کالم

خوشاب ۔۔۔!

لاہور سے میانوالی کی طرف جاتے ہوئے جب شاہراہ پر گاڑی خراماں خراماں پنجاب کے میدانوں سے گزر رہی تھی تو ایک خاص طرح کی مٹھاس گھل رہی تھی۔ سرگودھا کے باغوں کی خوشبو ابھی ذہن سے رخصت نہیں ہوئی تھی کہ ایک چھوٹا سا شہر خوشاب آیا۔ خوشاب یعنی "میٹھا پانی”۔فارسی زبان کے دو الفاظ خوش اور آب سے مل کر یہ نام بنا ہے ۔ ایک ایسا مقام جہاں فطرت اور فہم دونوں کا سنگم نظر آتا ہے۔خوشاب کی تاریخ کے دھندلکوں میں جائیں تو یہ علاقہ ہمیشہ سے انسانی تہذیب کے زیر سایہ رہا ہے۔ دریائے جہلم کے قریب، نمک کی چٹانوں اور تھل کے کنارے آباد یہ خطہ دراصل فطرت کی گود میں ایک چھوٹا سا مگر مکمل جہان ہے۔ یہ خطہ مختلف سلطنتوں کا حصہ بنا ، کبھی غزنویوں کے زیرِ نگیں، کبھی مغلوں کے عہد میں، کبھی سکھ دربار کی عملداری میں اور برطانیہ کے زیر تسلط رہا مگر اس کی مٹی کی مہک اور پانی کی مٹھاس نے اپنی اصل شناخت برقرار رکھی۔ 1982 میں خوشاب کو ضلع کی حیثیت دے دی گئی۔ آج یہ ضلع پنجاب کے جغرافیے میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔ یہ علاقہ اپنے تنوع میں ایک پوری دنیا سموئے ہوئے ہے، نمک کی چٹانیں، تھل کا ریگستان، وادی سون کے سبز پہاڑ اور زرخیز کھیتوں کا تسلسل موجود ہے،جہاں زمین کے مختلف رنگ ایک ساتھ ملتے ہیں۔خوشاب کی وادی سون جسے "پنجاب کی چھوٹی وادی کشمیر” بھی کہتے ہیں، اپنی قدرتی خوبصورتی کے باعث سیاحوں کے دلوں میں بستی ہے۔ اس وادی میں واقع اوچھالی جھیل اور کھبیکی جھیل وہ مناظر پیش کرتی ہیں جو انسان کو کسی دوسری دنیا میں لے جاتے ہیں۔ نیلا آسمان، پانی کی چمک، اردگرد کے پہاڑوں کی سنجیدگی اور ہوا میں گھلی گھاس کی خوشبو ، یہ سب مل کر ایک ایسا منظر تخلیق کرتے ہیں جو شاید خوشاب کے لفظ کی روح کو مکمل کر دیتا ہے۔ یہاں کا سب سے بلند پہاڑ سکیسر ہے، جو 1522میٹر اونچا ہے اور جس کی چوٹی پر انگریزوں نے ریسٹ ہاس بنایا تھا۔خوشاب صرف قدرتی حسن کا شہر نہیں بلکہ محنت کشوں اور زمینداروں کی دھرتی بھی ہے۔ یہاں کی معیشت بنیادی طور پر زراعت پر قائم ہے ۔گندم، چنا، گنا، چاول، سرسوں اوردیگر فصلیں یہاں کے کھیتوں میں لہلہاتی ہیں۔ تھل کے خشک میدانوں میں بھی کسانوں نے محنت اور تدبیر سے زندگی کے بیج بو دیے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مویشی پالنا بھی ایک اہم ذریعہ معاش ہے۔خوشاب کی ڈھوڈا مٹھائی دراصل گندم، گھی، دودھ، چینی اور مغزیات کے امتزاج سے تیار ہوتی ہے مگر اس کا ذائقہ عام مٹھائیوں سے مختلف ہوتا ہے۔ خوشاب کے ماہر حلویاتی کار اس مٹھائی کو مخصوص انداز میں تیار کرتے ہیں، یہ محض مٹھائی نہیں بلکہ ایک ثقافتی علامت ہے جو خوشاب کے لوگوں کی مہمان نوازی اور خلوص کی نمائندگی کرتی ہے۔خوشاب کی آبادی میں مختلف قبائل اور برادریاں آباد ہیں ۔دیہات میں آج بھی پرانی روایات زندہ ہیں، لوگ میلوں ٹھیلوں میں جمع ہوتے ہیں، نعت خوانی اور قوالی کی محفلیں ہوتی ہیں، شادیوں میں ڈھول کی تھاپ گونجتی ہے اور مہمان کیلئے چولہے پر دیسی گھی کی خوشبو اٹھتی ہے ۔ ان روایتوں میں ایک خاموش وقار ہے، ایک ایسی تہذیب جو تیزی سے بدلتی دنیا کے باوجود اپنی بنیادوں سے جڑی ہوئی ہے۔ضلع خوشاب کی زمین نہ صرف زرخیز ہے بلکہ معدنی لحاظ سے بھی قیمتی ہے۔یہ علاقہ پاکستان کے ان چند اضلاع میں شامل ہے جہاں نمک اور دیگر معدنی ذخائر بڑی مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ نمک کی چٹانوں کا سلسلہ یہاں سے شروع ہو کر کھیوڑہ تک پھیلا ہواہے۔ اس خطے کے چٹانوں کے نیچے قدرت نے خزانے چھپا رکھے ہیں۔خوشاب کے لوگوں کا ایک خاص وصف ان کی سادگی ہے۔ یہاں کے دیہات میں زندگی اب بھی قدرت کے قریب گزرتی ہے۔ صبح کے وقت سورج کی کرنیں جب تھل کی ریت پر پڑتی ہیں تو لوگ کھیتوں کی طرف نکلتے ہیں۔ شام کو مٹیالے راستوں پر بچے سکول سے لوٹتے ہیں اور کسی کچے گھر کے آنگن میں مٹی کے چولہے پر روٹیاں پک رہی ہوتی ہیں۔ عورتیں پانی کے گھڑے لے کر کنوں کی طرف جاتی ہیں اور بوڑھے برگد کے نیچے بیٹھے قصے سناتے ہیں۔ یہ سب منظر ایک ایسے معاشرے کی تصویر ہیں جو وقت کے ساتھ بدل ضرور رہا ہے مگر ابھی بھی اپنی روح میں دیہی ہے۔خوشاب کی خواندگی کی شرح پنجاب کے کئی اضلاع سے بہتر ہے۔ خوشاب کے لوگ ذہین اور محنتی ہیں مگر مواقع کی کمی انہیں اپنی صلاحیتوں کے مکمل اظہار سے روکے ہوئے ہے۔ وادی سون جیسے علاقوں میں سیاحتی سہولتیں، تعلیمی ادارے اور جدید ٹیکنالوجی تک رسائی بڑھا دی جائے تو یہ خطہ ایک ماڈل علاقہ بن سکتا ہے۔سیاست کے میدان میں بھی خوشاب کا کردار خاص رہا ہے۔ اگرچہ جمہوری عمل موجود ہے مگر سماجی روایات اور خاندانی نظام ابھی بھی ووٹ کے فیصلوں میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ وہ رجحان ہے جو پاکستان کے بیشتر دیہی علاقوں میں پایا جاتا ہے۔خوشاب کے موسم اس کی سرزمین کی طرح متنوع ہے۔ گرمیوں میں تھل کی تپش بدن جلا دیتی ہے مگر وادی سون کی ہوائیں ٹھنڈی اور فرحت بخش ہوتی ہیں۔ سردیوں میں جھیلوں کے کنارے خاموشی چھا جاتی ہے اور چولہوں پر ابلتی ہوئی چائے کی خوشبو سے فضا مہک اٹھتی ہے۔ بہار میں جب سرسوں کے کھیت زرد چادریں اوڑھ لیتے ہیں تو یوں لگتا ہے کہ زمین نے مسکرا کر اپنا سب سے حسین لباس پہن لیا ہے۔ یہی وہ منظر ہے جو خوشاب کی اصل روح سادگی ، محنت اور فطرت کے ساتھ ربط کو ظاہر کرتا ہے۔ جب ہم کسی شہر کو سمجھنا چاہتے ہیں تو ہمیں اس کے لوگوں کے چہروں پر لکھی کہانیوں کو پڑھنا پڑتا ہے۔ خوشاب کے لوگ نرم گفتار، مہمان نواز اور بے ریائی کے حامل ہیں۔ اگر کسی اجنبی سے بھی بات کر لیں تو دل میں دوستی کی گرمی پیدا ہو جاتی ہے۔ بازاروں میں چلتے ہوئے مٹھائی کی دکانوں سے اٹھتی خوشبو اور ہنستے ہوئے حلویاتی کاروں کی آوازیں اس شہر کو ایک زندہ جسم کی طرح محسوس کراتی ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ خوشاب کا ذائقہ صرف دھوڈا مٹھائی میں نہیں بلکہ اس کے لوگوں کی مسکراہٹ میں بھی ہے ۔ وقت گزرنے کے ساتھ خوشاب بھی ترقی کی راہوں پر گامزن ہے ،ترقی کے ساتھ ساتھ مٹی کی مٹھاس، پانی کی خوشبو اور ثقافت کی سادگی کو برقرار رکھنا بھی ضروری ہے۔جب آپ لاہورسے میانوالی، بھکر، بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان وغیرہ جائیں، تو خوشاب پر گاڑی روک کر کچھ دیر رک جائیں۔کسی دکاندار سے دھوڈا خریدیں اور اس مٹھائی کا ایک لقمہ زبان پر رکھیں۔ آپ کو محسوس ہوگا کہ اس کے ذائقے میں نہ صرف گھی اور چینی کی مٹھاس ہے بلکہ اس زمین کے لوگوں کی محبت، ان کی محنت اور ان کی تہذیب کا رس بھی گھلا ہوا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے