پاکستان میں پٹرول کی قیمتوں میں اچانک اضافہ ہی نہیں بلکہ عوام پر پٹرول بم گرادیا گیا ہے حالانکہ دنیا کے کسی اور ملک نے ابھی تک پٹرولیم کی قیمتوں میں ابھی تک اتنا اضافہ نہیں کیا ہے۔ راتوں رات پٹرول کی قیمت میں تقریباً پچپن روپے فی لیٹر اضافہ ایسے وقت میں کیا گیا جب عالمی منڈی سے مہنگا تیل ابھی خریدا بھی نہیں گیا تھا۔ حکومت کی طرف سے اس فیصلے کو عالمی حالات اور تیل کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے سے جوڑا جا رہا ہے، تاہم عام شہری کیلئے یہ وضاحت زیادہ تسلی بخش محسوس نہیں ہوتی۔ رمضان المبارک کے مہینے میں جب پہلے ہی گھریلو اخراجات بڑھ جاتے ہیں، ایندھن کی قیمتوں میں اتنا بڑا اضافہ براہ راست عام آدمی کی زندگی کو متاثر کرتا ہے۔ مزدور، دیہاڑی دار اور محدود آمدنی رکھنے والے افراد اس فیصلے کا سب سے زیادہ بوجھ برداشت کرتے ہیں جبکہ عید کے قریب اپنے گھروں کو جانے والے پردیسی محنت کشوں کیلئے سفر کے اخراجات میں اضافہ ایک نئی مشکل بن کر سامنے آتا ہے۔پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعلق صرف مقامی معاشی فیصلوں تک محدود نہیں بلکہ عالمی حالات سے بھی گہرا جڑا ہوا ہے۔ اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے گرد پیدا ہونے والی کشیدگی تیزی سے ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے جس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے۔ عالمی سیاست، توانائی کی منڈیاں اور بین الاقوامی تجارت سب اس صورتحال سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی مبصرین اس کشیدگی کو محض ایک علاقائی تنازع کے بجائے ایک ممکنہ عالمی بحران کے طور پر دیکھ رہے ہیں، یہاں یہ بھی ایک سوالیہ نشان ہے کہ امریکہ نے ایک ماہ کیلئے بھارت کو روس سے سستا تیل خریدنے کی اجازت تو دے دی ہے مگر پاکستان کو اس کی اجازت کیوں نہیں؟ کیا ہمارا قصور یہ ہے کہ ہم نے بھارت کے بارہ جہاز گرائے ہیں ؟ ۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر دباؤ بڑھانے کی کوششیں مسلسل جاری ہیں۔ واشنگٹن کی پالیسی میں سختی واضح دکھائی دیتی ہے اور امریکی قیادت نے ایران سے غیر مشروط سرنڈر کا مطالبہ کر کے اس تنازع کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ سفارتی حلقوں میں اس مطالبے پر شدید بحث جاری ہے کیونکہ کسی خودمختار ریاست سے مکمل ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ عموماً مذاکرات کے دروازے بند کرنے کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔ ایران کی قیادت نے بھی اب تک کسی قسم کی کمزوری کا اظہار نہیں کیا اور یہ واضح پیغام دیا ہے کہ وہ دباؤ کے سامنے جھکنے کیلئے تیار نہیں۔مشرقِ وسطیٰ کی سیاست ہمیشہ سے پیچیدہ رہی ہے مگر موجودہ صورتحال نے اس پیچیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ کئی عرب ممالک کو ابتدا میں یہ توقع تھی کہ شدید دباؤ کے نتیجے میں ایران دفاعی حکمت عملی اختیار کرے گا، تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس دکھائی دے رہے ہیں۔ ایران نہ صرف اپنے مؤقف پر قائم ہے بلکہ مختلف محاذوں پر جوابی کارروائیاں بھی جاری رکھے ہوئے ہے ۔ اس رویے نے خطے کے سیاسی توازن کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے اور مستقبل کے بارے میں سوالات کو بڑھا دیا ہے۔جنگ کے انسانی اثرات بھی تیزی سے نمایاں ہو رہے ہیں۔ ایران میں ہونیوالے حملوں کے دوران شہری علاقوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جس کے نتیجے میں عام شہری ہلاکتوں کا شکار ہوئے ہیں۔ ان ہلاکتوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں جو اس جنگ کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں۔ دوسری جانب لبنان میں ہونیوالی کارروائیوں نے بھی انسانی المیے کی صورتحال پیدا کر دی ہے جہاں سینکڑوں افراد ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں۔ شہری آبادی پر بڑھتا ہوا دباؤ عالمی برادری کیلئے تشویش کا باعث بن رہا ہے اور مختلف انسانی حقوق کی تنظیمیں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کر رہی ہیں ۔عالمی ادارے بھی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اقوامِ متحدہ اور دیگر بین الاقوامی تنظیمیں مسلسل یہ خبردار کر رہی ہیں کہ اگر جنگ کا دائرہ مزید وسیع ہوا تو خطہ ایک بڑے انسانی بحران کا شکار ہو سکتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی کئی دہائیوں سے جنگوں مہاجرین کے مسائل اور سیاسی عدم استحکام کا سامنا کر رہا ہے۔ اگر موجودہ کشیدگی ایک وسیع جنگ میں تبدیل ہو گئی تو اس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دنیا کے دیگر حصوں تک بھی پہنچ سکتے ہیں ۔ تاہم اس پورے بحران کا سب سے گہرا اثر عالمی معیشت پر پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ توانائی کی عالمی منڈیوں میں پہلے ہی بے چینی پیدا ہو چکی ہے اور خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جنگ طویل ہو گئی تو تیل کی قیمتیں مزید بلند سطح تک پہنچ سکتی ہیں۔ تیل مہنگا ہونے کا اثر صرف ایندھن تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے نتیجے میں ٹرانسپورٹ، صنعت اور خوراک سمیت تقریباً ہر شعبے کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی معیشت کے ماہرین اس صورتحال کو ایک ممکنہ اقتصادی طوفان قرار دے رہے ہیں۔خلیجی خطہ عالمی توانائی سپلائی میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ آبنائے ہرمز اس نظام کی ایک اہم شاہراہ ہے جہاں سے دنیا کے تیل کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔ اگر اس سمندری راستے میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا ہو جائے تو عالمی تجارت کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے ۔ حالیہ کشیدگی کے باعث کئی تیل بردار جہاز محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں اور تجارتی سرگرمیوں میں غیر یقینی صورتحال بڑھتی جا رہی ہے ۔ ایران کی جانب سے یہ عندیہ بھی دیا گیا ہے کہ اگر اس پر دباؤ میں مزید اضافہ ہوا تو وہ اس سمندری گزرگاہ میں گزرنے والے جہازوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ یہ بیان عالمی تجارتی نظام کیلئے ایک سنگین انتباہ سمجھا جا رہا ہے۔امریکہ کے اندر بھی اس جنگ کے حوالے سے سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ابتدا میں اسے ایک محدود اور مختصر کارروائی قرار دیا گیا تھا مگر جیسے جیسے کشیدگی بڑھ رہی ہے ویسے ویسے سیاسی اور عوامی دباؤ بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ افغانستان اور عراق کی طویل جنگوں کے تجربات ابھی تک امریکی عوام کے ذہنوں میں موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ کے اندر ایک حلقہ نئی طویل جنگ کے امکانات پر تشویش کا اظہار کر رہا ہے۔ اگر یہ تصادم طویل ہو گیا تو اس کے معاشی اور سیاسی اثرات امریکی داخلی سیاست میں بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں ۔عرب اتحادی ممالک کیلئے بھی یہ صورتحال آسان نہیں۔ بظاہر وہ امریکہ کے ساتھ کھڑے دکھائی دیتے ہیں مگر پس پردہ انہیں بھی اس طویل جنگ کے ممکنہ نتائج کا اندازہ ہے۔ خلیجی ریاستوں کی معیشتیں بڑی حد تک توانائی کی برآمدات پر انحصار کرتی ہیں اور خطے میں کسی بڑے تصادم کی صورت میں تجارتی راستوں اور توانائی کی ترسیل کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی خلیجی دارالحکومتوں میں سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں اور کشیدگی کم کرنے کیلئے مختلف کوششیں جاری ہیں۔اس پورے منظرنامے میں چین کا کردار بھی اہمیت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ چین دنیا کی بڑی معیشتوں میں شامل ہے اور اس کی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ مشرقِ وسطیٰ سے پورا ہوتا ہے۔ بیجنگ نے اب تک براہِ راست عسکری مداخلت سے گریز کیا ہے مگر سفارتی سطح پر وہ کشیدگی کم کرنے کی حمایت کر رہا ہے ۔ چین کی بنیادی دلچسپی اس بات میں ہے کہ توانائی کی سپلائی میں خلل نہ آئے اور عالمی تجارت کا تسلسل برقرار رہے۔ اسی مقصد کے تحت چین پس منظر میں رہتے ہوئے مختلف ممالک کے ساتھ سفارتی رابطے بڑھا رہا ہے ۔ جنگ کے اثرات ترقی پذیر ممالک کیلئے خاص طور پر تشویشناک ہیں۔ پاکستان جیسے ممالک پہلے ہی معاشی دباؤ کا شکار ہیں اور توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ان کی معیشت کو مزید کمزور کر سکتا ہے۔ تیل مہنگا ہونے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھتے ہیں جس کے نتیجے میں خوراک اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بھی اوپر چلی جاتی ہیں۔ صنعتی پیداوار مہنگی ہو جاتی ہے اور معیشت پر مجموعی دباؤ میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان سمیت کئی ترقی پذیر ممالک اس جنگ کے پھیلاؤ سے شدید تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ایران کے شدید جوابی ردعمل نے اس تنازع کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ کئی مبصرین کو توقع تھی کہ شدید دباؤ کے بعد ایران نسبتاً محتاط حکمت عملی اختیار کرے گا، مگر عملی طور پر اس نے بھرپور جوابی کارروائیوں کے ذریعے یہ پیغام دیا ہے کہ وہ اپنی پوزیشن سے پیچھے ہٹنے کیلئے تیار نہیں۔ یہی عنصر اس جنگ کو مزید غیر یقینی بنا رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ عالمی سفارتی حلقے مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ مسئلے کا حل فوجی کارروائی کے بجائے مذاکرات کے ذریعے تلاش کیا جائے۔

