یوں تو ماہ رمضان برکتوں والا مہینہ ہے لیکن اس میں ایک ایسی رات بھی ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے قرآن میں اس رات کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے اس رات میں قرآن کو اتارنے کا بھی ذکر کیا گیا ہے قرآن کے مطابق بیشک ہم نے اس(قرآن)کو شب قدر میں اتارا ہے اور آپ کیا سمجھے ہیں کہ شب قدر کیا ہے شب قدر ہزار مہینوں سے افضل ہے اس رات میں فرشتے اور روح الامین اپنے رب کے حکم سے ہرامر کے ساتھ اترتے ہیں یہ رات طلوع فجر تک سراسر سلامتی ہے(سورة القدر)قرآن کی اس سور سے علم ہو جاتا ہے کہ شب قدر میں قرآن کو اتارا گیا ہے اور اس کو اتنی فضیلت دی گئی ہے کہ اس رات کی عبادت اور نیکیوں کو ہزار مہینوں کی عبادت اور نیکیوں سے افضل کہا گیا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے واضح ارشاد فرما دیا ہے کہ اس رات کی بہت بڑی فضیلت ہے اس لیے مسلمان ہرممکن کوشش کرتے ہیں کہ اس رات سے جتنا ممکن ہو فائدہ اٹھا لیا جائے حکمت کے تحت اس کو رمضان کی طاق راتوں میں پوشیدہ بھی رکھا گیا ہے۔رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں میں سے ایک رات میں شب قدر کو پوشیدہ رکھ دیا گیا ہے رمضان میں عبادتوں کابھی اجر بڑھ جاتا ہے اورشب قدر کی رات کےاعمال تو ہزار مہینوں کے تمام نیک اعمال سے بڑھ جاتے ہیں، یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے کہ اس رات کو ظاہر بھی کر دیا ہے لیکن پانچ راتوں میں پوشیدہ بھی کردیا ہے احادیث میں مختلف انداز میں شب قدر کی نشاندہی کی گئی ہے ایک حدیث کے مطابق حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا، اس رات کو رمضان المبارک کے آخری عشرے میں باقی رہنے والی راتوں میں سے نویں ، ساتویں اور پانچویں رات میں تلاش کرو ، بخاری ، بیہقی ، ایک دوسری حدیث کے مطابق حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا، شب قدر کو رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو ، بخاری ، بعض علما کے نزدیک چھبیس رمضان المبارک کی رات شب قدر ہوتی ہے ۔ بہرحال کوئی خاص وضاحت نہیں کی گئی ہے شب قدر کوآخری عشرہ کی طاق راتوں میں ہی پایا جا سکتا ہے اس رات کو جتنے زیادہ نیک اعمال کیے جا سکتے ہوں،اعمال کرلینے چاہئیں، اس رات میں اگر حالت ایمان میں قیام کیا جائے تو اس کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں،ایک حدیث کے مطابق حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جس نے شب قدر میں حالت ایمان میں ثواب کی غرض سے قیام کیا اس کے سابقہ گناہ بخش دیے جاتے ہیں اور جس نے ایمان کی حالت میں ثواب کی غرض سے رمضان کے روزے رکھے ، اس کے بھی سابقہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں ، بخاری ، رمضان میں بھی اللہ تعالیٰ کی برکتیں نازل ہوتی ہیں اور ان برکتوں کو حاصل کرنے کےلئے ہر ممکن کوششیں کی جائیں۔ ایک اور حدیث کے مطابق جو شخص شب قدر میں ایمان و اخلاص کے ساتھ عبادت کرے تو اس کی پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے ،بخاری، عبادتیں اور صدقہ وخیرات زیادہ سے زیادہ کیا جائے,اللہ تعالیٰ سے اپنی مغفرت مانگی جائے ایک حدیث کے مطابق یوں دعا کی جائے, اے اللہ بیشک تو معاف فرمانے والا،کرم کرنےوالا ہے،تو معاف کرنے کو پسند کرتا ہے،تو میرے گناہوں کو بھی معاف کر دے,ترمذی,اللہ تعالیٰ سے جتنی زیادہ مغفرت مانگی جائے،اتنی کم ہے۔یوں تو اللہ تعالیٰ سے ہر وقت مغفرت مانگی جانی چاہیے لیکن اس رات کو زیادہ سے زیادہ کوشش کی جائے,اللہ تعالیٰ کی رحمت بہت وسیع ہے انسان خطا کا پتلا ہے اور غلطیاں کرتا رہتا ہے ، توبہ کرنے سے اللہ تعالیٰ گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔قرآن میں آدم علیہ السلام کا بھی واقعہ بیان کیا گیا ہے جس کے مطابق انہوں نے اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگی اور توبہ کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی مغفرت فرما دی,شیطان کا بھی واقعہ بیان کیا گیا ہے جس کے مطابق اس نے تکبر میں آکر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کر دی اور مغفرت بھی طلب نہ کی تو اللہ تعالیٰ نے اس کو راندہ درگاہ کر دیا ۔یہ واقعات ہمیں,درس دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرنی چاہیے,شیطان کی طرح تکبر کا شکار نہ ہوا جائے،کیونکہ تکبر انسان کو تباہ کر دیتا ہے جس طرح شیطان کو اللہ تعالیٰ کی درگاہ سے دھتکار دیا گیا,شب قدر کو ڈھونڈنے کی کوشش کی جائے تو اللہ تعالیٰ آپ کی کوشش ضائع نہیں کریگا بلکہ بہت عظیم صلہ ملے گا۔