخلاقی تربیت سے ہی کافی مسائل حل ہوسکتے ہیں، اخلاقی تربیت کا باقاعدہ پیریڈہونا چاہیے،اسی طرح تعلیمی اداروں میں جسمانی تربیت کا اہتمام ہونا چاہیے ۔نوجوان نسل کی جسمانی، اخلاقی اور پیشہ وارانہ تربیت کریں گے تو اس کے نتائج مثبت اوردور رس ہونگے ۔تعلیم و تربیت ہی کی بدولت سے وطن عزیز میں ترقی اور خوشحالی کا انقلاب بھرپا کیا جاسکتا ہے۔تعلیم وتربیت کےلئے اساتذہ کرام کی ذہنی آسودگی ناگزیر ہے،اس کےلئے لازمی ہے کہ اساتذہ کی تنخواہیں اور پنشن معقول ہو۔اساتذہ کرام کی عزت و احترام ہو، اساتذہ کو دوران سروس اور پنشن کا ایسا پیکیج دیںکہ اُن کواپنے مطالبات کےلئے سڑکوں پر آنا نہ پڑے۔ قارئین کرام !ضرورت اس امر کی ہے کہ قائد کے فرمان کے مطابق تعلےمی مےدان مےں کسی سے پےچھے نہےں رہنا چاہےے کیونکہ تعلےم اقوام کےلئے زندگی اور موت کا معاملہ ہے۔

