سال025وکلا کے لیے خاص طور پر انتخابات کا سال ثابت ہوا ۔پہلے پنجاب بار کونسل کے انتخابات تھے وہ ابھی مکمل ہوئے ہی ہیں کہ اب لوکل بار کونسلز کے انتخابات ہیں۔ جنوری میں یہ جب مکمل ہوں گے تو فروری میں لاہور ہائی کورٹ بار کے انتخابات ا جائیں گے۔ عام طور پر وکلا کا جوش جذبہ ولولہ اور اتحاد انتخابی دنوں میں زیادہ ہوتا ہے۔ ماضی میں کالے کوٹ والوں کے انتخابات میں سیاسی پارٹیوں کی مداخلت یا حمایت زیادہ نہیں ہوتی تھی لیکن جب سے حکمرانوں نے بڑے بڑے نامور وکلا کو اپنے مقدمات میں وکیل کرنے کی بجائے انہیں وزیر مشیر بنانے کی پالیسی بنائی ہے اس سے کالے کوٹ میں ایک ان دیکھی نقب لگ گئی ہے لیکن پھر بھی وکلا کی طاقت برقرار ہے ورنہ بہت سال پہلے تو صورتحال یہ تھی کہ عام وکیل کالے کوٹ میں بڑا تحفظ محسوس کرتا تھا اور ادارے اور افسران بھی کالے کوٹ کو ہمہ شمہ غیر ضروری طور پر ہاتھ نہیں ڈالتے تھے ،لیکن اب یہ تلخ حقیقت دیکھنے میں آرہی ہے کہ ادھر کسی وکیل سے کچھ سرزد ہوا ادھر سرکار نے انسداد دہشت گردی کی دفعہ سات مقدمے میں شامل کرانا ضروری سمجھ لیا جو کہ کسی صورت بھی قابل تعریف عمل نہیں لگتا میں بطور وکیل خود 80 کی دہائی سے دیکھ رہا ہوں اور 80 کی دہائی سے پہلے کے واقعات سے بھی بخوبی واقف ہوں کہ جب ہر ظلم اور ہر لاقانونیت کے خلاف جب سب بے بس ہو جاتے تو کالا کوٹ باہر نکلتا اور پھر سب معاملات درست ہو جاتے ملک و قوم اور قانون و آئین کی پاسداری میں کالے کوٹ کی قربانیاں سب سے زیادہ ہیں مگر موجودہ صورتحال میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ کالے کوٹ کے لیے لمحہ فکریہ بن چکا ہے اپنی صحافتی اور وکالتی زندگی کے دوران میں نے پولیس کے محکمے میں بڑے بڑے شاندار ایماندار عزت کرنے والے اخلاق والے لوگ دیکھے ہیں جو اب بھی ہیں اور ان کی لاکھوں مثالیں میرے پاس ہیں جن پر محکمہ کو ہمیشہ فخر رہا ہے پھر بھی چند کالی بھیڑیں اور ظالم لوگ محکمہ پولیس میں موجود ہیں کہ جو پورے محکمے کیلئے ہی نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے تکلیف کا سبب بنتے ہیں وہاڑی اور جھنگ میں دو معزز وکلا کا قتل اور خاص طور پر وہاڑی بار کے سابق صدر کو گھر میں گھس کر قتل کیا جانا وکلا میںہیجان پیدا کر دیا ہے اس سے پہلے بھی ڈسکہ لاہور اور دیگر شہروں میں وکلا کو قتل کیا گیا لیکن اب تک انہیں کوئی ریلیف نہیں ملا اور اب اس تازہ قتل میں اداروں اور ذمہ داروں نے حد ہی کر دی ہے ایک سر پھر منہ زور ہاتھ چھٹ تھانے دار کو کس طرح جرأت ہوئی کہ وہ ایک وکیل کے گھر بغیر وارنٹ چادر اور چار دیواری کا تقدس مجروح کرتے ہوئے دندنا تا اپنے ماتحتوں سمیت سرکاری وردی اور سرکاری اسلحہ سے لیس ہو کر داخل ہو اور سب کی موجودگی میں اسے موت کے گھاٹ اتار دے اور ساتھ اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے شہید ایڈوکیٹ کی فرضی اور جعلی کرائمز ہسٹری بنا کر الٹا مقتول کے خلاف مقدمے کا اندراج بھی کر دے اور لواحقین کو دھمکیاں دیتا پھرے کہ کر لو جو کرنا ہے وکیل کی تھانیدار سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہوتی پولیس کا کام جرائم کو ختم کرنا اور وکیل کا کام بے گناہوں کو انصاف دلانا ہوتا ہے عدالتوں میں مقدمات کی پیروی کے دوران قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے باتیں ہوتی ہیں لیکن اس ہاتھ چھٹ تھانیدار کو ایسے ہی کسی مقدمے میں دوران جراح کسی سوال پر ناگواری محسوس کرتے ہوئے وکیل کو کہا کہ تمہیں دیکھ لوں گا۔ اب بطور وکیل میں سمجھتا ہوں کہ اعلیٰ سے لے کر ماتحت افسران پولیس تک مقدمات میں بطور گواہ پیش ہوتے ہیں ان پر جراح کی جاتی ہے وکیل اپنے موکل کی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے دوران جراح بہت سارے سوالات کرتے ہیں۔ عدالت سب کچھ دیکھ رہی ہوتی ہے ۔اگر کوئی سوال غیر ضروری ہو تو عدالت سوال سے منع بھی کر دیتی ہے اور یہ سب کچھ نظام عدل اور معاشرے میں قانون کی پاسداری کو برقرار رکھنے کے لیے وکلا کو کرنا پڑتا ہے کیونکہ انہی جراح کے سوالات میں عدالتوں کے فیصلوں کی بنیاد ہوتی ہے کسی بھی مہذب معاشرے میں قانون کی پاسداری کے لیے یہ سب کچھ ہوتا ہے اور اگر معاشرے عدل اور انصاف سے وکیل کا کردار ختم ہو جائے تو ایسے معاشرے لا قانونیت کا شکار ہو جایا کرتے ہیں دو وکلا کے قتل کے بعد تو سب ذمہ داروں کو فوری حرکت میں آنا چاہیے تھا اور اسی روز اس ہتھ چھوٹ ظالم تھانیدار اور اس کے ساتھیوں کو گرفتار کر کے سخت کاروائی کرنی چاہیے تھی لیکن افسوس کہ پولیس کے اعلی افسران اپنا کردار ادا نہیں کر سکے جس سے پورے صوبے بلکہ پورے ملک میں وکلا غم و غصہ کا شکار ہوئے ایک روزہ ہڑتال کی معاملہ حل نہ ہوا تو اب یکم دسمبر سے سات دسمبر تک پورے صوبے میں وکلا ہڑتال پر ہیں وکلا کا مطالبہ بڑا جائز تھا کہ قانون شکن تھانے دار اور اس کے ساتھیوں کو گرفتار کر کے ان کے خلاف مقدمہ بھی درج کیا جائے اور انہیں سزا بھی دیا ہے لیکن ذمہ داروں نے ایسا نہیں کیا اور اب بات بگڑ چکی ہے ابھی وکلا کی ہڑتال جاری ہے کہ ٹریفک کے سخت ترین قوانین اور بے جا جرمانوں سے تنگ ا کر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن آف پاکستان میں بھی پہیا جام ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے اگر ایسا ہوا تو پورے ملک میں سڑکیں ویران ہو جائیں گی باہر برداری بند ہوئی تو مہنگائی اور بے روزگاری سلانگیں لگاتی پتہ نہیں کہاں پہنچ جائے حکمرانوں کو سوچنا چاہیے عوام دوست فیصلے کرنا چاہیے ٹریفک میں ترمیم نے بیچارے موٹر سائیکل سواروں سے لے کر رکشہ ڈرائیوروں تک کیلئے زندگی عذاب بنا رکھی ہے اور یوں لگتا ہے کہ حکومت جو پہلے بجلی اور گیس کے بلوں پر چلتی تھی اب ٹریفک جرمانوں سے چلائی جا رہی ہے غریب کے لیے موٹر سائیکل کی سواری بڑی اہمیت رکھتی ہے اگر جرمانہ کرنا ہی ہے تو سو یا 50 روپے کر کے بندے کو احساس دلایا جائے کہ تم جرم کر رہے ہو بس یہی کافی ہے لیکن یہاں تو لوگوں کو نچوڑنے کے لیے جو حربے استعمال ہو رہے ہیں ابھی وقت ہے کہ عوام دوست پالیسیاں اپنائی جائیں جب یہاں پہنچا ہوں تو مجھے ہندوستان کی ضلع جود ھ پور میں ایک وکیل اور انکی جونیئر خاتون وکیل کے ساتھ تھانہ میں ایک تھانیدار کی بد زبانی کا واقعہ پڑھنے کو مل رہا ہے جس پر وکلا کے فوری احتجاج پر وزیراعلیٰ سے لے کر چیف جسٹس تک نے فوری نوٹس لیا تھانیدار اور اس کے ساتھیوں کو نوکریوں سے معطل کیا اور انہیں ہائی کورٹ میں جواب دہی کے لیے طلب کر لیا جس سے وکلا کو اطمینان ہوا اور قانون کی حکمرانی اور پاسداری کی مثال قائم ہوئی ہونا تو یہاں بھی یہی چاہیے تھا لیکن کیا کریں کہ معاملات کو سدھارنے کی بجائے بگاڑنے میں کچھ لوگوں کو مزہ آتا ہے وہ سمجھتے ہیں کہ لوگ اپس میں الجھے رہے ہیں تو ہمارے لیے بہتر ہے ملک اس وقت نازک دور سے گزر رہا ہے وکلا اور اداروں کی ذمہ داریوں میں اضافہ ہو چکا ہے اب بھی اگر قاتلوں کو گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے تو معاملہ سلجھ بھی سکتا ہے یہاں پہنچا ہوں تو مجھے اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق صدر شعیب شاہین کی بیماری کا علم ہوا ہے ساتھ ہی لاہور ہائی کورٹ کے نامور وکیل رہنما سابق جسٹس عبدالرحمن انصاری صاحب کی بیماری کا پتہ چلا اللہ تعالیٰ دونوں کو صحت تندرستی والی لمبی عمر عطا کرے امین۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں