بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ محبوبہ مفتی نے بھارتی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ عید سے قبل کشمیری نظربندوں کو رہا کرے جو علاقے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اعتماد سازی کاپہلا حقیقی قدم ہوگا۔ دہلی کو کشمیریوں کی آواز سننی چاہیے اور سیاسی لائحہ عمل کے تحت مذاکرات کو آگے بڑھانا چاہیے۔بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموںوکشمیر میں حریت رہنماؤں اور تنظیموں نے کہا ہے کہ بھارت جھوٹے مقدمات میں مختلف جیلوں اور عقوبت خانوں میں بند مزاحمتی رہنمائوں اور کارکنوں کو بڑے پیمانے پر سیاسی انتقام کا نشانہ بنا رہا ہے۔ نظر بند رہنمائوں ، کارکنوں کو ناجائز بھارتی کو چیلنج کرنے کی پاداش میں نشانہ بنا یا جا رہا ہے۔ ان کشمیری سیاسی کارکنوں کو من گھڑت الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے تاکہ اختلاف رائے کو خاموش کیا جا سکے۔ بھارتی حکومت قید حریت رہنماں اور دیگر سیاسی قیدیوں کے ساتھ ظالمانہ سلوک کر رہی ہے۔ بیانات میں کہا گیا ہے کہ مودی حکومت حریت رہنماں اور کارکنوں کو نظربند کرنے اور ان کی آواز خاموش کرانے کیلئے پبلک سیفٹی ایکٹ اور یو اے پی اے جیسے کاالے قوانین کا بے دریغ استعمال کررہی ہے۔ کشمیری سیاسی قیدیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جس کا واحد مقصد ان کے حوصلے توڑنا اور کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو شکست دینا ہے۔ عالمی برادری اور انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت کے ظالمانہ اقدامات کا نوٹس لیں اور تمام غیر قانونی طور پر نظر بند کشمیری رہنماں اور کارکنوں کی فوری رہائی کیلئے کردار ادا کریں۔ ہم مذاکرات اور بات چیت پر یقین رکھتے ہیں اوروقار کے ساتھ امن چاہتے ہیں، صرف ترقی سیاسی مسائل کو حل نہیں کر سکتی۔ وادی کشمیرمیں خاموشی ،خوف کا ماحول اورنفرت فوری طور پر ختم ہونی چاہیے ، عید سے پہلے قیدیوں کو رہا کرنے سے کشمیر ی عوام کومفاہمت اور مرہم کا مضبوط پیغام جائے گا۔انہوں نے نئی تقسیم پیدا کرنے کے بجائے پڑوسیوں کے ساتھ تجارت اور سفر کیلئے کشمیر کے تمام راستے کھولنے پر زور دیا۔ہمارا روڈ میپ تمام پڑوسیوں کے ساتھ کشمیر کے دروازے کھولنا ہے، ہم تجارت اور سفر کی آزادی چاہتے ہیں، دیرپا امن کے لیے وسیع تر رابطہ اور عوام سے عوام کا رابطہ ضروری ہے۔ امن اور بات چیت ہی کشمیر اور جنوبی ایشیا کیلئے آگے بڑھنے کا واحد پائیدار راستہ ہے۔ محبوبہ مفتی نے پاکستان کے ساتھ دوبارہ مذاکرات شروع کرنے کی بھرپور وکالت کی اور جموں و کشمیر کے عوام سے رابطے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ خطے کے ”زخموں پر مرہم رکھا جائے” اور عوام کا اعتماد بحال کیا جائے۔ پاکستان سے بات چیت کرنا ایک بہت اچھی بات ہے۔ سری نگر کو جوڑنے والے راستے دوبارہ کھولے جانے چاہئیں اور مفاہمت کا عمل دوبارہ جموں و کشمیر سے شروع ہونا چاہیے۔ امن اور استحکام صرف مذاکرات اور مفاہمت کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ہم کسی سازش کی بات نہیں کر رہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس کشمیر اور اْس کشمیر (پی او کے) کے درمیان راستے کھلیں اور وسطی ایشیا کی جانب بھی رسائی ہو، تاکہ جموں و کشمیر کے لوگ آزاد فضا میں سانس لے سکیں ۔ سابق وزیر اعلیٰ نے غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ، پبلک سیفٹی ایکٹ اور آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ (افسپا) کو ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور کہا کہ اگر حالات بہتر ہوئے ہیں تو حکومت کو ”عوام کے زخموں پر مرہم رکھنا چاہیے”۔ مودی کے پاس جموں و کشمیر مسئلے کے دیرپا حل کی شروعات کرنے کی سیاسی طاقت موجود ہے۔اگر مودی جی تاریخ رقم کرنا چاہتے ہیں اور دنیا میں ایک مثال قائم کرنا چاہتے ہیں، تو ان کے پاس جموں و کشمیر کے مسئلے کا حل تلاش کرنے اور یہاں کے لوگوں کے زخم بھرنے کا سنہری موقع ہے۔ کشمیریوں کا قتل عام بھارت کی ریاستی دہشت گردی کے غیر انسانی چہرے کا عکاس ہے۔ قابض بھارتی افواج کشمیری حریت پسندوں کے عزائم سے ہار چکی ہیں۔ مظلوم کشمیریوں کا بہتا خون ناحق عالمی ضمیر کے لئے چیلنج ہے۔ مظلوم کشمیری سوال پوچھ رہے ہیں کہ عالمی برادری بھارتی مظالم پر خاموش کیوں ہے؟ جموں کشمیر کے لوگ پچھلی سات دہائیوں سے اپنے پیدائشی حق، حق خود ارادیت کے حصول کی جدوجہد کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بیش بہا جانی اور مالی قربانیاں دے رہے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جموں کشمیر کی آبادی کے خلاف ایک جنگ چھیڑ دی گئی ہے۔ کرفیو کے نفاذ،لوگوں کی نقل و حرکت پر پابندی، جبکہ تمام حریت رہنماؤں کی گھروں اور تھانوں میں نظر بندی کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کو ایک بڑے جیل خانے میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ بھارت کشمیریوں پر مظالم اور ڈھانے کی پالیسی ترک کردے۔ بھارت چاہے طاقت کا کتنا ہی استعمال کیوں نہ کر لے وہ کشمیریوں کے حوصلے پست کرنے میں کامیاب ہیں ہوگا۔ کشمیری جد وجہد آزادی اور شہدا کی قربانیوں کے ساتھ اپنی گہری وابستگی عملی طور پر ثابت کر رہے ہیں ۔جموں و کشمیر دنیا میں سب سے بڑا فوجی جماؤ والا خطہ ہے اور یہاں پر بھارتی فوج کی 16مشق گاہیں موجود ہیں۔

