کالم

5 جنوری کی قرارداد عمل درآمد کی منتظر

بلاشبہ پانچ جنوری 1949 کی اقوام متحدہ کی قرارداد تحریک آزادی کے لیے بالخصوص اور کشمیریوں کے لیے بالعموم امید اور حریت کی شمع روشن کرنے کا باعث بنی ، مذکورہ قرار داد نہ صرف کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو جائز قرار دیتی ہے بلکہ یہ بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر اقوام عالم کو بھی زمہ دار ٹھرتی ہے کہ وہ بھارت جبر وتسلط کا شکار مظلوموں کو آزادی دلانے میں کردار ادا کریں ، دوسری جانب پاکستان کا ہمیشہ یہ دیرینہ مطالبہ رہا کہ اقوام متحدہ 1949 کی قرارداد کی روشنی میں قانونی لائحہ عمل ترتیب دے اور کشمیریوں کو ان کا حق خود اردایت دلوانے میں فیصلہ کن کردار ادا کرے ، درحقیقت دو ایٹمی قوتوں یعنی پاکستان اور بھارت میں مستقل کشیدیگی کے خاتمہ کے لیے لازم ہے کہ اقوام متحدہ آگے بڑھ کر اپنا موثر کردار ادا کرے ، یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہونی چاہے کہ دو ایٹمی قوت کی حامل پڑوسی ریاستوں میں مسلسل کشیدگی نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ ہے ، ایک نقطہ یہ بھی ہے کہ اگر عالمی قیام امن کا زمہ دار ادارہ اپنی قانونی اور آئینی زمہ داریاں ادا کرنے میں مسلسل ناکام رہتا ہے تو کراہ ارض پر اس کی منظور کردہ دیگر قراردادوں کی حیثیت کیا رہ جائے گی ، یعنی اقوام متحدہ کی بے بسی کا ایک نتیجہ یہ بھی نکل سکتا ہے کہ بھارت کی دیکھا دیکھی دیگر علاقائی اور عالمی طاقتیں بھی بین الاقوامی قانون کو موم کی ناک سمجھ لیں ، یقینا اقوام متحدہ کی قراردادیں آج بھی بدستور اہمیت کی حامل ہیں ایسا نہیں کہ کئی دہائیاں گزر جانے کے بعد وہ اپنی افادیت کھو چکیں، جو نقطہ اہم ہے وہ یہ کہ مسئلہ کشمیر بدستور حل طلب ہے مثلا ً اگر یوں ہوجاتا ہے کہ نئی دہلی ضد اور ہٹ دھرمی کی بجائے مسلمہ اصولوں کی روشنی میں کمشریوں کو ان کا حق خود ارادیت دے دیتا تو پھر کسی قرارداد پر عمل کرنے کی ضرورت نہ رہتی مگر باجوہ ایسا نہ ہوسکا،اس پس منظر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اگر اقوام متحدہ جیسا عالمی قیام امن کا ادارہ اپنی منظور شدہ قرار داد پر بھی عمل کرنے پس وپیش سے کام لیتا ہے تو پھر کراہ ارض پر قیام امن کا خواب ہرگز شرمندہ تعبیر نہ ہوگا، اس ضمن میں 5اگست 2019کے بھارتی اقدامات نے تشویش بڑھا دی ہے ، یوں کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ تنازعہ کشمیر کے حوالے سے بھارت عملًا عالمی قوانین کا مذاق اڈا رہا ہے ،اس کی وجہ اس کے سوا کچھ نہیں کی نئی دہلی کو بجا طور پر احساس ہے کہ امریکہ اور اس کے ہم خیال مغربی ممالک سمجھتے ہیں کہ تیزی سے عالمی افق پر خود کو منوانے والے چین کو کوئی ملک ٹکر دے سکتا ہے تو وہ بھارت ہے ، دراصل یوکرین پر روسی حملہ نے مغربی ممالک کے خدشات کو مذید بڑھا دیا ہے ، یورپی یونین کا خیال ہے کہ ماسکو یوکرین پر مکمل تسلط قائم کرنے کے بعد رکے گا نہیں بلکہ بتدریج آگے بڑھتا جائے گا، مغربی ممالک کے پالیسی ساز حلقے سمجھتے ہیں کہ روس کے توسیع پسندانہ عزائم کو درپردہ چین کی مکمل حمایت حاصل ہے ، یعنی بقول ان کے چین ہی وہ طاقتور ملک ہے جو روسی جنگی مہم کو درپردہ مدد فراہم کررہا ہے، یہاں یہ نقطہ بھی کلیدی اہمیت کا حامل ہے کہ مغرب ممالک سے شکوہ کیا کریں جب مسلم دنیا بھی بھرپور طور پر تنازعہ کشمیر کے حل میں پاکستانی موقف کی حمایت کرتی نظر نہیں آتی ، اس سوال کو جواب یہ ہے کہ عالمی تعلقات میں مذہبی یا جذباتی وابستگی سے کہیں زیادہ ریاستی مفادات کو ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے ، اس معیار کو مدنظر رکھتے ہوئے مسلم ممالک کی اکثریت مغربی خوشنودی کی خواہاں ہے ، ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہے کہ پچاس سے زائد مسلمان ملکوں میں جمہوریت نہیں خاندانی بادشاہت ہے ، یوں عوامی تائید سے محروم بیشتر حکمرانوں کو یقین ہے کہ ان کی حکومت اسی وقت قائم و دائم رہ سکتی ہے جب وہ واشنگٹن کی نظر میں پسندیدہ رہیں، اس پس منظر میں امریکہ بھارت تعلقات کی گرموجوشی ہمارے بیشتر مسلم ممالک کی خارجہ پالیسی پر بھی اثر کرتی ہے، مسلہ کشمیر کے حق میں جو ملک تسلسل کے ساتھ آواز بلند کررہا ہے وہ بجا طور پر پاکستان ہے ، یہ بھی سمجھ لینا چاہے کہ نائن الیون کے واقعہ کے بعد امریکی خارجہ پالیسی میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہوئیں ہیں، واشنگٹن اب یہ سمجھتا ہے کہ اسے اسلامی دنیا میں جاری آزادی کی تحریکوں کی حمایت سوچ سمجھ کرنی چاہے ، اب مقبوضہ کشمیر میں بھی چونکہ اکثریت مسلمانوں کی ہے ، مقبوضہ وادی میں بھارت کے خلاف جو تنظمیں مسلح جدوجہد کرتی رہی ہیں وہ بھی اسے جہاد ہی کہتی ہیں ، اس لیے بھارت نے نائن الیون کے بعد امریکی سوچ میں پیدا ہونی والی تبدیلی کو اپنے حق میں یوں استعمال کیا کہ واشنگٹن نئی دہلی کا ہم خیال دیکھائی دینے لگا، حوصلہ افزا یہ ہے کہ پاکستان اندرونی اور بیرونی چیلنجز کے باوجود کشمیریوں کی سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے ، وزیر اعظم شبہازشریف ہوں یا پھر فلیڈ مارشل سید عاصم منیر دونوں ہی کوشاں ہیں کہ بات چیت کے زریعہ دیرینہ تنازعہ کا پائیدار حل نکل آئے بصورت دیگر دو ایٹمی قوت کی حامل پڑوسی ریاستوں میں قیام امن کا خواب خدشات اور خطرات سے ہی دوچار ہی رہے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے