کالم

دشت وحشت میں آداب

دور سقراط کا ہو یا ابن خلدون، غزالی و فارابی کا. ہزارھا سال سے نام، عہد اور چہروں کی تبدیلی کے ساتھ مقتدر اور مراعات یافتہ طبقہ کا گٹھ جوڑ رہا جبکہ عوام لسانی، مذہبی و سیاسی گروہوں میں تقسیم.عوام جمہور اور جمہور متوسط اور غریب. پھر سوچنا تو بنتا ہے کہ محلات میں پلنے بڑھنے والے، یورپ کی یونیورسٹیوں کے طالب علم، بے پناہ دولت اور وسائل کے مالک کیونکر جمہور کے نمائندہ ہو سکتے ہیں. اہل پاکستان یہ دھوکہ اول دن سے ہی کھاتے ا رہے ہیں اور شاید حقیقی شعور کی بیداری تک کھاتے رہیں. مگر یہاں میری مراد رواج شعور نہیں.
قدیم حکما تو اس پر متفق کہ اخلاقیات کا بگاڑ ہی مسائل کی اصل وجہ ہے.
ابن خلدون لکھتے ہیں کہ "عروج و ترقی کے زینے طے کرنے والی قوم ہمیشہ اعلی اخلاق کی حامل جبکہ اخلاق بد والی اقوام زوال پذیر ہی رہتی ہیں ” ارسطو کے مطابق علم کی دو اقسام سطحی اور حقیقی. اگر علم کے مآخذ ٹھوس اور حقیقی ہوں تو اخلاقیات، سماجی انصاف اور سچائی فروغ پاتی ہے. جبکہ سطحی علم خود غرضی، بےحسی، جھوٹ اور ناانصافی کو جنم دیتا ہے ۔سقراط کے اس فلسفہ کی روشنی میں ہمارے معاشرے کے احوال کو خوب پرکھا جا سکتا ہے۔موجودہ دور، دور ابتلا کہ اب جھوٹ کو سچ سے الگ کرنا قریب ناممکن، صیہونی یلغار عروج پر کہ جس نے صرف دل و دماغ پر ہی قبضہ نہیں جما رکھا بلکہ ایمان بھی ڈاکوں کے نرغہ میں، اس میں کلام نہیں ہمارا سیاسی کلچر مفادات کا اسیر اور جھوٹ پر مبنی ہے. 90 سے 2018 تک کا دور قومی خزانے کا بیدردی سے استعمال بارے معروف، ان ادوار میں کرپشن نے جڑیں پکڑیں.کرپشن کے عالمی انڈیکس میں پاکستان نے خوب ترقی کی اور ہر دور میں حکومتوں کےلئے یہ سب سے بڑا چیلنج رہا۔کرپشن کے خاتمہ کےلئے قوانین بنے، نیب اور اینٹی کرپشن کو بھی کھڑا کیا گیا.مگر کرپشن ہے کہ قابو میں نہیں آ رہی.کمزور نظام انصاف کی وجہ سے آج تک ہر بڑا بدعنوان اس سے سرخرو نکلا.مگر عوامی عدالت ایسوں کو قومی وسائل بارے اب بھی خائن ہی سمجھتی ہے. دور تبدیل ہوا تو سوشل میڈیا نے یلغار کی، تبدیلی نے زور پکڑااور سوشل میڈیا کا استعمال اس رحمی سے کیا گیا کہ جھوٹ اور سچ کی تمیز مشکل ہو گئی. عوامی سطح پر جھوٹ ہضم کرنے بلکہ اسے آگے پھیلانے کی روش چل نکلی۔اس ماحول سے صحافت کی تیسری جنس وی لاگرز نے خوب فائدہ اٹھایا۔صحافت اور صحافتی اقدار تو گئیں بھاڑ میں،سوشل میڈیا میں قیافیہ شناسوں، نجومیوں اور پیشین گوئیاں اور جھوٹے سچے تبصرے کرنےوالے نام اور مال دونوں کمانے لگے۔امجد اسلام امجد نے شاید انہی کےلئے کہا تھا.
” لفظ سے بِھی خراش پڑتی ہے
تبصرہ سوچ کر کیا کیجئے.
جھوٹ سے بِھی برا ہے آدھا سچ
اِس سے بہتر ہے چپ رہا کیجئے ”
تنقید درست مگر تحقیق کے ساتھ. صحافت کے ایک گروہ نے سیاسی جماعتوں کا آلہ کار بن کر شعبہ صحافت کو بدنام کیا. رہی سچی اور بے لاگ صحافت تو وہ عالم نزع میں ہے کہ اب بھانڈوں کا جھوٹ دکھتا اور بکتا ہے کہ جھوٹ پر جھوٹ کو بطور دلیل پیش کرنا معمول. سیاسی راہنما عوامی اجتماعات میں وعدوں کو انتخابی مہم کا حصہ سمجھتے ہیں وعدوں سے انحراف کو سیاست کا جزو لاینفک سمجھا جاتا ہے۔جھوٹ کی اس یلغار اور ہماری طرف سے اسے قبولیت کے بعد حال یہ ہو چکا گھر اور معاشرے سے برکت اٹھ گئی ہر فرد باوجود اچھے رہن سہن اور وسائل کے پریشاں، مگر مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ اس کا سبب ھم خود ہی ہیں۔اب بھی اگرہم اپنے روز مرہ معمولات سے کذب، بہتان، اور انتہا پسندی کا بوجھ اتار پھینکیں تو یقین جانیے زندگی آسان، دل و دماغ پرسکون اور برکات لوٹ آئیں۔مگر معاشرہ جس تنزلی کا شکار ہے اس کی بڑی وجہ اخلاقیات کا بگاڑ ہی تو ہے۔ادھر اداروں نے اپنی ذمہ داریوں سے کوتاہی برتی. لاغر اور کمزور آئین پھیلتی سنسنی، نفرت، تعصب اور جھوٹی خبریں کو روک سکا اور نہ ایسوں کو نکیل ڈالی جا سکی. قانون کبھی بھی پوری قوت سے حرکت میں آیا اور نہ نظام انصاف. اس میں شک نہیں کہ جھوٹے وعدوں اور بلند و بانگ دعووں کا سلسلہ سیاسی قائدین سے شروع ہو کر ہی عوام تک پہنچتا ہے مگر معاشرے کو اس دلدل سے نکالنے کی ذمہ داری جن پر عائد ہوتی ہے وہ اس سے بری الذمہ نظر آتے ہیں. عوام کے دل و دماغ میں جو زہر گھول دیا گیا اور گھولا جا رہا ہے اس کا نتیجہ معاشرتی، اخلاقی انحطاط اور سماجی تباہی کی صورت میں سامنے ہے. لغویات، فحش گوئی، بدکلامی، الزام تراشی اور بہتان روز مرہ معمولات میں شامل.تعلیم کا نور کہ جس نے ہر فرد کو اخلاق سے مزین اور منور کرنا تھا بجھ چکا اور تعلیمی اداروں کی صورتحال فلم انڈسٹری کے ماحول سے کم نہیں. جب میڈیا دن رات اخلاق باختہ پروگرام چلائے، والدین اپنی اولاد کی تربیت سے پہلو تہی برتیں، مغرب سے مرعوب زدہ نظام تعلیم ہو تو غزالی، و فارابی تو پیدا ہونے سے رہے. تیزی سے بڑھتی ہوئی پولیٹیکل پولرائیزیشن اب عدم برداشت کی صورت گھروں میں نجی تعلقات تک خراب کر چکی ہے. سیاسی تفریق نے رشتوں سے اگے اب دلوں میں نفرت پیدا کر دی. ایسی سیاست جو نفرتیں پیدا کرے، دوریاں لے آئے، وہ کچھ بھی ہو، سیاست نہیں۔ آپس میں گفتگو کا معیار اس قدر گر چکا ہے کہ باہمی احترام نام کی کوئی چیز اب باقی نہیں رہی۔ سنجیدہ احباب کی زباں بگڑتے دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ مہذب اور دلیل کی ساتھ گفتگو جو سیاسی کارکن کا زیور تھا، لٹ گیا.بدکلامی، بدزبانی، بے ہودہ گفتگو، جھوٹ اور بہتان تراشی اگر ھمیں اپنی ذات کے لیے پسند نہیں تو پھر سوشل میڈیا کے ذریعے یہ آگ دوسروں پر کیوں برسائی جا رہی ہے. دوسروں کو چھوڑیے اپنی اور گھر کی اصلاح سے آغاز کریں تو معاشرہ سنور سکتا ہے مگر اس کےلئے مذہبی و سیاسی شدت پسندی کو چھوڑ کر اعتدال کا رستہ اپنانا ہو گا. باقی اپنا تو حال کچھ یوں کہ ”ہم سے تہذیب کا دامن نہیں چھوڑا جاتا،دشت وحشت میں بھی آداب لیے پھرتے ہیں“

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے