کالم

خوارج وطن عزیز میں بدامنی پیدا کر رہے ہیں

ریاست پاکستان اس وقت پے در پے کئی چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔معاشی بحران نے اپنے پنجے بری طرح گاڑ رکھے ہیں۔ افغانستان میں بیٹھ کر خارجیوں یعنی ٹی ٹی پی نے،ملک کے مختلف حصوں خصوصا بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں بدامنی پھیلانے کا مکروہ کھیل شروع کر رکھا ہے اور ان کی کارروائیاں روکنے کیلئے پاک فوج کے جوان مسلسل قربانیاں دے رہے ہیں۔ان سنگین حالات کے پس منظر میں مسلح افواج کے سربراہ نے مختلف مواقع پر اپنے دو ٹوک موقف کا اظہار کیا۔ تاریخ کے طلبہ اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ تنازعات کے دوران زبان، الفاظ اور اصطلاحات کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔روس اور افغانستان کی جنگ کے دوران روس کے خلاف لڑنے والوں کو جہادی کہا جاتا تھا کیونکہ اسلام میں جہاد ایک احترام کے ساتھ لیا جانے والا لفظ ہے۔جبکہ مغرب ان جہادیوں کے لیے دہشت گرد کا لفظ استعمال کرتا تھا۔یوں ایک ہی عمل کرنے والے لوگوں کے متعلق پاکستان کے لوگوں کی رائے اور تھی جبکہ مغرب کے باشندے مختلف رائے رکھتے تھے۔اسی طرح خارجی کا لفظ بھی اپنے اندر ایک تاریخی پس منظر لیے ہوئے ہے۔تاریخ اسلام میں خارجی کا لفظ ایک حدیث مبارکہ میں بھی مذکور ہوا۔سنن ترمذی کی حدیث نمبر 2188 باب الخوارج میں رقم ایک حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ رسول اللہۖ نے فرمایا: ”آخری زمانہ میں ایک قوم نکلے گی جس کے افراد نوعمر اور سطحی عقل والے ہوں گے، وہ قرآن پڑھیں گے لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، قرآن کی بات کریں گے لیکن وہ دین سے اسی طرح نکل جائیں گے جیسے شکار سے تیر آر پار نکل جاتا ہے ”۔یہاں پر دین سے نکل جانے والوں کے لیے عربی میں خارجی کا لفظ استعمال کیا گیا۔ٹی ٹی پی سے وابستہ لوگوں کے عقائد و نظریات کا مطالعہ کیا جائے تو وہ بلاشبہ اس تعریف پر پورا اترتے ہیں وہ معصوم مسلمانوں کو مارنے کے لیے قرآنی آیات کا سہارا لیتے ہیں خود کش بمبار تیار کرنے والوں کو جنت کی بشارتیں سناتے ہیں۔میری دانست میں پاکستان کی مسلح افواج نے صحیح معنوں میں اس مرض کی تشخیص کی اور اسکے درست علاج کی طرف قدم اٹھا۔یہ بحث اب پرانی ہو چکی ہے کہ طالبان کس کی تخلیق تھے،یہ تذکرہ کرنے کی بھی ضرورت نہیں کہ کبھی اچھے طالبان اور برے طالبان کی اصطلاح بھی استعمال ہوتی تھی، یہ بھی یاد دلانے کی ضرورت نہیں کہ انہی طالبان کو کس نے مسلح کیا تھا، یہ بات بھی دوبارہ لکھنے کی ضرورت نہیں کہ پاکستان کے اقتدار کے ایوانوں سے لے کر واشنگٹن تک ان لوگوں کو کس نے رسائی مہیا کی۔ یہ بھی ایک کھلا سچ ہے کہ انہی طالبان کو پروان چڑھانے میں اندرونی و بیرونی عناصر نے اپنا کردار ادا کیا۔لیکن یوں لگتا ہے کہ پاک فوج نے اس تاریخی غلطی کو سدھارنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔عزم استحکام پاکستان آپریشن اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کے کندھوں پر اس وقت بے شمار بوجھ ہیں جس طرح کہ میں نے شروع میں عرض کیا کہ معیشت سنبھالنے کی ذمہ داری بھی انہی کے کندھوں پر ہے ملک میں امن و امان کی صورتحال دیکھنا بھی انہی کے فرائض میں شامل ہے،ہماری اسٹیبلشمنٹ نالائق نااہل اور غیر مقبول حکومت کا بوجھ کب تک اٹھائے گی،یہ کہنا تو مشکل ہے البتہ فوج کی ہمت کو داد دینا پڑے گی کہ اندرونی اور بیرونی محاذوں پر اس قدر مصروفیت کے باوجود انہوں نے بڑی جانفشانی سے فتنہ خوارج کے خلاف پرعزم جدوجہد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔عزم استحکام آپریشن جس طرح کہ بتایا گیا ہے کہ ٹارگٹڈ آپریشن ہوگا اور صرف وہی لوگ اس آپریشن کا نشانہ بنیں گے جو ریاست پاکستان کے خلاف مسلح کارروائیوں میں شریک ہوں گے یا ایسے عناصر جو ان خارجیوں کو اپنے ہاں پناہ دیں گے۔اب یہ جنگ مکاتب فکر کی جنگ سے بلند ہے،یہ جنگ صوبے اور شہر کی حدود و قیود سے بھی آگے نکل چکی ہے، اب یہ پاکستان کے استحکام کی جنگ ہے اور یہ ریاست کے استحکام کی جنگ ہے اور پوری قوم کو یکسو ہو کر ان خارجیوں کے خلاف سینہ سپر ہونا پڑے گا اور وہ تمام مکاتب فکر جو ان خارجیوں کو پناہ دیتے ہیں یا انہیں فکری غذا مہیا کرتے ہیں یا ان کے نظریات کے متعلق نرم رویہ رکھتے ہیں یا تو انہیں اپنی اصلاح کرنا پڑے گی یا ریاست کو ایسے عناصر کے خلاف بھی بھرپور ایکشن لینا پڑے گا۔پاک فوج نے بھارتی حمایت یافتہ خوارج کی افغانستان سے دراندازی کی کوشش ناکام بناتے ہوئے 33 خوارج کو ہلاک کر دیا۔ جرات مندانہ، مہارت بھری اور عین ہدف پر کی گئی کارروائی کے نتیجے میں 33 بھارتی حمایت یافتہ خوارج جہنم واصل ہوئے جن سے بڑی مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد برامد ہوا۔ پاک فوج کے مطابق علاقے میں کلیئرنس اپریشن جاری ہے تاکہ باقیماندہ ہر دہشت گرد کو ختم کیا جاسکے۔ پاکستان کی سکیورٹی فورسز ملک کی سرحدوں کے دفاع اور بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیئے پرعزم ہیں۔ پاک فوج اور پولیس کے مشترکہ اپریشن کا مقصد علاقے کو دہشت گردی کے ناسور سے پاک کرنا اور امن و امان کو یقینی بنانا تھا۔ پاک فوج اور پولیس علاقے میں دیرپا امن کے قیام اور دہشت گردی کے خاتمہ کے لیئے پرعزم ہے۔اس میں تو کوئی شک و شبہ نہیں کہ اس ارضِ وطن پر گذشتہ تین دہائیوں سے جاری دہشت گردی میں بنیادی ہاتھ ہمارے مکار دشمن بھارت کا ہے جو شروع دن سے ہماری سلامتی کے درپے ہے۔ اس نے سانحہ سقوط ڈھاکہ تک ہم پر تین جنگیں مسلط کیں اور پھر باقیماندہ پاکستان کی سلامتی کے بھی درپے ہو گیا۔ اس مقصد کے لئے اس نے ایٹمی ٹیکنالوجی بھی حاصل کی اور کشمیر پر ناجائز تسلط جمانے کے باعث دریاؤں کے پانی کا ہتھیار بھی ہماری سلامتی کمزور کرنے کے لئے استعمال کرنا شروع کردیا جبکہ اس نے پاکستان کے اندر بھی نقب لگا کر بلوچستان اور خیبر پی کے میں موجود پاکستان کے بدخواہ عناصر کی فنڈنگ اور سرپرستی کرکے انہیں پاکستان کی سلامتی کمزور کرنے کے راستے پر لگایا۔ اس کے لئے بھارت کو پاکستان کی اندرونی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کا بھی موقع ملا۔افغانستان افغان سرزمین سے بھارتی تربیت یافتہ دہشت گرد پاکستان میں داخل کرنے کے لئے بھارت کی بدستور معاونت کر رہا ہے چنانچہ حالیہ پاک بھارت جنگ میں جب بھارت کو پاکستان کی بہادر اور چاک و چوبند مسلح افواج کے ہاتھوں سخت ہزیمت اٹھانا پڑی اور دنیا بھر میں اس کی جنگی دفاعی صلاحیتوں کا پول کھلا تو اسی وقت یہ خدشہ لاحق ہوگیا تھا کہ بھارت اب پاکستان میں اپنی پراکسیز کے ذریعے دہشت گردی کا سلسلہ تیز کرے گا۔ چنانچہ دس مئی کے بعد سے اب تک بالخصوص پاکستان کے دو صوبوں بلوچستان اور خیبر پی کے میں ہونے والی دہشت گردی کی بیسیوں وارداتوں کا پس منظر یہی ہے جن میں بطور خاص سکیورٹی فورسز کو ہدف بنایا جاتا ہے۔ اسی تناظر میں ملک کی سول سیاسی اور عسکری قیادتوں نے پاکستان کے اندر موجود بھارتی پراکسیز کے خلاف بھی اپریشن بنیانِ مرصوص جیسے معرکہ حق کے آغاز کا فیصلہ کیا اور اس اپریشن کے نتیجہ میں ہی دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمہ کی امید بندھی ہے۔ سکیورٹی فورسز کی جانب سے متعلقہ علاقوں کے مکینوں سے کہا گیا ہے کہ وہ فتنہ الخواج کے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کی نشاندہی کریں اور خود عارضی طور پر نقل مکانی کر لیں تاکہ وہ خود کو اپریشنز کے ممکنہ نقصانات سے بچا سکیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے