آبنائے ہر مز ہے کیا؟۔تاریخ کبھی خاموش نہیں ہوتی، وہ بولتی ہے بس سننے والے کان چاہئیں، سمجھنے والا دل چاہیے۔ کچھ جملے ایسے ہوتے ہیں جو وقت کی گرد میں دب نہیں جاتے بلکہ صدیوں بعد بھی تازہ لگتے ہیں۔ ایسا ہی ایک جملہ خالد بن ولید کا ہے: جس سر میں عقل نہ ہو، اس کے تاج کا کیا فائدہ۔یہ الفاظ محض ایک جنگی موقع پر کہے گئے جملے نہیں تھے، بلکہ ایک ایسا اصول تھے جو ہر دور، ہر معاشرے اور ہر نظامِ اقتدار پر پورا اترتا ہے۔جنگِ سلاسل کا منظر آنکھوں کے سامنے لائیں۔ ایک طرف ہرمز ہے ،سونے کا تاج پہنے، غرور میں ڈوبا ہوا، اپنے لشکر کو زنجیروں میں جکڑے ہوئے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اس کا تاج ہی اس کی طاقت ہے، اس کا رعب ہی اس کی فتح کی ضمانت ہے۔ دوسری طرف خالد بن ولید ہیںسادگی، ایمان اور حکمت کا پیکر۔ نہ کوئی تاج، نہ کوئی دکھاوا، مگر دل میں یقین کی وہ آگ جو بڑے سے بڑے لشکر کو راکھ کر دے۔ہرمز کا تاج چمک رہا تھا، مگر اس کے پیچھے ایک اندھی سوچ تھی۔ اس نے اپنے ہی سپاہیوں کو زنجیروں میں باندھ رکھا تھا۔یہ زنجیریں صرف لوہے کی نہیں تھیں، یہ خوف کی زنجیریں تھیں، غلامی کی زنجیریں تھیں، اس کمزوری کی علامت تھیں جو ایک حکمران اپنے ہی لوگوں پر اعتماد نہ ہونے کی صورت میں اپناتا ہے۔اور یہی وہ لمحہ تھا جب خالد بن ولید کا جملہ حقیقت بن کر سامنے آیا۔ تاج سر پر تھا، مگر سر خالی تھا۔ طاقت پاس تھی، مگر عقل غائب تھی۔ لشکر موجود تھا، مگر دل مردہ تھے۔پھر کیا ہوا؟ ایک لمحہ آیا، اور سب کچھ بدل گیا۔ ہرمز گرا، اس کا غرور ٹوٹا، اس کا تاج زمین پر آ گرا۔ وہ تاج جو اس کی پہچان تھا، وہی اس کی بے بسی کا نشان بن گیا۔ اور ایک مومن کے قدموں میں پڑا ہوا وہ تاج چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا کہ اصل طاقت سونے میں نہیں، سچ میں ہوتی ہے۔یہ صرف ایک جنگ کا واقعہ نہیں تھا، یہ ایک آئینہ تھاہر دور کے لیے۔آج بھی اگر ہم اپنے اردگرد دیکھیں تو ہمیں بہت سے تاج نظر آتے ہیں۔ بڑے عہدے، بڑی کرسیاں، بڑے القابات۔ مگر سوال وہی ہے: کیا ان سروں میں عقل بھی ہے؟ کیا ان کے فیصلوں میں انصاف بھی ہے؟ کیا ان کے دلوں میں عوام کے لیے درد بھی ہے؟
اگر نہیںتو پھر وہی سوال گونجتا ہے: جس سر میں عقل نہ ہو، اس کے تاج کا کیا فائدہ؟
ہم ایسے دور میں کھڑے ہیں جہاں بہت کچھ بظاہر مضبوط نظر آتا ہے، مگر اندر سے کھوکھلا ہے۔ کہیں نظام کے نام پر خاموشی مسلط ہے، کہیں طاقت کے نام پر سچ دبایا جا رہا ہے، اور کہیں عوام کو صرف گنتی کا ہندسہ سمجھا جا رہا ہے۔یہ سب کیا ہے؟ یہی تو ہرمز کی سوچ ہے۔ یہی تو وہ زنجیریں ہیںجو آج بھی موجود ہیں، بس شکل بدل گئی ہے۔اور تاریخ کا سبق بڑا واضح ہے: زنجیریں کبھی مستقل نہیں ہوتیں۔ وہ ٹوٹتی ہیںضرور ٹوٹتی ہیں۔جب لوگ جاگتے ہیں، جب سچ بولنے والے کھڑے ہوتے ہیں، جب ایک آواز لاکھوں دلوں کی آواز بن جاتی ہے، تو پھر کوئی تاج، کوئی تخت، کوئی طاقت اسے روک نہیں سکتی۔مختصراً اگر آج کے حالات کی طرف اشارہ کیا جائے تو پاکستان میں بھی ایک کشمکش جاری ہے۔ عوام کی آواز، انصاف کی طلب، اور قیادت کے گرد گھومتی ہے۔ عمران خان کا نام اس تناظر میں ایک علامت کے طور پر لیا جاتا ہے، جبکہ فارم 47 جیسے معاملات اس بحث کو مزید گہرا کرتے ہیں۔ مگر یہ سب تفصیل ہے، اصل بات وہی ہے: سچ اور جھوٹ کی لڑائی۔وقت بدلتا ہے، حالات بدلتے ہیں، مگر ایک چیز نہیں بدلتی سچ کی طاقت۔آج اگر کچھ لوگ تاج پہن کر خود کو ناقابلِ شکست سمجھ رہے ہیں تو انہیں ہرمز کو یاد رکھنا چاہیے۔ اسے بھی یہی گمان تھا۔ مگر انجام؟ چند لمحوں میں سب ختم۔یہ کائنات کا اصول ہے: غرور ٹوٹتا ہے، سچ جیتتا ہے۔اور وہ دن دور نہیں جب یہ آوازیں جو آج دبائی جا رہی ہیں، ایک طوفان بن جائیں گی۔ جب عوام اپنی طاقت کو پہچان لے گی۔ جب حق کی صدا ہر طرف گونجے گی۔ان شا اللہ۔کیونکہ تاریخ نے ہمیشہ یہی ثابت کیا ہے کہ تاج نہیں بچتے سچ بچتا ہے۔ عقل بچتی ہے۔ اور وہی سر بلند رہتے ہیں جن میں روشنی ہوتی ہے، نہ کہ وہ جن پر صرف سونا سجا ہوتا ہے۔آج عمران خان کا بیٹا خالد بن ولید کی تلوار لیے شیروں کی طرح گرج رہا ہے اور ہرمز کے شاگرد کانپ رہے ہیں۔
کالم
جس سر میں عقل نہ ہو اس کے تاج کا کیا فائدہ
- by web desk
- مارچ 30, 2026
- 0 Comments
- Less than a minute
- 68 Views
- 2 مہینے ago

