پاکستان کی سیاست میں بہت کم لوگ ایسے ہیں جو بغیر کسی عہدے کے بھی ہو تو عوام کا ان پر اعتماد کا لازوال رشتہ قائم رہتا ہے لاہور پاکستان کا دل ہے جہاں کی سیاست سب سے مشکل ہے لیکن عوامی لیڈر خواجہ احمد حسان نے اپنے کاموں سے ثابت کیا ہے کہ وہ لاہوریوں کے دلوں پرحکمرانی کرنے والے نیشنل ہیرو ہیں خواجہ احمد حسان کے سینے پر لاہورکی خدمت کے بے شمار تمغے ہیں انکے ہاتھوں پایہ تکمیل تک پہنچنے والے دو منصوبوں میٹرو بس اور اورنج لائن نے تو دنیابھر میں دھوم مچائی اگر ملک کے باقی سیاستدان بھی خواجہ صاحب کے مقابلہ میں50فیصد کام کرلیں تو یقین مانیں پاکستان واقعی پیرس بن سکتا ہے لیکن بدقسمتی سے اپنے آپ کو عوام سیاستدان کہلانے والے خواجہ احمد حسان کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں ہیں ایک اچھا سیاستدان وہ ہوتا ہے جو عوام کے ہر وقت قریب رہے خواجہ صاحب کے بارے میں کچھ لکھنے سے پہلے ایک اچھے سیاستدان کی تعریف بتا دوں کہ وہ کیسے عوام کا محبوب قائد بن سکتا ہے ایک خوبصورت عوامی سیاستدان وہ ہوتا ہے جو نہ صرف اپنی ظاہری شخصیت سے دلکش ہو بلکہ اس کے ساتھ ساتھ عوام کے دلوں میں بھی اپنی جگہ بنائے ایسے سیاستدانوں کی کچھ خاص خوبیاں ہوتی ہیں جو انہیں دوسروں سے ممتاز کرکے عوامی سیاستدان بناتی ہیںایسا سیاستدان عوام سے قریبی تعلق رکھتا ہو وہ عوام کی بات سنتا ہو عوام کے درمیان رہتا ہو ان کی خوشی اور غمی میں شریک ہوتا ہو اور ان سے براہ راست رابطے میں ہو ان کے مسائل کو سمجھتا ہو اور ان کے حل کےلئے کوشش کرتا ہو ایسے سیاستدانوں میں عوامی خدمت کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوتا ہے وہ اپنی ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر عوام کی فلاح و بہبود کےلئے کام کرتے ہیں وہ اپنے وعدوں کو پورا کرتے ہیں اور عوام کے اعتماد پر پورا اترتے ہیں وہ خوش اخلاق، ملنسار اور ہمدرد ہوتے ہیں اور لوگوں سے احترام سے پیش آتے ہیں ایسے عوامی خدمتگار سیاستدان کی شخصیت میں ایک خاص قسم کی کشش ہوتی ہے جو لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے بلاشبہ ان میں مضبوط قائدانہ صلاحیتیں ہوتی ہیں جو انہیں مشکل حالات میں بھی درست فیصلے لینے میں مدد کرتی ہیں کامیاب اور عوامی سیاستدان اپنی ٹیم کو ساتھ لے کر چلتے ہیں اور انہیں بہترین کارکردگی دکھانے کے لیے حوصلہ افزائی کرتے ہیں ایسے سیاستدان شفاف اور ایمانداربھی ہوتے ہیں وہ اپنے فیصلوں اور اقدامات میں عوام کو شامل کرتے ہیں اور ان سے کچھ نہیں چھپاتے وہ مالی معاملات میں بھی شفافیت برقرار رکھتے ہیں اور کسی قسم کی بدعنوانی میں ملوث نہیں ہوتے اس کے ساتھ ساتھ عوامی سیاستدان کو تعلیم یافتہ، ملک اور دنیا کے حالات سے باخبر ہونا چاہئے اسے اپنی عوام کے مسائل اور ضروریات کا علم ہونا چاہئے پاکستان میں بہت سے سیاست دانوں نے اپنی خوبصورت عوامی سیاست سے لوگوں کے دلوں میں جگہ بنائی ہے ان میں میاں نواز شریف،میاں شہباز شریف، محترمہ بینظیر بھٹو، آصف علی زرداری،خواجہ احمد حسان،محترمہ مریم نواز شریف،حمزہ شہبازاور پاکستان تحریک مساوات پارٹی کی سربراہ میڈم مسرت شاہین جیسے نام شامل ہیں جبکہ عبدالستار ایدھی نے عوامی خدمت میں بے مثال نام کمایااگر میں یہ کہوں کہ ایک خوبصورت عوامی سیاستدان وہ ہوتا ہے جو عوام کی خدمت کو اپنا مشن بناتا ہے اورپھر ہمیشہ ان کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہتا ہے بلاشبہ خواجہ احمد حسان میں یہ تمام خصوصیات پائی جاتی یہی وجہ ہے کہ آج اورنج لائن کی خوبصورتی کو دیکھ کرخواجہ صاحب کی بے انتہا محنت ،لگن اور ہمت کی داد دینا پڑتی ہے ان کی سیاسی زندگی مختلف عہدوں اور ذمہ داریوں سے عبارت ہے خاص کر لاہور شہر کی ترقی اور فلاح و بہبود کے لیے ان کی کوششیں نمایاں ہیں خواجہ احمد حسان نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پلیٹ فارم سے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز کیا انہوں نے مختلف ادوار میں پارٹی کے لیے اہم کردار ادا کیا اور عوامی خدمت کے جذبے سے کام کیا وہ لاہور شہر کی سیاست میں ایک فعال شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں عوامی خدمت کی اسی جذبے کی وجہ سے وزیر اعظم شہباز شریف نے خواجہ احمد حسان کو لاہور میں اپنا کوآرڈینیٹر بنا رکھا ہے تاکہ عوام کے مسائل عوام کی دہلیز پر ہی حل ہوسکیں اسکے ساتھ ساتھ خواجہ احمد حسان بطور کوآرڈینیٹرلاہور سمیت پنجاب بھر میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی مانیٹرنگ کریں گے اور رپورٹ وزیراعظم کو پیش کیا کریں گے خواجہ احمد حسان نے لاہور شہر کی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے مختلف منصوبوں میں حصہ لیا ہے انہوں نے مقامی حکومت میں بھی اہم عہدوں پر کام کیا جہاں انہوں نے شہری مسائل کے حل کے لیے کوششیں کیں ان کی سیاسی زندگی میں عوامی خدمت کا عنصر ہمیشہ نمایاں رہا ہے یہی وجہ ہے کہ آج ہر سیاسی پارٹی کا ورکر انہیں اپنا لیڈر تسلیم کرتا ہے اور انکی کی پورے لاہور میں کہیں بھی کسی جگہ مخالفت نہیں ہے اگر انکے کچھ مخالف ہیں بھی تو انکی اپنی پارٹی کے اندر ہی ہیں جو انکے کاموں سے جلن محسوس کرتے ہیں خواجہ احمد حسان کی ایک اور بڑی خصوصیت یہ بھی ہے کہ ان کے پاس آنے والا سائل بغیر کسی لگی لپٹی کے اپنا مدعا بیان کردیتا ہے اور پھر خواجہ صاحب بغیر کسی جان پہچان اور پارٹی وابستگی کے اسکے کام کے لیے متعلقہ افسر کو ٹیلی فون کرکے یوں کہتے ہیں کہ جیسے یہ انکا اپنا ذاتی کام ہو میں نے آج تک کسی شخص کو خواجہ احمد حسان سے ملاقات کے بعد افسردہ نہیں دیکھا بلکہ روتے ہوئے آنے والے جب ان سے رخصت ہوتے ہیں تو ایسے مطمئن جاتے ہیں جیسے انہیں کوئی مسئلہ تھا ہی نہیں خواجہ صاحب اس وقت نہ صرف لاہور کی ہر دلعزیز شخصیت ہیں بلکہ پورے ملک میں انکے نام کا ڈنکا جب رہا ہے میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ بلوچستان کے حالات چند دنوں میں ٹھیک ہو سکتے ہیں اگر اوپر بیٹھے افراد خواجہ احمد حسان کو ذمہ داری دیں کیونکہ انکے میٹھے بول میں وہ جادو ہے جو لاٹھی اور گولی والوں کے پاس بھی نہیں خواجہ صاحب مشکل سے مشکل کام کو بھی اپنی خوبصورت سیاسی بصیرت سے حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں شرط یہ ہے کہ انہیں پوری آزادی دی جائے اسکے بعد بلوچستان والے اپنی محرومیوں کو ختم ہوتا اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھیں گے کیونکہ خواجہ احمد حسان نے بلوچستان کا ہر شہر لاہور بنا دینا ہے کیونکہ خواجہ احمد حسان آج کے دور کا ولی ہے جو عوام کے دلوں میں بستا ہے ۔
