اقبالؒ نے ہمیشہ مایوسی کی بجائے امید کا چراغ جلاتے ہوئے اپنے قوم کے حال کو بدلنے کی آرزو کی اور اسے نیا زمانہ نئے صبح و شام پیدا کرنے کی تلقین کی۔ اقبالؒ کو اللہ نے وہ حساس دل، حقیقت کا مشاہدہ کرنے والی نگاہ اور ملت کے پرشکوہ مستقبل کا یقین عطا کیا تھا کہ اس طاقت کے بل بوتے پر اقبالؒ نے انتہائی یاسیت انگیز اور مایوس کن منظرنامے میں رہتے ہوئے بھی مستقبل کا وہ نقشہ دیکھا جسے ان کے معاصرین دیکھنے سے قاصر تھےعالمی مجلس بیداری فکراقبالؒ کی ادبی نشست میں نظم مسجد قرطبہ کے مصرعے”نرم دم گفتگوگرم دم جستجو“پر علی اصغرسلیمی نے بتایاکہ علامہؒ جب مسجدقرطبہ پہنچے توان کے ملی جذبات اپنے عروج پرتھے اورانہوں نے ”مسجدقرطبہ“جیسی شاندارنظم لکھ کراپنے احساسات کابھرپورفنی اظہارکیا۔ اندلس جیسی سرزمین پرجہاں مسلمان بدترین زوال کا شکار ہوئے، ان کی نسل ہی نابودہوگئی،شعائراسلام کوجہاں بری طرح کچل دیاگیا،خون مسلم کی ندیاں بہائی گئیں اورکشتوں کے پشتے لگادیے گئے اوراسلام اورمسلمانوں کانام و نشان تک مٹ گیا وہاں کی باقیات پرکھڑے ہوکربھی علامہؒ نے مایوسی کوقریب نہ پھٹکنے دیااورامیدکے چراغ روشن کیے۔ اسلام تلوار سے نہیں بلکہ اخلاق سے آگے بڑھا اور دنیامیں پھیل گیا۔ نرم گوئی سے یہ مرادنہیں ہم اپنی آزادی رائے سے دستبردارہوکرحق گوئی سے محروم ہوجائیں ۔ علامہ محمد اقبالؒ نے اپنی وفات سے 5 سال قبل 1933 میں اپنی مشہور نظم مسجدِ قرطبہ میں عنوان کے نیچے عبارت میں لکھا ہے کہ یہ نظم اسپین کے شہر قرطبہ میں تحریر کی گئی تھی۔ میں نے اپنے اسکول کے سالوں کے دوران جب سے یہ نظم پڑھی تھی، تب سے ا±س مسجد کی سیر کرنا میری دیرینہ خواہش تھی جس نے اقبالؒ کو متاثر کیا تھا۔فروری 2016 میں مجھے اسپین جانے کا موقع ملا اور آخرکار میری خواہش پوری ہوگئی۔اقبالؒ کے وہاں آنے سے گیارہ سو سال سے بھی زائد عرصہ پہلے عبدالرحمان اول نے 785 کے قریب اس مسجد کی تعمیر کا حکم دیا تھا۔ اس کے بعد کافی سالوں تک اس کی تعمیر جاری رہی تھی۔سیاہ ادوار میں یورپ کا زمانہ بہت مختلف تھا اور مسلمانوں کی تہذیب عروج پر تھی۔ ورلڈ ہیریٹیج سینٹر کے مطابق یہ مسجد ”اپنے سائز اور اپنی اونچی چھتوں کی وجہ سے ایک انوکھے فنی کارنامہ کی نمائندگی کرتی ہے۔ یہ خلافتِ قرطبہ کا ایک بے بدل ثبوت ہے اور اسلامی طرزِ تعمیر کی ایک زبردست علامتی یادگار ہے۔یہ ایک غیر معمولی قسم کی مسجد ہے جو مغرب میں اسلام کی موجودگی کا ثبوت ہے۔”اسپین میں مسلمانوں کے زوال کے بعد 1246 کے قریب مسجد کو گرجا گھر میں تبدیل کردیا گیا اور اس کے اوپر ایک دیو قامت نافِ کلیسا تعمیر کی گئی تھی، مگر گرجا گھر دیکھنے والوں سے مسجد جیسی تعریفیں نہیں سمیٹ پاتا۔گرجا گھر میں تبدیل ہونے کے کئی زمانے بعد اقبالؒ نے مسجد کا دورہ کیا تھا۔ اقبالؒ خوش نصیب تھے کہ انہیں مسجد میں نماز پڑھنے کی اجازت دی گئی تھی، کیونکہ خلافِ توقع مجھے معلوم ہوا کہ اب ہسپانوی حکام نے سختی سے منع کر رکھا ہے۔مسلمانانِ ہند کے دور غلامی میں اقبالؒ جیسے دانائے راز کی موجودگی ہی ملت اسلامیہ کی حیات باطنی کی دلیل تھی کہ مختلف حوادث اور عروج و زوال کا سارا سفر بھی ملت اسلامیہ کو مستقل پڑمردگی اور فنائیت کا شکار نہیں کر سکتا بلکہ جب بھی ملت زمانے کے فتنوں کا نشانہ بنے گی اس کے بطن سے ایسی حیات افروز صدا ضرور بلند ہو گی جو اس کے حال کو حیاتِ نو عطا کرے گی اور اسے اپنا مستقبل تعمیر کرنے کی صلاحیت بھی بخشے گی۔ گویا اقبالؒ کی صدائے روح افزا اور ان کا شعر و فکر ملت اسلامیہ کی حیاتِ اجتماعی ہی کی ایک دلیل بن گیا۔ علامہ کی شاعری میں جہاں روح عمل کو پھونکنے اور غلامی اور مایوسی کی زنجیروں کو توڑنے کا پیغام تھا وہاں ایک ایسا ضابطہ عمل بھی ان کے افکار میں نظر آتا ہے جو ملت کے مستقبل کی صورت گری کا ضامن ہے۔علامہ نے اپنے اشعار میں صرف اپنے دور میں ہی مسلمانوں کے مسائل کا ہی حل پیش نہیں کیا بلکہ ایک مثالی مسلم ریاست اور مسلم معاشرے کے خدوخال کیا ہو سکتے ہیں۔ اس کی تفصیلات بھی ان کے شعر میں جا بجا ملتی ہیں۔ اقبالؒ کی شاعری دراصل ایک دور نو کی نوید ہے۔ جاوید نامہ میں علامہ نے اپنی مثالی مملکت کا ذکر کیا ہے اور اس کی تفصیلات بیان کیں اور اسے مرغدین کا نام دیا۔ یہ مثالی مملکت فی الاصل انسانیت کی منزل ہونی چاہیے اس مثالی مملکت مرغدین میں انسانی معاشرے کو درپیش اخلاقی، سماجی، معاشرتی اور دوسرے مسائل جو جس موثر انداز سے بیان کر کے ان کی حل کی طرف علامہ نے متوجہ کیا ہے وہ آج کے دور کے انسان کی آواز لگتی ہے اور اقبالؒ کسی ایک خطے کے نہیں انسانیت کے شاعر کے طور پر سامنے آئے ہیں۔شخصیت کا استحکام اور ارتقا ایک اخلاقی ضابطے کا محتاج ہے۔ اس بنا پر اقبالؒ نے آزادی افکار کو ابلیس کی ایجاد قرار دیا۔ انہوں نے مغربی تہذیب میں اخلاقی انحطاط و انتشار کا سبب بیان کرتے ہوئے کہا:”بدقسمتی سے مسلمان اپنے سیاسی انحطاط، اقتصادی بحران اور فکری افلاس کی بنا پر مغربی تہذیب کے زیر اثر مغرب زدہ ہوگئے۔ انہوں نے اپنی شکست خوردہ ذہنیت کے سبب اسلام کو بھی مسیحیت کے مترادف مذہب قرار دے لیا اور سیاسی ادارے سے اسے خارج یا معطل کردیا۔ چنانچہ مذہب کی جگہ قومیت کے وطنی تصور نے لے لی جس سے امت واحد کا شیرازہ بکھر گیا۔“
کالم
علامہ اقبال ؒ نے مسلمانوں کو امید کی کرن دکھائی
- by Daily Pakistan
- جنوری 22, 2023
- 0 Comments
- Less than a minute
- 1944 Views
- 2 سال ago