کالم

ذوالفقار علی بھٹو: تاریخ کی عدالت میں دو تہمتوں کا جواب

5 جنوری، قائدِ عوام ذوالفقار علی بھٹو کا یومِ پیدائش ہے۔ ان کی شہادت کے 47 سال بعد بھی ان کی شخصیت کا سحر ایسا ہے کہ چاہنے والے ہوں یا نفرت کرنے والے، کسی کی شدت میں کمی نہیں آئی۔ المیہ یہ ہے کہ قیامِ پاکستان سے اب تک مقتدر حلقوں کے منظورِ نظر قلم کاروں نے حقائق کو مسخ کر کے نفرت کے الا کو مسلسل بھڑکائے رکھا۔ کچھ بزرگ صحافی تو فخریہ بتاتے ہیں کہ مارشل لا کے بعد انہوں نے ضیاالحق کو الیکشن نہ کروانے کا مشورہ دیا کیونکہ بھٹو کی مقبولیت ناقابلِ شکست تھی۔ نوجوان نسل کو گمراہ کرنے کیلئے بھٹو کی ذات سے منسوب دو بڑی تہمتوں کی حقیقت واضح کرنا وقت کی ضرورت ہے ۔پہلا الزام یہ ہے کہ بھٹو نے ایک ڈکٹیٹر ایوب خان کی گود میں سیاسی جنم لیا۔ حقائق بتاتے ہیں کہ بھٹو کا خاندان قیامِ پاکستان سے پہلے ہی سیاست کا درِ تابندہ تھا۔ ان کے والد سر شاہنواز بھٹو سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے صدر مبئی پریزیڈنسی کے رکن اور جوناگڑھ کے دیوان تھے۔ خود ذوالفقار علی بھٹو کی پہلی قومی نمائندگی کسی آمر نے نہیں بلکہ دسمبر 1957 میں وزیراعظم آئی آئی چندریگر نے طے کی، جب انہیں اقوامِ متحدہ میں پاکستانی وفد کا سربراہ نامزد کیا گیا۔ اس کے بعد 1958 میں انہوں نے اسکندر مرزا کی کابینہ میں بطور وزیرِ تجارت شمولیت اختیار کی۔ ایوب خان کی کابینہ میں وہ بعد میں آئے، جہاں انڈس واٹر ٹریٹی اور تاشقند معاہدے پر قومی مفاد کے تحفظ کی خاطر استعفیٰ دے کر عوامی عدالت میں پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی۔دوسری بڑی تہمت 1970کے انتخابات اور ادھر ہم، ادھر تم کا مقولہ ہے۔ اس جملے کی حقیقت اسے سرخی بنانے والے عباس اطہر مرحوم خود واضح کر چکے ہیں کہ یہ ان کا اپنا صحافتی تخیل تھا، بھٹو کے الفاظ نہیں تھے۔ فروری 1971 میں کراچی کے جلسے میں بھٹو نے جو منطقی حل پیش کیا اسے غلط رنگ دیا گیا۔ ان کا استدلال تھا کہ پورے ملک کی اکثریت کا نگہباں آئین صرف تب لاگو ہو سکتا ہے جب ”چھ نکات ”کو ہی صرف بنیاد بنا کر آئین کی عمارت تعمیر نہ کی جائے۔ اگر چھ نکات پر ہی اصرار ہے، تو وفاق کے دونوں حصوں کی اکثریتی جماعتوں میں اتفاقِ رائے لازمی ہے۔ بصورت دیگر اگر نئے آئین پر اتفاق رائے سے پہلے ہی اقتدار منتقل کرناہے، تو مشرق میں اکثریتی جماعت عوامی لیگ اور مغرب میں پیپلز پارٹی کو سونپ دیا جائے ۔ سقوطِ ڈھاکہ کے اسباب پر انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹس (1972)کی رپورٹ گواہ ہے کہ اس کی جڑیں بنگالی زبان کو تسلیم نہ کرنے اور مسلسل مالی استحصال میں تھیں۔ 24 مارچ 1948کو ڈھاکہ کے کرزن ہال میں بانیِ پاکستان کا اردو سے متعلق بیان اور طلبہ کا ‘No, No’ کا احتجاج وہ پہلا سنگِ میل تھا جہاں سے احساسِ محرومی نے جنم لیا، جس نے 1952 میں خونی تصادم کی شکل اختیار کی۔ مقتدر حلقوں کا رویہ شروع سے ہی نوآبادیاتی تھا، لیکن ایوب خان کے دور میں یہ بیانیہ زبان زدِ عام ہوا کہ مشرقی پاکستان ایک ”بوجھ”بن چکا ہے۔امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی ڈی کلاسیفائیڈ دستاویزات کے مطابق ایوب خان نے امریکی سفیر یوجین لاک سے اسے آزادکرنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ الطاف گوہر کے مطابق ایوب خان اپنی ڈائریوں میں بنگالیوں کی علیحدگی کو ایک ”ناگزیر حقیقت”لکھ چکے تھے۔ جب ریاست کے ستون ہی ایک حصے کو بوجھ سمجھنے لگیں تو اس کا ملبہ ایک سیاستدان پر ڈالنا سراسر ناانصافی ہے۔1970کا بحران دراصل دو قانونی نظریات کا ٹکراؤ تھا۔ شیخ مجیب کے چھ نکات ایک ایسی کنفیڈریشن کا نقشہ تھے جہاں مرکز کے پاس نہ ٹیکس کا اختیار ہوتا نہ اپنی فوج۔ چھٹا نکتہ تو براہِ راست الگ ملیشیا کا تھا، جسے بھٹو نے”ریاست کے اندر ریاست”قرار دیا۔ جی ڈبلیو چوہدری کے مطابق اس نکتے نے مقتدرہ کو یقین دلا دیا کہ عوامی لیگ مکمل آزادی چاہتی ہے۔ 15فروری کو شیخ مجیب نے ڈھاکہ میں چھ نکات کو عوام کی ملکیت قرار دیتے ہوئے ان پر من و عن عمل کا الٹی میٹم دیا۔ جواب میں بھٹو نے اسے وفاق کی روح کے منافی قرار دیا اور اعلان کیا کہ پی پی پی محض عوامی لیگ کے تیار کردہ آئین پر انگوٹھا لگانے ڈھاکہ نہیں جائے گی۔ان کا یہ بیان کہ ”جو ڈھاکہ جائے گا اس کی ٹانگیں توڑ دوں گا”اسی سیاسی احتجاج کا حصہ تھا، کیونکہ وہ ایسی اسمبلی نہیں چاہتے تھے جہاں مغربی پاکستان کے نمائندوں کی بات سننے والا کوئی نہ ہو۔ ان کا مطالبہ تھا کہ اکثریتی پارٹی مغربی پاکستان کے عوامی نمائندوں کی تجاویز کو بھی سنے، کیونکہ وہ کسی ایسی اسمبلی کا حصہ نہیں بننا چاہتے تھے جہاں انہیں بولنے کی اجازت ہو نہ ان کی بات مانی جائے۔بحران کے باوجود بھٹو نے مفاہمت کا راستہ نہ چھوڑا ۔ 10 مارچ 1971کو جب مجیب الرحمان نے پارلیمانی سربراہان کی میٹنگ میں بیٹھنے سے انکار کیا تو 11 مارچ کو بھٹو نے شیخ مجیب کو ہنگامی ٹیلی گرام بھیجا کہ آئیں مل کر ایسا ” نظام ”بنائیں جہاں صوبوں اور شہریوں میں تفریق نہ ہو اور اپنے ڈھاکہ پہنچنے اور بحران کا حل نکالنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ 25 مارچ کو بھٹو خود شیخ مجیب سے مذاکرات کرنے پہنچے، لیکن وہ ابھی ڈھاکہ میں ہی تھے کہ ملک کو فوجی آپریشن (آپریشن سرچ لائٹ)کی بھٹی میں جھونک دیا گیا۔ تاریخی شواہد، بشمول حمود الرحمن کمیشن رپورٹ اور حسن ظہیر کی تصنیف ‘دی سیپریشن آف ایسٹ پاکستان’ تصدیق کرتے ہیں کہ جنرل غلام جیلانی خان کی سربراہی میں ایجنسیوں نے دائیں بازو کی جماعتوں، بالخصوص کنونشن لیگ اور جماعتِ اسلامی کو مالی و لاجسٹک مدد فراہم کی تاکہ عوامی لیگ اور پی پی کا راستہ روکا جا سکے (حوالہ: جی ڈبلیو چوہدری، ص 102) حتیٰ کہ بحران کے دوران بھی 20 ستمبر کو الیکشن کمیشن نے مشرقی پاکستان میں ضمنی انتخابات کا ڈھونگ رچایا تو دائیں بازو کی جماعتوں (جماعتِ اسلامی، نظامِ اسلام، پی ڈی پی اور مسلم لیگ کے تینوں دھڑوں)اتحاد بنا کر بلامقابلہ جیت کا منصوبہ بنایا۔ پیپلز پارٹی نے اس عمل کی مذمت کی اور اتحاد کا حصہ بننے سے انکار کر دیا اور تحفے میں ملنی والی 5 نشستیں ٹھکرا دیں، جبکہ مذہبی جماعتوں کے اتحاد نے 56 نشستیں بخوشی سمیٹ لیں۔ حقیقت یہ ہے کہ 1970 کے انتخابات میں پیپلز پارٹی اور عوامی لیگ کے درمیان ایک غیر اعلانیہ مفاہمت تھی، بھٹو اور مجیب ایک ہی نظریاتی (سیکولر اور سوشلسٹ)قبیلے کے لوگ تھے جنہوں نے ایوب خان کے خلاف مل کر جیل کاٹی۔ مجیب الرحمان نے خود اعتراف کیا کہ یحییٰ کے دور میں بھٹو نے ہی ان کی جان بچائی۔ مخالفین جس تضحیک آمیز جملے (بھاڑ میں جائیں)کا حوالہ دیتے ہیں، وہ 1974 کی اسلامی سربراہی کانفرنس کے موقع پر بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے کے تناظر میں کارکنوں سے کہے گئے تھے، نہ کہ 1971کے بحران میں۔آج 47 سال بعد بھی بھٹو کا دیا ہوا 1973 کا آئین ہی اس بکھرے ہوئے پاکستان کی بقا کی واحد ضمانت ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ بھٹو نے ملک توڑا نہیں بلکہ ٹوٹے ہوئے ملک کو ایک نئی زندگی اور وقار بخشا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے