کالم

عالمی سطح پر ابھرتا ہوا مضبوط و مستحکم پاکستان

عالمی سطح پر ابھرتا ہوا مضبوط و مستحکم پاکستان

عالمی سیاست کے بدلتے ہوئے منظرنامے میں پاکستان ایک بار پھر اپنی جغرافیائی، سفارتی اور عسکری اہمیت کے باعث توجہ کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ جنوبی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے سنگم پر واقع پاکستان نہ صرف خطے کی اسٹریٹجک بساط پر کلیدی حیثیت رکھتا ہے بلکہ اب ایک ابھرتی ہوئی معاشی و عسکری قوت کے طور پر بھی اپنا مقام مستحکم کر رہا ہے۔
گزشتہ کچھ عرصے میں "بنیان المرصوص” جیسے نظریاتی و دفاعی تصورات نے پاکستان کے داخلی استحکام اور قومی سلامتی کے بیانیے کو نئی سمت دی ہے۔ یہ تصور قومی اتحاد، مضبوط دفاع اور خود انحصاری پر زور دیتا ہے، جس کے نتیجے میں ریاستی اداروں میں ہم آہنگی اور فیصلہ سازی میں بہتری دیکھنے کو ملی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کی مسلح افواج نے پیشہ ورانہ صلاحیتوں، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور دہشت گردی کے خلاف کامیاب کارروائیوں کے ذریعے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔
معاشی میدان میں بھی پاکستان بتدریج بہتری کی طرف گامزن ہے۔ China-Pakistan Economic Corridor جیسے منصوبوں نے نہ صرف انفراسٹرکچر کو بہتر بنایا بلکہ سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کے نئے دروازے کھولے ہیں۔ توانائی کے منصوبے، سڑکوں کا جال، اور گوادر بندرگاہ کی ترقی پاکستان کو خطے کا ایک اہم تجارتی حب بنانے کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔
دوسری جانب عالمی سطح پر United States اور Iran کے درمیان کشیدگی میں کمی کے لیے جاری سفارتی کوششوں میں پاکستان کا کردار خاصا اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن و استحکام کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے، اور حالیہ پیش رفت نے اس کی سفارتی ساکھ کو مزید مضبوط کیا ہے۔ اسلام آباد کی متوازن خارجہ پالیسی، جس میں تمام بڑے عالمی و علاقائی طاقتوں کے ساتھ تعلقات کو برقرار رکھا جاتا ہے، اسے ایک قابلِ اعتماد ثالث بناتی ہے۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ وہ کسی ایک بلاک کا حصہ بننے کے بجائے "جیو اکنامکس” کو ترجیح دے رہا ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت اقتصادی تعاون، علاقائی رابطہ کاری اور تجارت کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نہ صرف چین بلکہ خلیجی ممالک، ترکی، اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ بھی اپنے تعلقات کو وسعت دے رہا ہے۔
عسکری طور پر پاکستان ایک مضبوط دفاعی قوت کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ ایٹمی صلاحیت، جدید میزائل سسٹمز، اور تربیت یافتہ افواج پاکستان کو ایک ناقابلِ نظر انداز قوت بناتے ہیں۔ مزید برآں، اقوام متحدہ کے امن مشنز میں پاکستان کی نمایاں شرکت اس کے ذمہ دار عالمی کردار کی عکاسی کرتی ہے۔
تاہم، چیلنجز اب بھی موجود ہیں۔ معاشی عدم استحکام، سیاسی کشیدگی، اور گورننس کے مسائل ایسے عوامل ہیں جو اس سفر کو سست کر سکتے ہیں۔ اس کے باوجود اگر پالیسیوں میں تسلسل، شفافیت، اور ادارہ جاتی اصلاحات کو یقینی بنایا جائے تو پاکستان واقعی ایک "ایشین ٹائیگر” بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ کہنا بھی کسی صورت غلط نہ ہوگا کہ پاکستان آج ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں اس کے پاس اپنی تقدیر بدلنے کا سنہری موقع موجود ہے۔ مضبوط دفاع، ابھرتی ہوئی معیشت، اور فعال سفارت کاری کے امتزاج کے ساتھ پاکستان نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک مؤثر اور باوقار کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں آ رہا ہے۔
گزشتہ سال روایتی حریف کی جانب سے مسلط کردہ جنگ میں پاکستان کی جانب سے منہ توڑ جواب اور بعد ازاں بھارت افغانستان کی پراکسی کی کمر توڑنے کے باعث بھی پاکستان نے اپنی دفاعی حیثیت کو منوایا جسے پوری دنیا نے تسلیم کیا۔حکومت وقت کو اب اندرونی مسائل ،گورننس،مہنگائی و بے روزگاری جیسے مسائل سے نمٹنے کےلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کرنا تاکہ عوام میں پائی جانے والی بے چینی کا خاتمہ ہو سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے