کالم

سپریم کورٹ بار میں بلاول بھٹو زرداری کا خطاب

یہ 23اکتوبر 2023 کی ایک دوپہر تھی ۔سپریم کورٹ بار کی خصوصی تقریب میں سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو مہمان بنے۔ انہوں نے خطاب کرنا تھا دوسری طرف بنچ ون میں الیکشن کمیشن کا کیس سنا جا رہا تھا جسمیں صدر سپریم کورٹ بارعابد زبیری نے بطور وکیل پیش ہونا تھا۔ یہ کیس دیر تک چلا جسکی وجہ سے بلاول کا خطاب تاخیر کا شکار ہوا۔ ڈرائیور کرتے ہوئے اگر کار کو دل دماغ کے ساتھ نہیں چلاتے تو اس کا رزلٹ ٹھیک نہیں آتا یہاں بھی صدر بار کا دل اپنے لیڈر عمران خان کےساتھ تھا اور دماغ بلاول بھٹو کی طرف تھا لہٰذا یہ تقریب ایسی منعقد نہ ہو سکی جیسے توقع کی جا رہی تھی۔اس تقریب میں پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما قائم علی شاہ،رضا ربانی،فاروق ایچ نائیک، نیرحسین بخاری ، فرحت اللہ بابر،اعتزاز احسن، آصف علی سمرو، شہادت اعوان ، کائرہ اورچن جی بار میں تشریف لا چکے تھے ۔یہ سب زعماءدو تین گھنٹے خاموش بار میں بیٹھے رہے ۔پروگرام پچاس سالہ آئین کے حوالے سے ترتیب دیا گیا تھا۔ اس دوران اگر ان سب کو سن لیا جاتا تو یہ پروگرام یادگار بن سکتا تھا اور مہمان اور میزبان بھی بور نہ ہوتے مگر بلاول بھٹو اور صدر بارسیکریٹری بار کی غیر موجودگی میں پروگرام شروع نہ کیا جا سکا ۔سب بڑی سیاسی شخصیات تین چار گھنٹے یوں ہی بیٹھی رہیں اور پروگرام کے بعد خاموشی سے چلے بھی گئیں۔ آداب محفل کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے کچھ نہ سن سکے نہ یہ کہہ سکے ۔ان سے ہم فیضیاب نہ ہو سکے۔تین بجے کے قریب خدا خدا کرکے انتظار ختم ہوا۔ بلاول بھٹو کے ساتھ پیپلز پارٹی کے مقامی اور قومی لیڈر وکلا بھی آئے۔یہ تقریب آئین کے حوالے سے تھی۔ آئین کہتا ہے ہماری قومی زبان اردو ہے۔ سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ بھی اس پر عدالتی فیصلہ دے چکے ہیں مگر ابھی تک اس ججمنٹ پر بھی عمل نہیں ہوا۔ ابھی تک اردو زبان کو نافذ نہیں کیا جا سکا آج بھی انگلش زبان میں یہ تقریب منعقد ہوئی خطاب ہوا۔ اس موقع پر بلاول بھٹو کو تقریر جس نے لکھ کر دی تھی کاش وہ اردو میں لکھ دیتے تو آئین کا بول بالا ہو جاتا لیکن اتنی باریکی میں کون جائے۔ اس تقریب میں دو شخصیات قائم علی شاہ اور ڈاکٹر غلام حسین کو خصوصی طور پر شرکت کی دعوت دی گئی تھی مگر ڈاکٹر صاحب خرابی صحت کی وجہ سے تشریف نہ لا سکے ۔ان سب کو خصوصی شیلڈ دی گئیں، پروگرام کو اگر دیر سے شروع نہ کیا جاتا بار دلچسپی لیتی تو زیادہ جوش وخروش دیکھنے میں آتا۔ بار روم میں جگہ کی کمی کی وجہ سے بھی بلاول کی آمد پر دھکم پیل کا سامنا مہمانوں کو کرنا پڑا۔ اس پروگرام کو بار روم میں کرانا اس لیے ضروری تھا کہ سپریم کورٹ بار میں پروگرام کی اپنی قدروقیمت تھی۔یہاں پروگرام کرنا دنیا کواچھا میسج دینا بھی تھا۔اس موقع پر ایڈیشنل سیکٹری سپریم کورٹ بار ملک شکیل اعوان نے آئین کی پاکٹ بک وکلا اور مہمانوں میں تقسیم کیں۔ میرے ساتھ پروگرام سننے کے لیے سابق منسٹر سینیٹر شہادت اعوان اور سابق ممبرایم این اے ایڈووکیٹ آصف علی سومرو دونوں شخصیات کا تعلق کراچی لاڑکانہ سے تھا۔آصف سومرو کو دیکھ کر بلاول بھٹو بار روم میں گلے ملے اور یہاں آنے کا شکریہ ادا کیا۔ یہ دونوں شخصیات ایڈووکیٹ سپریم کورٹ بار ہیں۔پروگرام کو بلاول اور صدر بار عابد زبیری کے بغیر ہی شروع کر دیا جاتا اور بار میں موجود شخصیات سے آئین کے حوالے سے ان کے خیالات کو سن لیا جاتا تو کوئی حرج نہیں تھا کسی کو کوئی اعتراض بھی نہ ہوتا بلکہ بہتر ہوتا۔ ایسا نہ ہونے سے یہ تمام قداور شخصیات کو بغیر سنے کے یوں ہی بیٹھے رہنا کوئی اچھا عمل نہ تھا۔سبھی بور ہوتے رہے۔ایسے ہونا بھی اچھا نہ لگا ۔پروگرام وقت مقررہ سے دو تین گھنٹے دیر سے شروع ہوا ۔ اس موقع پر بلاول بھٹو کےلئے کمیٹی روم میں خصوصی ہائی ٹی کا انتظام کر رکھا تھا۔اس دوران آصف سومرو نے بلاول بھٹو سے راقم کا تعارف کراتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے آپ کے نانا شہید ذوالفقار علی بھٹو کے راولپنڈی لیاقت باغ کے پہلے جلسے میں نظم پڑی تھی اس کے دو شعر ان سے سن لیں۔ پھر بلاول بھٹو کی فرمائش پر یہ شعر سنایا۔
آیا شیر خدا دا بن کے دیکھو یارو بھٹو
آمر نوں پٹ جڑا تو سٹایا، نہ خچر رہی نہ ٹٹو
بلاول نے یہ شعر سن کر کہا آپ کی یاداشت بہت اچھی ہے۔ میں نے یہ بھی بتایا کہ آپکے ابو سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری کو میںنے اپنے کالم(مطبوعہ 2004) )میں انہیں نیلسن منڈیلا کا خطاب دیا تھا۔ابھی کچھ عرصہ قبل پنجاب کے ضمنی الیکشن میں بڑے بڑے بینر پر پاکستان کا نیلسن منڈیلا آصف علی زرداری درج تھے۔ اس موقع پر جناب کائرہ صاحب کو بتایا کہ نیلسن منڈیلا یہ میرا دیا گیا خطاب ہے۔ اس کالم کی کاپی بھی کائرہ صاحب کو پیش کی۔یہ بھی بتایا کہ اس کالم کو پڑھ کر زرداری صاحب نے مجھے کراچی سے شکریہ کا فون کیا تھا پھر اسلام آباد میں مجھے لنچ پر بلایا ایک ساتھ لنچ کیا تھا لیکن آج جب زرداری صاحب سے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا تو جواب ملتا ہے یہ ہمارے بس میں نہیں ہے۔زرداری صاحب کی سیکٹری صاحبہ کو فون کیا میسج لکھے مگر یوں لگا محترمہ نے جواب نہ دینے کی جیسے قسم کھا رکھی ہوجبکہ زرداری صاحب خود ایسے نہیں ہیں۔ سمجھ نہیں آتی ان کی اپنے سیئنیر ورکروں سے اتنی دوری کیوں ہے۔ بلاول بھٹو جب سپریم کورٹ بار میں تشریف لائے تو انکی اپنی سیکورٹی ساتھ ساتھ تھی۔ جو کسی کو قریب نہیں آنے دے رہی تھی۔ ایسا پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا تھا۔ ایسا کرنے سے سوال اٹھتے ہیں کہ اپنے پارٹی ورکروں کو اپنے قائد کو پیغام دینے میںمشکلات کیوں کرتے ہیں۔عام پارٹی ورکروں بچاروں کا کیا حال ہو گا۔ ورکرز تو ہاتھ ملانے ساتھ کھڑے ہونے میں فخر محسوس کرتے ہیں مگر اب سیکورٹی کا بہانہ بنا کر انہیں قریب نہیں آنے دیا جاتا۔ ایسا ہونے سے قربت سے ورکرز کی اپنے لیڈر سے دوری سوالیہ نشان ہے۔ لیکن کیا کیا جائے کہ ایک سیاسی لیڈر کو عوام میں سر پر بالٹی رکھ کر چلتے دیکھ چکے ہیں کہ انہیں جان کا خطرہ ہے۔ایسا کرنا یہ سب سیکورٹی کاحصہ کہلاتا ہے۔ اگر ایسا ہے تو پھر میدانوں سڑکوں میں جلسے کیوں کرتے ہو۔بند کمرے میں کیمروں کے سامنے خطاب کر لیا کریں۔ بعد میں اس خطاب کی وڈیو ریلیز کر دیا کریں جس نے سنی ہوگی وہ سن لیا دیکھ لیا کرے گا۔ کہا جاتا ہے جس نے موت سے ڈرنا ہے اسے سیاسی لیڈر نہیں بننا چاہئے ۔ احتیاط ضروری ہے مگر پارٹی ورکروں اور چاہنے والوں سے دور نہیں رکھنا چائیے۔مقامی لیڈروں کو تو ملنے ملانے دیا جانا چاہیے۔ انہیں میسج کی رسائی ہونی چاہیے ۔مگر یوں لگتا ہے جیسے اب سب کو یقین ہے الیکشن نہیں سلیکشن ہوتے ہیں لہٰذا ملنا کیوں ملانا کیوں۔یہ بھی سچ ہے کہ ماضی میں قائد عوام سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی مرڈر ہو چکا ہے انکے بچوں کو عبرت کا نشان بنانے کےلئے شہید کیا جا چکا ہے۔سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کو دن کی روشنی میں شہید کیا گیا ہے۔ملک کی بڑی جماعت کے لیڈران اور ان کے بچوں کا خون بہا ہوا۔ بھٹو خاندان نے جانوں کی قربانی دی ہے۔ یہ واحد سیاسی جماعت پیپلز پارٹی ہی ہے۔ جس نے جانوں کی قربانیاں دی ہیں ۔ کہا جاتا ہے جو پانی سے نہاتے ہیں وہ کپڑے بدلتے ہیں ، جو پسینے میں نہاتے ہیں وہ تقدیر بدلتے ہیں اور جو خون میں نہاتے ہیں وہ تاریخ بدلتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پیپلز پارٹی کے لیڈران خون میں نہاتے رہے ہیں تاریخ بدلتے رہے ہیں۔ بلاول بھٹو نے بھی سپریم کورٹ بار میں خطاب کر کے سپریم کورٹ بار کی تاریخ بدلی تاریخ رقم کی۔ بلاول بھٹو کسی سیاسی پارٹی کے پہلے لیڈر ہیں جنھوں نے سپریم کورٹ بار سے خطاب کیا ہو!!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے