کالم

عالمی امن کی ضرورت ۔۔۔!

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک طرف یہ دعوی کرتے ہیں کہ انہوں نے کئی جنگوں کو رکوایا اور دوسری طرف طاقت کے استعمال، دبا کی سفارت کاری اور وسائل پر قبضے کے بیانیے بھی ابھر کر سامنے آتے ہیں۔ امن کی باتیں اور قبضہ پالیسی ایک دوسرے کے متوازی چلتی دکھائی دیتی ہیں۔جنوبی ایشیا جیسے حساس خطے میں پاک بھارت تنا کسی بھی لمحے بڑے تصادم میں بدل سکتا ہے۔ ایسے ماحول میں جنگ کو روکنے کی ہر کوشش قابلِ قدر ہے اور پاکستان کی فضائیہ کی جانب سے اپنے دفاع میں کی گئی کارروائیاں اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ علاقائی استحکام کیلئے توازن اور ذمہ داری ناگزیر ہیں تاہم امن محض ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک مسلسل عمل ہے، جس میں طاقت کے بجائے اعتماد اور انصاف کی بنیاد پر تعلقات استوار کیے جاتے ہیں۔ اگر عالمی قیادت ایک ہاتھ سے امن کی بات کرے اور دوسرے ہاتھ سے طاقت کے استعمال کی تیاری رکھے تو یہ عمل دنیا کو پائیدار سکون نہیں دے سکتا۔آج دنیا جن بحرانوں سے دوچار ہے وہ کسی ایک ملک یا خطے تک محدود نہیں۔ معاشی ناہمواری، مہنگائی، صحت کی سہولیات کی کمی، تعلیمی پسماندگی اور ماحولیاتی بگاڑ نے انسانیت کے مستقبل کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔ ایسے وقت میں وسائل پر قبضے اور طاقت کی سیاست نہ صرف اخلاقی طور پر سوالیہ نشان ہیں بلکہ عملی طور پر بھی خود کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں۔ اگر بڑی طاقتیں چھوٹے یا کمزور ممالک کے تیل، معدنیات اور جغرافیائی اہمیت پر نظریں جمائیں تو عالمی اعتماد ٹوٹتا ہے اور کشیدگی بڑھتی ہے۔وینزویلا کی مثال کو دنیا میں ایک ایسے تنازع کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جہاں قدرتی وسائل اور عالمی سیاست کا ٹکرا نمایاں ہوتا ہے۔ جب کسی ملک کے تیل اور معدنیات پر قبضے یا وہاں سیاسی دبا کے الزامات لگتے ہیں اور انسانی جانیں ضائع ہوتی ہیں تو یہ معاملہ محض جغرافیائی سیاست نہیں رہتا بلکہ انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیتا ہے۔ اسی طرح ایران کے حوالے سے جنگی تیاریوں کی خبریں ہوں یا گرین لینڈ جیسے خطوں کے بارے میں جغرافیائی خواہشات، یہ سب اس بات کی علامت ہیں کہ طاقت کی سیاست ابھی تک عالمی فیصلوں پر اثرانداز ہو رہی ہے ۔ انسانیت کا تقاضا یہ ہے کہ دنیا کی بڑی طاقتیں اپنے وسائل اور اثر و رسوخ کو انسانوں کی فلاح کیلئے استعمال کریں۔ اگر اربوں ڈالر ہتھیاروں پر خرچ کرنے کے بجائے صحت کے نظام ، بیماریوں کی روک تھام اور تعلیمی ڈھانچے پر لگائے جائیں تو دنیا کی شکل بدل سکتی ہے۔ ایک ایسا عالمی نظام تشکیل دیا جا سکتا ہے جہاں ہر بچہ اسکول جا سکے، ہر بیمار کو علاج ملے اور ہر محنت کش کو باعزت روزگار دستیاب ہو۔یہ وہ خواب ہے جو طاقت کے بجائے ہمدردی سے پورا ہوتا ہے۔امریکی عوام کا کردار اس تناظر میں نہایت اہم ہے۔ جمہوریت میں عوامی رائے ہی حکمرانوں کو سمت دیتی ہے۔ اگر ٹیکس دہندگان یہ سوال اٹھائیں کہ ان کا پیسہ کہاں خرچ ہو رہا ہے تو پالیسیوں میں تبدیلی ممکن ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ عوام کے وسائل سے بڑے بڑے فوجی اقدامات کیے گئے، چاہے وہ جاپان پر ایٹمی بمباری ہو یا عراق، لیبیا اور افغانستان جیسے ممالک میں جنگیں، جن کے نتیجے میں بے شمار جانیں ضائع ہوئیں اور پورے معاشرے عدم استحکام کا شکار ہوئے۔ یہ سب کچھ اسی وقت رکے گا جب عوام اپنے نمائندوں سے جواب طلب کریں گے اور امن کو اپنی اولین ترجیح بنائیں گے۔ دنیا میں امن کی ضرورت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ جدید جنگیں اب محض میدانوں تک محدود نہیں رہیں۔ سائبر حملے، اقتصادی پابندیاں اور اطلاعاتی جنگیں بھی عام شہریوں کی زندگیوں پر گہرے اثرات ڈالتی ہیں۔ مہنگائی بڑھتی ہے، خوراک اور ایندھن کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگتی ہیں اور غریب آدمی سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔ ایسے میں جنگی پالیسیوں کا تسلسل انسانوں کو مزید غربت اور بے یقینی میں دھکیل دیتا ہے۔امریکہ اگر واقعی عالمی قیادت کا دعوی رکھتا ہے تو اسے لوگوں کے دلوں پر راج کرنے کا راستہ اپنانا ہوگا۔ دلوں پر راج طاقت سے نہیں بلکہ انصاف، تعاون اور احترام سے ہوتا ہے۔ دنیا کے ممالک کو برابر کا شریک سمجھا جائے، ان کی خودمختاری کا احترام کیا جائے اور ان کے وسائل کو ان ہی کی ترقی کیلئے استعمال ہونے دیا جائے۔ جب ایک طاقتور ملک کمزوروں کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے تو عالمی نظام میں اعتماد پیدا ہوتا ہے اور تنازعات کے حل کے دروازے کھلتے ہیں ۔ صحت کے میدان میں عالمی تعاون اس کی ایک روشن مثال ہو سکتا ہے۔ وباں نے ثابت کر دیا ہے کہ بیماری سرحدیں نہیں دیکھتی۔ اگر بڑی طاقتیں تعلیم اور صحت کے بنیادی ڈھانچے پر مشترکہ سرمایہ کاری کریں تو لاکھوں جانیں بچ سکتی ہیں۔ تعلیم کے شعبے میں وظائف، تبادلے کے پروگرام اور ڈیجیٹل سہولیات دنیا کے نوجوانوں کو ایک دوسرے کے قریب لا سکتی ہیں۔ معیشت میں منصفانہ تجارت اور قرضوں میں سہولت غریب ممالک کو اپنے پاں پر کھڑا ہونے میں مدد دے سکتی ہے۔جنگوں اور ہتھیاروں کی دوڑ کو کم کرنا بھی اسی وژن کا حصہ ہے۔ ہر نیا ہتھیار عدم اعتماد کو بڑھاتا ہے اور ہر معاہدہ اعتماد کی ایک نئی کرن بن سکتا ہے۔ عالمی طاقتوں کو چاہیے کہ اسلحہ کنٹرول کے معاہدوں کو مضبوط کریں، تنازعات کے حل کیلئے سفارت کاری کو ترجیح دیں اور طاقت کے استعمال کو آخری نہیں بلکہ ناممکن راستہ سمجھیں ۔ جب دنیا اس سمت میں قدم بڑھائے گی تو انسانیت کو وہ سکون ملے گا جس کی وہ دہائیوں سے متلاشی ہے۔یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کی جا سکتی کہ امن کا راستہ مشکل اور طویل ہوتا ہے۔ اس میں صبر، مکالمہ اور کبھی کبھی اپنے مفادات پر نظر ثانی بھی شامل ہوتی ہے مگر یہی وہ راستہ ہے جو آنے والی نسلوں کیلئے ایک بہتر دنیا چھوڑ سکتا ہے۔ اگر آج ہم وسائل پر قبضے اور طاقت کے مظاہرے کو ترجیح دیں گے تو کل ہمارے بچے عدم استحکام اور خوف میں جئیں گے۔پاکستان جیسے ممالک جو اپنی خودمختاری اور وقار کے ساتھ امن کے خواہاں ہیں، عالمی برادری سے یہی توقع رکھتے ہیں کہ ان کی قربانیوں اور کوششوں کو تسلیم کیا جائے۔ پاک فضائیہ کی پیشہ ورانہ کارکردگی ہو یا سفارتی محاذ پر امن کی کوششیں، یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ ذمہ دارانہ طرزِ عمل ہی علاقائی اور عالمی استحکام کی بنیاد ہے۔آخرکار دنیا کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ کس سمت جانا چاہتی ہے۔ ایک ایسی دنیا جہاں طاقتور کمزور کو روند دے یا ایک ایسی دنیا جہاں ہر انسان کو عزت اور مساوی مواقع ملیں۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ پہلی راہ تباہی کی طرف جاتی ہے اور دوسری ترقی اور خوشحالی کی طرف۔ اگر عالمی قیادت واقعی اپنے دعوئوں پر قائم رہنا چاہتی ہے تو اسے امن کو محض لفظ نہیں بلکہ عمل بنانا ہوگا ۔ امن کا مطلب خاموشی نہیں بلکہ انصاف ہے اور انصاف کا مطلب ہے کہ کسی بھی قوم کے وسائل، خودمختاری اور وقار کا احترام کیا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے