منی پور میں مسیحی رہنماؤں اور عیسائی تنظیم تھڈو بیپٹسٹ ایسوسی ایشن کے صدر سمیت تین مذہبی پیشواؤں کا لرزہ خیز قتل مودی سرکار کے امن کے دعوؤں اور بھارتی سیکولرازم کی حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے ۔ بھارت کی شورش زدہ ریاست منی پور میں عیسائی تنظیم کے صدر سمیت تین مذہبی رہنماؤں کو قتل کر دیا گیا، گھات لگا کر عیسائی رہنماؤں پر حملہ کیا گیا، حملے میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔مسیحی رہنماؤں پر قاتلانہ حملے کے خلاف منی پور میں مقامی تنظیموں کی جانب سے احتجاج کیا گیا، ریاست میں کاروباری مراکز، سرکاری دفاتر اور سکول بند رہے۔ اقلیتوں پر یہ منظم حملہ اور ریاستی خاموشی اس بات کا ثبوت ہے کہ وہاں مذہبی رہنماؤں کیلئے زمین تنگ کر دی گئی ہے، کْکی تنظیموں کا احتجاج اور شدید ردعمل دراصل اس مفلوج نظام کے خلاف آواز ہے جو اپنے شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہو چکا ہے۔ مودی سرکار کے امن کے دعوؤں کی دھجیاں اڑ گئیں، منی پور میں ریاستی خاموشی پر سوالات، مذہبی پیشواؤں کا قتل عام اور مسلح جتھوں کی بلا اشتعال جارحیت نے مودی حکومت کی فاشسٹ سوچ کو عیاں کر دیا۔عالمی سطح پر جمہوریت کا ڈھنڈورا پیٹنے والا بھارت منی پور کے لوگوں کا خود دشمن نکلا۔بھارتی میڈیا ادارے اکنامک ٹائمز نے رپورٹ کیا کہ منی پور میں تازہ نسلی تشدد کے نتیجے میں 38 سے زائد کوکی اور ناگا شہری مبینہ طور پر مخالف مسلح گروہوں کے ہاتھوں یرغمال یا اغوا کر لیے گئے، جبکہ کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔تنازع اب صرف میتیئی اور کوکی برادریوں کے درمیان نہیں رہا بلکہ ناگا اور کوکی گروہ بھی ایک دوسرے پر قتل، اغوا اور منی پور کے پہاڑی اضلاع میں حملوں کے الزامات لگا رہے ہیں۔منی پور اس لیے جل رہا ہے کیونکہ ریاستی اداروں کی مسلسل ناکامیوں نے مقامی نوعیت کے تنازعات کو ایک طویل انسانی اور سکیورٹی بحران میں تبدیل کر دیا ہے۔ آر ٹی آئی اور حکومتی اعداد و شمار کے مطابق مئی 2023 سے اب تک 200 سے زائد افراد ہلاک اور تقریباً 58 سے 60 ہزار افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جو شہریوں کے تحفظ اور تشدد پر قابو پانے میں ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔ 12 مئی کو کانگپوپی میں ہونے والے حملے، جس میں تین چرچ رہنما مارے گئے، نے حساس علاقوں میں انٹیلی جنس اور سکیورٹی کے شدید خلا کو بے نقاب کر دیا۔ 2023 سے 2025 کے دوران اسلحہ خانوں پر حملوں اور پولیس کے اسلحے کی بار بار لوٹ مار نے ہزاروں ہتھیار عوام اور مسلح گروہوں تک پہنچا دیے، جو تشدد اور مسلح سرگرمیوں کو مزید ہوا دے رہے ہیں۔حالیہ حملوں کے بعد فوری انتقامی گرفتاریاں کی گئیں؛ ریاستی وزیر داخلہ نے تسلیم کیا کہ کوکی اور ناگا برادریوں کے ”38 سے زائد” افراد مختلف گروہوں کے قبضے میں تھے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کمزور ریاستی عملداری نے متوازی جبر اور ہجوم کی طاقت کو فروغ دیا ۔ انٹرنیٹ بندشوں اور این جی اوز پر پابندیوں نے آزاد نگرانی اور انسانی امداد کی رسائی کو محدود کر دیا ہے، جبکہ 50 ہزار سے زائد بے گھر افراد کیمپوں میں ناکافی طبی سہولیات، صفائی اور خوراک کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔40 ہزار سے زائد مرکزی فورسز کی تعیناتی کے باوجود کمزور رابطہ کاری، جانبدارانہ پولیسنگ اور جوابدہی کے فقدان نے پائیدار امن قائم کرنے میں ناکامی ظاہر کی ہے۔منی پورمیں تشددواقعات، غیر قبائلی میتی لوگوں اور عیسائی قبائلی کوکی لوگوں کے درمیان جاری نسلی تصادم ہے۔ یہ نسلی فسادات بھارت کی شمال مشرقی ریاست منی پور میں 3 مئی 2023ء کو شروع ہوئے جس میں اب تک کم از کم 98 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔اس واقع کا آغاز ضلع چورا چاند پور میں آل ٹرائبل اسٹوڈنٹ یونین منی پور کی طرف سے اکثریتی میتی کمیونٹی کو تحفظات دینے کے خلاف احتجاج کے لیے بلائے گئے "قبائلی یکجہتی مارچ” کے دوران ہوا۔ ان پر تشدد واقعات کو روکنے کے لیے آسام رائفلز اور ہندوستانی فوج کے اہلکاروں کو ریاست میں امن و امان کی بحالی کے لیے تعینات کیا گیا۔ ریاست میں انٹرنیٹ سروس کو 5 دن کی کے لیے معطل کر دیا گیا تھا اور تعزیرات ہند کی دفعہ 144 کا اطلاق کیا گیا تھا۔ بھارتی فوجیوں کو کرفیو نافذ کرنے کے لیے "دیکھتے ہی گولی مارنے” کے احکامات دیے گئے ہیں۔ فروری 2023ء میں، بی جے پی کی ریاستی حکومت نے چورا چاند پور، کانگپوکپی اور ٹینگنوپال کے اضلاع میں بے دخلی مہم شروع کی، جس میں جنگل میں رہنے والوں کو ناجائز تجاوزات کرنے والے قرار دیا، جسے قبائلیوں نے مخالفت کے طور پر دیکھا۔ مارچ 2023ء میں، کانگ پوکپی ضلع کے تھامس گراؤنڈ میں ایک پرتشدد تصادم میں پانچ افراد زخمی ہوئے جہاں مظاہرین "محفوظ جنگلات، محفوظ جنگلات اور جنگلی حیات کی پناہ گاہ کے نام پر قبائلی اراضی پر قبضہ” کے خلاف ریلی نکالنے کے لیے جمع ہوئے۔ اسی مہینے میں، منی پور کی کابینہ نے کوکی نیشنل آرمی اور زومی ریوولیوشنری آرمی کے ساتھ آپریشن سیز فائر معاہدوں کی معطلی سے دستبرداری اختیار کر لی۔ جبکہ، ریاستی کابینہ نے کہا کہ حکومت "ریاستی حکومت کے جنگلاتی وسائل کے تحفظ اور پوست کی کاشت کو ختم کرنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات” پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔

