کالم

سیاسی معاشی اور انسانی دہشتگری کا خاتمہ وقت کا تقاضا

کوئٹہ کا یہ حالیہ خون آشام معرکہ اور معصوم شہریوں کی ٹرین پر ہونے والا بزدلانہ دجل محض کسی ایک سرپھرے فدائی کی انفرادی کارروائی ہرگز نہیں ہے بلکہ یہ ایک باقاعدہ، مربوط اور مہیب دہشت گردی کا تسلسل ہے جس میں دھرتی کے پرامن بیٹوں، مستورات اور اطفال کا ناحق لہو بہا کر بزدل لوگ اپنی پے در پے ہزیمتوں کو چھپانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ جب بوگیاں الٹ جائیں، مسافر گاڑیاں ملبے کا ڈھیر بن جائیں اور پٹریوں پر دور دور تک لاشیں بکھر جائیں تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ ٹرین کے پاس موجود ہر ذی روح کو چن چن کر نشانہ بنانے کے لیے وحشی دہشت گرد نشانہ باز مضافاتی اور پہاڑی علاقوں میں پہلے سے کمین گاہیں بنائے بیٹھے تھے اور مجید بریگیڈ کا یہ مکروہ و غلیظ پروپیگنڈا کہ وہاں عساکر کے خاندان تھے ان کی ازلی درندگی اور سفاکیت کا کھلا ثبوت ہے کیونکہ وہاں عسکری نہیں بلکہ صرف اور صرف معصوم پاکستانی، غیرت مند بلوچی اور پختونوں کے گھرانے تھے جنہیں گزشتہ برس کوئٹہ ریلوے اسٹیشن پر ہمارے غازیوں کو نشانہ بنانے کے بعد اب دوبارہ ہدف بنایا گیا ہے۔ یہ کارزار اب صرف فتنہ الہند یا فتنہ الخوارج تک محدود نہیں رہا بلکہ اس بارود اور فنڈنگ کے پیچھے ایک دوست ملک کے کارندے بھی پسِ چلمن پوری طرح متحرک ہیں۔ کہیں ایران میں چھپے پاکستان مخالف گروہ کا شائبہ اور گٹھ جوڑ دکھائی دیتا ہے تو دوسری طرف اسرائیل، بھارت اور افغانستان کے کندھوں پر سوار ہو کر ہماری سرحدوں کے اندر تک نقب زنی کی کوشش کر رہا ہے کیونکہ ان تمام عالمی و علاقائی بدخواہوں کو سب سے بڑی مروڑ پاکستان اور ایران کے مابین ہونے والے نئے تزویراتی معاہدوں سے ہے، ان کو شدید تکلیف صیہونی ریاست اسرائیل کی عالمی تنہائی اور دس مئی کی سازش کے بے نقاب ہونے پر بھارت کو ملنے والی تاریخی و عالمی ذلالت سے ہے، ان کے سینوں پر سانپ صرف اس امر پر لوٹ رہا ہے کہ پاکستان نے عرب اور ایران کی جنگ کی صیہونی سازش کو پیروں تلے روندا اور امارات کے ساتھ مل کر ایران پر یلغار کرنے کے بیرونی مطالبے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے آزادانہ فیصلہ کیا اور ان سب کی آنکھوں میں سب سے بڑا خارِ مغیلاں گوادر اور سی پیک کی کامیابی ہے جو ان کے حلق سے کسی صورت نیچے نہیں اتر پا رہی۔ یہ مکار ذہنیت گریٹر اسرائیل کے خبیث منصوبے کی مانند گریٹر بلوچستان کا شیطانی کھیل رچا رہی ہے جس کی گندی اور ناپاک نظریں ہمارے وسائل سے مالامال بلوچستان پر لگی ہیں اور یہ چہار سو پھیلا ہوا بھیڑیا صفت دشمن ہمیشہ اسی وقت غراتا ہے جب دنیا کا معاشی و سیاسی جھکاؤ پاکستان کی طرف ہونے لگتا ہے اور پاکستان اقوامِ عالم میں معتبر بن کر ابھرتا ہے لیکن ان بدبختوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ جیسے یہ بدخواہ ماضی میں ذلیل و خوار ہوئے اب بھی ان کا مقدر صرف اور صرف عبرت ناک اور نامراد شکست ہوگی۔ اب وہ وقت آ گیا ہے کہ بی وائے سی، پی ٹی ایم کے پاکستان مخالف کارندوں کا دھرتی سے مکمل قمع قمع کیا جائے کیونکہ جب تک یہ مقامی سہولت کار، پشت پناہ اور نظریاتی آماجگاہیں ہمارے اندر موجود ہیں آپ سرحدوں پر جتنے چاہیں آپریشن کر لیں نہ ٹی ٹی پی کا فتنہ ختم ہوگا نہ بی ایل اے کی دہشت گردی کیونکہ یہی نام نہاد تنظیمیں ہمارے معصوم نوجوانوں کو برین واش کر کے دہشت گردی کی اس دوزخ نما بھٹی میں ایندھن کے طور پر جھونکتی ہیں اس لیے اب دشمن کی شاخیں چھانٹنے کا مصلحت آمیز وقت گزر چکا، اب اس شجرِ خبیثہ کی جڑ کو ہی اکھاڑ پھینکنا ہوگا تب ہی یہ شاخیں خود بخود سوکھ کر راکھ ہوں گی۔ عالمی برادری اور انسانی حقوق کے نام نہاد دلالوں کا دوہرا معیار بھی آج پوری دنیا کے سامنے بالکل برہنہ ہو چکا ہے کہ کوئٹہ میں ہمارے پینتیس معصوم شہریوں کی اس سفاکانہ شہادت پر اقوامِ متحدہ یا یورپی یونین کا کوئی سفیر یہاں پرسہ دینے یا تعزیت کی بساط بچھانے نہیں آئے گا لیکن اگر افغانستان کے کسی پاگل خانے میں کوئی سودائی اور نشئی خودکش حملہ آور خود اپنے ہی بارود سے جہنم واصل ہو جائے تو یہ منافق گماشتوں کی طرح انسانی حقوق کا راگ الاپنے پریس کانفرنسیں کرنے پہنچ جاتے ہیں۔ بھارت تو ہمارا ازلی اور اعلانیہ دشمن ہے ہی جس نے تقسیمِ ہند کو کبھی دل سے تسلیم نہیں کیا اور آپریشن سندور میں ملنے والی عبرت ناک ذلت کے بعد اب اس میں براہِ راست معرکہ آرائی کی جرات و بسالت نہیں رہی اسی لیے اس نے دہشت گردی کا متبادل محاذ کھول رکھا ہے لیکن سب سے بڑا افسوس تو افغانستان پر ہے جسے ہم دہائیوں سے برادر اسلامی ملک سمجھ کر گلے لگاتے رہے مگر تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ کابل میں حکومت چاہے ظاہر شاہ کی ہو، کرزئی کی ہو یا طالبان کی، ان کا بنیادی موقف اور بیانیہ بھی بھارت کی طرح ہمیشہ پاکستان دشمنی، ہماری جغرافیائی سلامتی کے خلاف بغض اور ہماری زمین پر ناجائز و لاحاصل دعوؤں پر ہی قائم رہا ہے اور دنیا کے نقشے پر صرف یہی دو ملک ہیں جو ہماری سلامتی کے درپے اور اعلانیہ ہمارے خلاف صف آرا ہیں لیکن اب یہ صورتحال حد سے زیادہ سنگین ہو چکی ہے اور بلوچستان یا خیبر پختونخوا کی مٹی میں کسی بھی دہشت گرد یا اس کے سیاسی و سماجی سہولت کار کو زندہ چھوڑنا یا معاف کرنا ریاست اور شہدا کے خون کے ساتھ صریحاً دشمنی ہے، اسی لیے ریاستِ پاکستان نے اب اس کا ایسا دندان شکن اور سخت ترین جواب شروع کر دیا ہے جو دشمن کی نسلوں کو یاد رہے گا اور اب کسی چوہے کو ان دہشت گردوں اور ان کے پشت پناہوں میں سے چھپنے کے لیے کوئی بل میسر نہیں آ رہا کیونکہ میرے پاک ریاستی اداروں اور غیور افواج نے ان خبیثوں کے خلاف کتے مار چھڑکاؤ کا بے رحم آغاز کر دیا ہے اور اب یہ اپنا عہد ہے کہ پاک فورسز پاکستان کے ہر دشمن اور غدار کے ناپاک وجود کو اس پاک دھرتی سے ہمیشہ کیلئے مٹا کر ہی دم لیں گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے