پاکستان میں قانون، آئین اور عدالتیں تو موجود ہیں، مگر انصاف کی حقیقی تصویر کہیں دکھائی نہیں دیتی۔ یہاں قاتل عدالت کے خوف سے نہیں ڈرتابلکہ مقتول کا سودا ہو جاتاہے۔ چند جملوں پر مشتمل ایک تحریر، ورثاء کے دستخط اور معافی کے نام پر ہونے والا ایک سمجھوتا، اور پورا عدالتی نظام ایک لمحے میں طاقتور کے سامنے سر جھکا دیتا ہے۔ یہی تلخ حقیقت ہے جسے ہم اجتماعی طور پر قبول نہیں کرنا چاہتے، مگر یہ ہر روز ہمارے سامنے بے رحمی سے لکھی جا رہی ہے۔کراچی میں شاہ زیب خان قتل کیس ہو، لاہور میں ریمنڈ ڈیوس کا واقعہ، مظفرگڑھ میں زندہ جلائی گئی لڑکی کا المیہ، قندیل بلوچ کا قتل اور اب تازہ تازہ اسلام آباد میں جج صاحب کے بیٹے کو جیسے تیز ترین انصاف ملااور اس طرح کے ہزاروں واقعات جو عدالتوں اور جرگوں میں نمٹائے جانے والے کے قتل کے سانحات ، ہر کیس یہ واضح کرتا ہے کہ پاکستان میں خون کی قیمت قانون سے نہیں بلکہ طاقت، دولت اور سماجی اثرورسوخ سے طے ہوتی ہے۔ اکثر مقتول کمزور، غریب یا بے اختیار طبقوں سے تعلق رکھتے ہیں، جبکہ قاتل بااثر، صاحب حیثیت یا سماجی طور پر مضبوط ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ورثاء معاشرتی دباؤ، خوف، دھمکی اور مالی مشکلات کی وجہ سے قاتل کو معاف کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔پاکستان میں ”معافی” قاتل کیلئے ڈھال اور ورثاء کیلئے ایک نئے عذاب کا نام بن چکی ہے۔لاہور میں ریمنڈ ڈیوس کے کیس نے تو پاکستان کے عدالتی نظام کو دنیا بھر میں زیرِ بحث لا دیا۔ ڈیوس نے اپنی کتاب”دی کنٹریکٹر”میں جو کچھ تحریر کیا، وہ پاکستانی نظامِ انصاف پر ایک سنگین سوال ہے۔اسکے مطابق مقتولین کے اٹھارہ ورثاء کو دباؤ، خوف، حراست اور دھمکیوں کے ذریعے دیت قبول کرنے پر مجبور کیا گیا۔ وہ لکھتا ہے کہ خواتین کو کئی گھنٹے جیل میں رکھا گیا، ورثاء کو گن پوائنٹ پر دستخط کروائے گئے اور میڈیا سے مکمل طور پر دور رکھا گیا۔ چاہے یہ دعوے مبالغہ آمیز لگیں، مگر سوال اپنی جگہ قائم ہے: کیا واقعی پاکستان کا عدالتی نظام اتنا کمزور ہے کہ ایک غیر ملکی کی کتاب بھی اسے بے نقاب کر دے؟بین الاقوامی انسانی حقوق کے ادارے مسلسل متنبہ کرتے آئے ہیں کہ قتل صرف خاندان کا ذاتی معاملہ نہیں بلکہ ریاست کے خلاف جرم ہے۔ قاتل کو ورثاء کی معافی کے ذریعے عدالت کے عمل سے بچانا انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ اقوامِ متحدہ، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور دیگر عالمی تنظیمیں بار بار واضح کر چکی ہیں کہ پاکستان میں قتل کا معاملہ اکثر عدالت کے بجائے طاقتوروں کی مرضی سے طے ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ قندیل بلوچ کے قتل کے بعد قوانین سخت کیے گئے، مگر عملی صورتحال آج بھی وہی ہے؛ اثرورسوخ اور معافی قاتل کی سب سے بڑی پناہ گاہ بن چکے ہیں۔ 2025 میں خیبر پختونخوا میں ایک خاتون کے قتل کا کیس سامنے آیا، جس میں چند ہی ماہ میں قاتل رہا ہو گیا۔اسی طرح مظفرگڑھ میں زندہ جلائی گئی لڑکی کے قاتل کو بھی ورثاء کی معافی کے بعد رہا کر دیا گیا۔یہ واقعات بتاتے ہیں کہ پاکستان میں انسانی جان کی حرمت محض دستاویزی حقیقت ہے، عملی زندگی میں اس کی قدر نہ ہونے کے برابر ہے۔قومی تحقیق اور میڈیا رپورٹس بھی یہی واضح کرتی ہیں کہ قتل کے زیادہ تر متاثرین خواتین، کمزور اور محروم طبقات سے تعلق رکھتے ہیں۔ معافی اور دیت کا قانون طاقتور قاتل کے لیے راستہ ہموار کرتا ہے، جبکہ ورثاء کے لیے یہ ایک نیا زخم چھوڑ جاتا ہے۔غیرت کے نام پر قتل اور خاندانی جھگڑوں میں اکثر قاتل سزا سے بچ جاتے ہیں اور معاشرہ اس ناانصافی میں مجرم کی پشت پناہی کرتا دکھائی دیتا ہے۔ اعداد و شمار صورتحال کو اور بھی خوفناک انداز میں اجاگر کرتے ہیں۔پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق کے مطابق صرف 2024 میں کم از کم 392 خواتین غیرت کے نام پر قتل ہوئیں، جبکہ صنفی بنیاد پر تشدد کے واقعات 36 ہزار سے زائد رپورٹ ہوئے۔ صوبائی سطح پر سب سے زیادہ واقعات پنجاب اور سندھ میں ریکارڈ ہوئے، اور سزا کی مجموعی شرح محض 0.5 فیصد رہی۔ یعنی ہر دو سو قاتلوں میں سے صرف ایک کو سزا ملتی ہے۔یہ سب بتاتا ہے کہ پاکستان میں اصل طاقت قانون کی نہیں بلکہ اثرورسوخ، دولت اور جبر کی ہے۔یہ سلسلہ کب رکے گا؟ ہر قبر خاموش زبان میں پوچھتی ہے: میری زندگی کی قیمت کس نے طے کی تھی؟ مگر طاقتور حلقوں کی طرف سے ہر بار ایک ہی جواب ملتا ہے: قیمت وہی جو ہم چاہیں،قانون نہیں ۔ جب تک قتل کو نجی تنازعہ کے بجائے ریاستی جرم قرار دے کر سختی سے نافذ نہیں کیا جاتا، اور جب تک معافی اور دیت کو قاتلوں کے لیے قانونی پناہ گاہ بنائے رکھنے کا سلسلہ ختم نہیں ہوتا، تب تک پاکستان میں انصاف کبھی بھی اپنا قد بلند نہیں کر سکے گا۔ قانون تب ہی مضبوط ہوگا جب ریاست انسانی جان کی حرمت کو پیسے اور اثرورسوخ کے مقابلے میں زیادہ مقدس سمجھے گی۔بین الاقوامی اصول صاف کہتے ہیں کہ قتل ریاست کے خلاف جرم ہے، مگر پاکستان میں ورثاء کی ایک معافی قاتل کو مکمل قانونی تحفظ دے دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں انسانی زندگی ہمیشہ سوال بنی رہتی ہے، اور انصاف ایک ایسا خواب ہے جسے ہر روز دفن کر دیا جاتا ہے۔

