کالم

جوڑیاں جین بچیاں دیاں خیراں

کچھ عرصہ پہلے میرے سب سے چھوٹے بھائی کی شادی تھی سادگی کو پھینٹتے ہوئے فضول خرچیاں رک نہ سکیں وہی تیل مہندی میوزک نائٹ بارات ولیمہ سب کچھ ہوا وجہ یہ زیر بحث رہی کہ شادی تو ایک ہی دفعہ ہونی ہے اگر خدانخواستہ دوسری بار کرنی پڑے توبلا خوف وخطر صرف جنید صفدر ہی کروڑوں روپیہ خرچ کر سکتا ہے کیونکہ وہ جدی پشتی امیروں کی اولاد ہے جس بچی کا گھر اجڑ گیا اسے ڈالیں بھاڑ میں اگر پہلی دلہن کو یاد کرتے رہیں تو زندگی گزارنا مشکل ہو جائے اسلام میں تو چار شادیاں جائز ہیں اگر رویہ ایک جیسا رکھ سکیں تو پابندی نہیں نبھاہ نہ ہو سکے دونوں برتن کھڑکتے رہیں تو پھر بھی ذہنی سکون اور گھر آباد رکھنے کیلئے اگر تمام تدابیر ناکام ہو جائیں تو پھر دوسری شادی کرنے میں رکاوٹ نہیں بلکہ بڑے بوڑھے خود تحریک سا ز بن کر اس کارخیر کو انجام دیتے ہیں ۔بہر حال آجکل شادیوں کا سیزن ہے بارات ولیموں کا کھانا کھا کھا کر پیٹ خراب ہو گیا ہے لیکن کھچڑی تو کہیں نہیں ملے گی انواع واقسام کی ڈشزپر ہی اکتفا کرنا پڑیگا دوچار دن مزید ادویات کا استعمال کر لیں گے جانا تو سبھی جگہ پڑیگا جن جن احباب نے بلایا ہے ان کو ناراض بھی نہیں کیا جا سکتا کسی کی بیٹی کی شادی ہے اور کسی کے بیٹے کی لہذا دوستوں کا جانا بنتا ہے معذرت قبول نہیں ہو سکتی تو میں کہہ رہا تھا کہ بھائی کی شادی تھی میوزک نائٹ پر موسیقی سے تعلق رکھنے والی ایک پارٹی کو بلایا ہوا تھا لیٹ نائٹ جب فنکشن ختم ہوا تو گھر کے ملازموں کو ہدایت کی مراثیوں کو بھی کھانا ذمے داری سے کھلا دیا جائے یہ آواز جب ان کے سربراہ کے کانوں تک پہنچی تو اسے گراں گزری اس نے اپنے مخصوص لہجے اور انداز گفتگو میں کہا ”میاں جی اللہ بھاگ لائی رکھے،بچے جین جوڑیاں قائم رہیں تسی جو فرمایا اے گل سب تے لگدی ایہم” اگر اپنے باپ دادا والا کام جو کہ وراثتی ہے کریں تو مراثی کہلاتے ہیں لیکن لوہا ر کا بیٹا لوہار ہو زمیندار کابیٹا جدی پشتی زمینداری کرتا ہوڈاکٹر کی اولاد ڈاکٹر ہو سرکاری ملازم کی اولاد بھی اسی دفتر میں ملازم ہو کر کلرکی یا افسری کر رہی ہو تو کیا وہ مراثی نہیں کیونکہ انہیں بھی تو وراثت میں وہ پیشہ ملتا ہے جو اسی کے آباو اجداد کرتے ہیں ہمیں حقیر سمجھا جاتا ہے وہ عزت نہیں ملتی جو عام آدمی کی ہوتی ہے وہ چاہے راحت فتح علی خان ہو چاند خا ن ہو یا سورج خان یا چاہے پٹیالا گھرانے کے فنکار ہوں میاں جی ہمیں ذلیل نہ کریں تہاڈے باپ داد ا ساڈے ججمان سی اوناں دا سانوں منہ ماردامعافی چوہناں اویں منہ ماردا سے چوں گلاں نکل گیاں ۔ اس کی کسیلی باتیں سن کر میں دل ہی دل میں شرمندہ ہو گیا لیکن اس کے نزدیک جا کر میں نے دل سے ناراضگی اور کم مایئگی کا احساس ختم کرنے کیلئے جھوٹے ڈائیلاگ بولنا شروع کر دیے اور کافی وقت کے بعد ماحول تناو سے خوشگوار بنا پھر ان کی طرف سے جگتیں شروع ہو گئیں اور قہقہوں کی آوازیں گونجنے لگیں تو میںنے شکر کیا ورنہ فضا پرایک دم سناٹا چھا گیا تھا ان کا بیان کردہ ایک لطیفہ جسے زبان زدعام میں جگت کہتے ہیں آپ کو بھی سنا دیتا ہوں کہنے لگے ہم فیصل آباد گئے تو لاری اڈے پہ فروٹ کی ریڑھی لگی ہوئی تھی ایک کے پاس جا کر ہم نے امرود خریدنا چاہے اور کہا یار خراب نا پائیں کہ کیڑے نکل آون تو فروٹ بیچنے والے نے برجستہ کہاسرکار ہور ایدے وچوں موٹر سائیکل نکلنا ۔ کھانے کے دورا ن ایک صاحب کھانے کے ڈونگے میں سے مرغ کی ٹانگ کی بوٹی ڈالتے ہوئے سوالیہ انداز میں بولے میاں جی مرغے دی اک لت لبھی اے دوجی لت کی ایدی حادثے وچ ضائع ہو گئی سی۔ یہ سلسلہ چلتا رہا لیکن میرے ذہن میں اس بندے کی وہ تصویر گھومتی رہی جو اس نے اپنے لیے مراثی کا لفظ سن کر بھڑاس نکالی تھی کیونکہ بے ساختہ میرے منہ سے یہ جملہ نکل گیا تھاکہ مراثیوں کو بھی کھانا کھلا دیا جائے اس جملے نے اس کی انا اور عزت کو مجروح کیا جسکی پاداش میں مجھے اس کی کئی باتیں سننا پڑیں اور یہ احساس ہوا کہ زبان جسے اللہ نے دانتو ں کے پیچھے لبو ں کے حصار میں رکھی ہے اسکا استعمال اگر ذمہ داری سے نہ کیا جائے تو بعض اوقات بھری محفل میں سبکی ہو جاتی ہے اور دوسرے کی دل شکنی الگ کہا جاتا ہے کہ زبان کا گھاو تلوار کے گھاو سے بھی زیادہ ہوتا ہے اور یہ سچ ہے ہماری اجتماعی کمزوری یا پھر برائی کہہ لیںوہ یہ ہے ایسے پیشے سے منسلک لوگوں کو معاشرے میں عزت نہیںدی جاتی انہیں کمتر سمجھا جاتا ہے انسان کے بجائے ان کی ذات برادری یا پھر مالی لحاظ سے مستحکم پوزیشن کی وجہ سے عزت ہوتی ہے بحیثیت انسان اس کی عزت و احترام نہیں ہوتا اسکا پیشہ اور پیسہ معاشرے میں اسکا مقام بناتا ہے بڑی گاڑی بڑا بنگلہ تکبر سے بات کرنے کا انداز سٹیٹس بنانے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں اس کے برعکس گھٹیا کلاس کیا مقام بنائے گی معاشرے میں طباقتی تقسیم کچھ اس طرح ہے کہ آپ اس کی اصلاح کر ہی نہیں سکتے بعض کو بعض ہر نسلی برتری ہے یا پھر مال دولت نے انہیں ممتاز کر رکھا ہے کردار کی اہمیت ہی نہیں ایک دفعہ ایک شاہسوار گھوڑے پر سوار جا رہا تھا اس کا گزر ایک لہلاتی ہوئی فصل کے درمیان سے ہوا اسے دیکھتے ہی کسان نے گالیاں دینا شروع کردیں وہ شخص جو ایک اللہ والا تھا گھوڑے سے اترا کسان کو گلے لگا کر بولا جو تمہارے پاس تم نے مجھے دیدیا اور جو میرے پاس ہے وہ میں تمہیں دے رہا ہوں یہ جملہ انہوں نے کسان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا جا عیش کر اس جملے کے بعد اس کسان کی کایا پلٹ گئی اور وہ ایک کامل ولی بن گیا ہماری زبان بے مقصد چلتی ہے اور اس کیو جہ سے ہی مصائب پریشانیوں کے انبار چاروں طرف پھیلے ہوئے ہیں سیاستدان صرف زبان چلاتے ہیں زبان سے کیے گئے وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کے آثار نظر نہیںآتے معاشر ہ انسان نما جانوروں سے بھرا پڑا ہے جن کا ہر حربہ انسانوں کو نقصان پہنچانے میں صرف ہوتا ہے دل پتھر بن چکے ہیں تضحیک کرنا معمول کی بات ہے اگر ہماری زندگی کے معاملات سے جھوٹ طنز اور دل شکنی کرنے کی عادت کنٹرول کر لی جائے تو بہت سے معاشرتی مسائل پر پردہ ڈل سکتا ہے لیکن ہم تو دوسروں کو نیچا دکھانے کی ہر کوشش میںسبقت کا پہلو تلاش کرنے میں مصروف رہتے ہیں انسانوں سے محبت اور احترام کا رشتہ کہیں کھو چکے ہیں زندگی نیوٹن ہی نہیں ملٹن بھی ہے انسان بے مقصد بولتا رہتا ہے شاید خاموشی میں اسے اپنے روبرو ہونا پڑتا ہے انسان کا اصل ساتھی اسکا باطن ہے اور یہ خاموش ساتھی خاموشی سے ملتا ہے کاش ہم بھی خاموشی کے ساتھ اپنے روبرو ہونے کی کوشش کریں کیونکہ انسان کی قبل از پیدائش زمانے بھی خاموشی کے ہیں اور بعد میں بھی خاموشی ہے باطن کا سفر اندرون بینی کا سفر من کی دنیا کاسفر دل کی گہرائیوں کا سفر راز ہستی کا سفر دیدہ وری کا سفر چشم بینا کا سفرحق بینی کا سفرحق یابی کا سفر خاموشی کا سفر ہے اور اسی کیفیت سے ہم دور بھاگتے ہیں کہ کہیں خود کے روبرو نہ ہونا پڑے اور اس زندگی میں ایک اور زندگی ملتی ہے زندگی یہی ہوتی ہے اور یہی شب و روز ہوتے ہیں مگر اسی کے اندر ایک اور زندگی کی روشنی نظرآتی ہے جو راہ مستقیم کے سفر پر روانہ کرنے کا سبب بنتی ہے وقت تو گزر رہا ہے یہ شب وروز اسی طرح بسر ہو رہے ہیں لیکن اپنے آپ کا احتساب کرنے کو دل مائل نہیں ہوتا کیونکہ خیر و شر کے کمبل میںلپٹا ہوا انسان ضمیر اور اپنی نظروں کے آئینے کے سامنے آنے سے ڈرتا ہے ہم اپنا آپ ہی گم کربیٹھے ہیں ہمارے پاس آگہی کاوقت ہی نہیں چلیں چھوڑیں سب باتوں کو اتنا تو ہم کرسکتے ہیں کہ سب کی عز ت کرنا شروع کر دیں اللہ اور اس کے محبوب کا حکم ماننے کو کوشش کریں دنیا سے تھوڑا سا منہ موڑ کر دین کی طرف رخ بھی کرلیں ۔ اللہ اپنا فضل فرمائے اور حضور کے امتی ہونے کی ہمیں لاج نباہنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔ کسی کی دل شکنی سے احتراز کریں تاکہ اپنی عزت بھی داو پر نہ لگے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے