کالم

سکھ رہنماؤں کے قتل کی سازش ، اٹلی میں بھارت پر مقدمہ

یورپی ملک اٹلی کے شہر میلان کی ایک فوجداری عدالت میں بھارت کے قومی سلامتی مشیر اجیت دوول کے خلاف سکھ رہنماؤں کے قتل کی بین الاقوامی سازشیں تیار کرنے کے الزامات کے تحت مقدمہ دائر کر دیا گیا ہے۔یہ ہائی پروفائل قانونی کارروائی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اطالوی ہم منصب سے ملاقات کیلے اٹلی کے سرکاری دورے پر موجود تھے اور اجیت دوول بھی اس بھارتی وفد کا حصہ تھے ۔ میلان کی عدالت میں یہ فوجداری مقدمہ خالصتان ریفرنڈم کے حامی سرگرم سکھ کارکنوں جگروپ سنگھ اور گورپال سنگھ کی جانب سے دائر کیا گیا ہے۔ سکھ رہنماؤں کا موقف ہے کہ اجیت دوول نے مختلف مغربی ممالک میں مقیم سکھ کارکنوں کو ماورائے عدالت قتل کرنے اور ان کے خلاف دہشت گردی کے نیٹ ورک کی خود نگرانی کی ہے ۔ مقدمے کے متن میں کینیڈا میں ہردیپ سنگھ نجر کے قتل، برطانیہ میں پرمجیت سنگھ پنیوار کے خلاف بنائی گئی سازشوں سمیت دیگر اہم شکایات کو شامل کیا گیا ہے۔درخواست گزاروں، جگروپ سنگھ اور گورپال سنگھ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اجیت دوول کی ایما پر انہیں خود اٹلی کے اندر نشانہ بنانے اور ان کی زندگیوں کو ختم کرنے کا خطرناک منصوبہ تیار کیا گیا تھا۔ سکھس فار جسٹس کے سربراہ اور عالمی سطح پر خالصتان تحریک کے اہم رہنما گرپتونت سنگھ پنوں نے اس عدالتی کارروائی پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے "بھارت کا قومی سلامتی مشیر اجیت دوول عالمی سطح پر سکھ رہنماؤں اور مودی سرکار کے مخالفین کو خاموش کرانے کیلئے باقاعدہ ‘قاتل اسکواڈز’ استعمال کر رہا ہے، ہم بین الاقوامی قوانین کے تحت اجیت دوول کو ان کے جرائم پر جوابدہ ٹھہرانے کیلئے دنیا بھر میں وکلا کی نامور ٹیمیں متحرک کر رہے ہیں۔”سیاسی و سفارتی مبصرین کے مطابق، مودی کے دورہ اٹلی کے دوران ان کے وفد میں شامل اعلیٰ ترین سیکیورٹی عہدیدار کے خلاف یورپی عدالت میں مقدمہ دائر ہونا نئی دہلی کیلئے بین الاقوامی سطح پر انتہائی خفت اور بڑی سفارتی ناکامی کا باعث بن گیا ہے ۔ مودی سرکار سکھوں کے خلاف عالمی سطح پر ریاستی کارروائیوں میں ملوث ہے، بین الاقوامی جریدے دی گارڈین نے مودی سرکار کے ریاستی دہشتگردی کو بے نقاب کر دیا۔ 35 سالہ سکھ کارکن اوتار سنگھ کھنڈا کی برمنگھم میں مشکوک موت نے بھارتی سرکار پر سوال اٹھا دیے ۔ دی گارڈین کے مطابق مقتول اوتار سنگھ پر بھارتی میڈیا نے مارچ 2023 کے احتجاج کے دوران لندن میں بھارتی پرچم اتارنے کا الزام لگایا تھا، 2016 میں اوتار سنگھ کو بھارتی ایجنسیوں سے زندگی کو خطرہ ہونے کی بنا پر برطانیہ میں سیاسی پناہ ملی تھی۔مقتول کے والد اور چچا 90 کی دہائی میں خالصتان کی حمایت کرنے پر ماورائے عدالت قتل کر دیے گئے تھے۔اوتار سنگھ کے دوست جسوِندر سنگھ کے مطابق ”اوتار اپنی موت سے کچھ دن پہلے خوفزدہ تھے کہ انہیں ٹریس یا فالو کیا جا رہا ہے۔” اوتار سنگھ کی والدہ اور بہن کو حکام نے علیحدگی پسند رہنما امرت پال سنگھ کی تلاش کے سلسلے میں حراست میں لے رکھا تھا۔ وکیل پولاک کے مطابق اوتار سنگھ کو ”زندگی کے خطرے کی دھمکیاں” موصول ہوئیں ۔ برطانوی فرانزک ماہر ڈاکٹر ایشلے فیگن ایرل کے مطابق ”سکھ کارکن کو زہر دیے جانے کا شبہ مکمل طور پر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔”اوتار سنگھ کے اہل خانہ نے دوبارہ پوسٹ مارٹم انکوائری کا مطالبہ کر دیا ہے۔ اوتار سنگھ کے قریبی عزیز جگجیت سنگھ کا کہنا ہے کہ ”ہمیں جواب چاہیے کہ اتنی دھمکیوں کے باوجود اوتار کی موت کیسے ہوئی؟”بھارت اختلافی آوازوں کو خاموش کر کے بین الاقوامی سطح پر اقلیتوں کا قتل عام کر رہا ہے۔ بی جے پی کیمیکل ہتھیار ، اعصابی زہر اور ماورائے عدالت قتل سے سکھ تحریک کو کچل رہی ہے۔اوتار سنگھ کی موت کے بعد چند ہی ہفتوں میں خالصتانی کارکنان کا کینیڈا میں قتل سکھ تحریک کو کچلنے کی مذموم بھارتی سازش ہے۔مودی سرکار نے ٹارگٹ کلنگ اور قتل کو اختلاف رائے کے خلاف ہتھیار بنا لیا ہے۔ مودی کا بھارت اب ریاستی قتل و غارت گری کا عالمی چمپئن بن چکا ہے۔نیو یارک میں سکھ علیحدگی پسند رہنما کو قتل کرنے کی سازش کے الزام میں گرفتار انڈین شہری نے امریکہ کی وفاقی عدالت میں تین جرائم کا اعتراف کر لیا ہے۔ 54 سالہ نکھل گپتا نے قتل کرنے کے لیے رقم لینے، اجرت کے عوض قتل اور منی لانڈرنگ کی سازش کرنے کے جرائم قبول کیے۔ انھیں 40 برس تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔قتل کی اس مبینہ سازش کا ہدف امریکی شہری گرپتونت سنگھ پنّوں تھے، جو خالصتان کے حامی ہیں۔ خالصتان تحریک انڈیا میں سکھوں کے لیے ایک آزاد وطن کا مطالبہ کرتی ہے۔استغاثہ کا الزام ہے کہ نکھل گپتا کو قتل کرنے کے احکامات انڈین حکومت کے اہلکار نے دیے تھے۔ انڈیا پنّوں کو قتل کرنے کی مبینہ سازش میں ملوث ہونے کی تردید کرتا ہے۔امریکی وکیل جے کلیٹن نے کہا: ‘نکھل گپتا نے نیویارک میں ایک امریکی شہری کو قتل کرنے کی سازش کی، صرف اس لیے کہ وہ امریکی شہری آزادی اظہار رائے کا حق استعمال کر رہے تھے جو یہ ملک انھیں دیتا ہے۔”نکھل گپتا کا خیال تھا کہ انھیں کسی قسم کے نتائج کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا لیکن وہ غلط فہمی کا شکار تھے، انھیں اب انصاف کا سامنا کرنا ہو گا۔”نکھل گپتا کے اعترافِ جرم نے عدالتی طور پر اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ انڈیا کی مودی حکومت نے امریکی سرزمین پر باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کرائے کے قاتلوں کے ذریعے قتل کی سازش تیار کی تھی۔’

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے