حلقہ احباب سردار خان نیازی

سپریم کورٹ، انصاف کا استعارہ

انصاف کی ایک تعبیر وہ ہے جو عام فہم ہے اور ہر آدمی اسے سمجھتا ہے، یعنی ہر شخص کو اس کا حق مل جائے۔ لیکن ہمارے روایتی تہذیبی بیانیے میں انصاف کا ایک اور گہرا مفہوم بھی بیان کیا گیا ہے۔ وہاں انصاف صرف حقوق کی تقسیم کا نام نہیں بلکہ چیزوں کو ان کی درست جگہ اور درست ترتیب پر رکھنے کا نام ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ جب چیزیں اپنی صحیح ترتیب پر ہوں تو یہ انصاف ہے اور جب ترتیب بگڑ جائے تو یہی ظلم بن جاتا ہے۔

اگر اس معیار پر پاکستان کے عدالتی نظام کا جائزہ لیا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ آج پاکستان کی سپریم کورٹ اپنی درست ترتیب کی طرف لوٹ آئی ہے اور یہ بذات خود ایک بڑا انصاف ہے۔ بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آئینی عدالت اور آئینی بینچوں کے قیام سے سپریم کورٹ کے اختیارات میں کمی آئی ہے، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اختیارات کی ظاہری تقسیم کو اختیارات کی کمزوری سمجھ لینا ایک سطحی تجزیہ ہوگا۔ دراصل یہ ایک ایسا انتظامی اور ادارہ جاتی اقدام ہے جس نے سپریم کورٹ کو اپنے اصل اور بنیادی کردار پر زیادہ توجہ دینے کا موقع فراہم کیا ہے۔

اس تناظر میں چیف جسٹس آف پاکستان جناب جسٹس یحییٰ آفریدی کا کردار غیر معمولی اور قابل تحسین ہے۔ انہوں نے اپنی ذات سے بلند ہو کر ادارے کی بہتری کا سوچا ہے۔ انہوں نے اپنے عہدے کے فوری اختیارات اور وقتی فوائد کو ترجیح دینے کے بجائے مستقبل کے نظام انصاف کو سامنے رکھا ہے۔ انہوں نے یہ نہیں سوچا کہ اختیارات کا زیادہ سے زیادہ ارتکاز ان کی ذات کے گرد رہے بلکہ انہوں نے یہ سوچا کہ اگر آج ایک مضبوط، متوازن اور پائیدار عدالتی ڈھانچہ تشکیل پا جاتا ہے تو اس کے فوائد آنے والی نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔

اپنی ذات سے بلند ہو کر سوچنا بہت ہی غیر معمولی بات ہے۔ یہ کام وہی کر سکتا ہے جو اپنی ذات سے بلند ہوکر اپنی قوم اور اپنے ملک کا سوچ سکے۔ جناب چیف جسٹس نے یہ ثابت کر دکھایا کہ وہ اپنی ذات سے اوپر اٹھ کر ملک و قوم اور ادارے کی بہتری کا سوچتے ہیں ۔

گزشتہ کئی برسوں سے سپریم کورٹ ایک ایسے بوجھ تلے کام کر رہی تھی جس میں سیاسی تنازعات، آئینی مقدمات، سول اپیلیں، فوجداری مقدمات اور عوامی اہمیت کے بے شمار معاملات ایک ہی ادارے کے سامنے آ جاتے تھے۔ اس کا نتیجہ یہ تھا کہ عدالت کا بڑا حصہ مسلسل سیاسی کشمکش اور آئینی بحرانوں کی نذر ہو جاتا تھا۔ اب سپریم کورٹ کو موقع ملا ہے کہ وہ اپنی توانائیاں زیادہ مؤثر انداز میں ان معاملات پر صرف کرے جو براہ راست عام شہری کی زندگی سے متعلق ہیں۔

اب چیزین اپنی ترتیب پر ہیں ۔ ہیجان ختم ہو چکا ہے۔ اب سپریم کورٹ سے خبریں نہیں آ تی ، انصاف اور فیصلے آتے ہیں ۔ یہ بہت بڑا فرق ہے۔ جو سمجھتے ہیں اور جانتے ہیں وہ جانتے ہیں۔ جو ڈیشل ایکٹوزم کے اپنے مسائل ہوتے ہیں ، اسے ضابطے کی حددود میں لانا بہت بڑا کام تھا۔ یہ کام عام آدمی کے بس کا نہیں تھا ۔ یہ کام وہی کر سکتا تھا جس کے مقاصد اور اہداف میں وسعت نظر ہو۔

پاکستان کے عام آدمی کا مسئلہ کسی سیاسی جماعت کا آئینی تنازع نہیں بلکہ انصاف تک بروقت رسائی ہے۔ زمین کے جھگڑے، کاروباری تنازعات، ملازمت کے مقدمات، فوجداری اپیلیں اور دیگر قانونی معاملات وہ حقیقی مسائل ہیں جن کا سامنا روزانہ لاکھوں پاکستانی کرتے ہیں۔ جب سپریم کورٹ کی توجہ ان معاملات پر مرکوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے