کالم

خدانخواستہ اگر پاکستان ڈیفالٹ ہوجائے ؟

اس وقت وطن عزیز کے سٹیٹ بینک آف پاکستان میں 3 ارب کے ڈالر کے خارجہ سکے کے ذخائر ہیں۔ اور یہ پاکستان کے مالی معاملات کے دو مہینے چلانے کے لئے کافی ہے۔اگر آئی ایم ایف نے دوہفتوں میں پاکستان کو 1.2 ڈالر کی قسط ریلیز نہیں کی تو خدانخواسطہ پاکستان دیوالیہ ہوسکتا ہے۔زیادہ تر لوگوں کا یہ خیال ہوگا کہ دیوالیہ پن یا ڈیفالٹ کیا ہوتا ہے۔ اگر ہمارے پاس بر آمدات کےلئے ڈالر نہ ہو اور ساتھ ساتھ ہم بیرونی قرضوں کی قسط کی ادا ئیگی نہ کر سکیں تو اسکو ڈیفالٹ کہتے ہیں۔اس وقت باہر سے ہم جو چیزیں بر آمد کر رہے ہیں بدقسمتی سے اُنکے کےلئے ڈالر ہمارے پاس نہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ کراچی اور گوادر بندر پر 13 ہزارمختلف چیزوں کے لدے ہوئے کنٹینرز لنگر انداز ہیں ۔ ایک لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو ہم جزوی طور پر دیوالیہ ہوچکے ہیں ۔ اگر مستقبل قریب میں بیرونی قرضوں کے قسطوں کی ادائیگی میں ناکام رہے تو ہم مکمل طور پر دیوالیہ ہوجائیں گے۔اب سوال یہ ہے کہ اگر ہم خدانخواسطہ دیوالیہ ہوگئے تو اس سے ہمیں انفرادی طور پر اور پاکستان کو کیا نقصان ہوسکتا ہے۔ڈیفالٹ کے بعد عالمی برادری کا کوئی بھی ملک پاکستان پر یقین نہیں کرے گا نہ تو کوئی ہمیں قرضہ دے گا اورنہ ہمارے ملک میں کوئی سرمایہ کاری کرے گااور بد قسمتی سے بین الاقوامی برادری میں ہماری کوئی وقعت نہیں ہوگی ۔ اگر خدانخواستہ ہو دیوالیہ ہوگئے تو ڈالر کی قیمت 400 روپے سے700 روپے تک پہنچنے کا اندیشہ ہوگا۔پٹرول، ڈیزل، اور مٹی کے تیل کی قیمتیں 600 روپے سے ایک ہزار روپے تک لیٹر پہنچنے کا خدشہ ہے۔دیوالیہ پن کی صورت میں سرکاری اور پرائیویٹ اداروں کی ملازمین کی تنخواہیں لبنان اور سری لنکا کی طرح بند ہوجائے گی۔ اور کم از کم 4 یا 5 مہینے بعد ملیں گے۔قومی بچت اور بینکوں میں رکھے ہوئے پیسوں پر منافع بند ہو گا۔ اگر بفر ض محال منافع ملے گا بھی ، تو کافی دیر بعد ملے گا۔خوراک، اشیاءاور ادویات کی پیداوار میں انتہائی کمی واقع ہوجائے گی۔ وطن عزیز میں مختلف اشیاءکی پیداوار انتہائی مشکل ہوجائے گی ور اگر چیزیں دستیاب بھی ہونگی تو انتہائی مہنگی ہونگی۔ ملک میں ڈیزل، پٹرول ، گیس اور بجلی کی انتہائی اور ناقابل برداشت قلت ہونگی ۔ سری لنکا کی طرح پاکستان میں بھی بینک سے رقم نکالنے میں انتہائی دشواری ہوگی۔ بجلی اور گیس کی سخت لوڈ شیڈنگ کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ اگر ہم حالات کا تجزیہ کریں تو پاکستان میں وسائل کی کمی نہیں مگر بد قسمتی سے ہمارے حکمران نالائق اور نکمے ہیں جسکی نالا ئقی پاکستان کی 23 کروڑ عوام برداشت کررہے ہیں۔ اگر ہم غور کریں تو ہمارے ملک میں پانی سے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ایک لاکھ میگا واٹ،ہوا سے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 50 ہزار میگا واٹ اور شمسی توانائی سے لاکھوں میگا واٹ کی بجلی پیداکی جاسکتی ہے۔پاکستان میں روس سے تین گنا بڑا نہری نظام موجود ہے ۔ سونے اور چاندی کے بے تحاشا ذخائر ہیں۔ خوراکی اشیاءمیں پاکستان مٹر پیداوار میں دوسرے نمبر پر، خوبانی ، کپاس اور گنے کے پیداوار کے لحاظ سے چوتھے نمبر پر ،پیاز اور دودھ پیداوار کے لحاظ سے 5 ویں نمبر پر، کھجور کے پیداوار کے لحاظ سے 6 ویں نمبر پر، آم کے پیداوار کے لحاظ سے 7 ویں نمبر پر، چاول کے پیداوار کے لحا ظ سے 8 ویں نمبر پر، گندم پیداوار کے لحاظ سے 7 ویں نمبر ، مالٹے اور کینو کے لحا ظ سے 10 ویں نمبر پر، پاکستان مجموعی زرعی پیداوار کے لحا ظ سے 200 ویں ممالک میں 25ویں نمبر پر ، کوئلے کے ذخائر کے لحاظ سے 14 ویں نمبر پر، تانبے کے ذخائر کے اعتبار سے 7 ویں نمبر پر، سی این جی استعمال کے حساب سے پہلے نمبر پر ، سوئی گیس کے ذخائر کے لحا ظ سے ایشیاءمیں 6 ویں نمبر پر۔ ان تمام باتوں کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت پاکستان میں بے تحا شا وسائل ہیں مگر حکمرانوں کی 75سالہ نا قص حکمرانی ، خراب منصوبہ بندی ، کرپشن، اقربا پر وری کی وجہ سے پاکستان کے 23 کروڑ عوام غُربت ، افلاس، بیروز گاری ، بھوک اور جہالت کی زندگی پر مجبور ہیں ۔ خدارا حکمرانو پاکستان کے ان غریبوں کےلئے سوچو۔ کب تک وطن عزیز کے لوگوں کا خون چوستے رہینگے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے