مرحوم اجمل نیازی نے کہیں لکھا تھا کہ” بیورو کریسی جو وی کریسی مندا کریسی”پاکستان کی سیاست میں کچھ نام ایسے ہوتے ہیں جو عہدوں سے نہیں بلکہ اپنے کردار اور کام کی نوعیت سے پہچانے جاتے ہیں۔انہی میں ایک نام مصدق عباسی کا بھی ہے، جن کے گرد آج کل خیبر پختونخوا کی سیاست اور بیوروکریسی میں ایک عجیب سا تناؤ پایا جا رہا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ وہ کون ہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ آخر وہ کیا کر رہے ہیں جسکی وجہ سے ایک پوری بیوروکریسی ان کے خلاف صف آرا نظر آتی ہے؟میں نے خود ایک منظر دیکھا، ایک ایسا منظر جو شاید عام آنکھوں سے اوجھل رہتا ہے۔ سینٹرل سیکرٹریٹ میں کاغذوں کے ڈھیر کے درمیان ایک شخص خاموشی سے، بغیر کسی شور و غوغا کے، اپنے کام میں مصروف تھا۔ نہ کوئی پروٹوکول، نہ کوئی میڈیا کی چکاچوند، بس ایک سچی لگن اور ذمہ داری کا احساس۔ جب میں نے پوچھا کہ یہ کون ہیں تو جواب ملا: یہ مصدق عباسی ہیں، احتساب کا کام کر رہے ہیں۔ اس ایک جملے نے جیسے کئی دروازے کھول دیے۔یہ وہی مصدق عباسی ہیں جنہیں عمران خان نے خود منتخب کیا، نہ صرف اس لیے کہ وہ ایک قابل افسر ہیں بلکہ اسلئے کہ وہ ایک ایسے نظام میں شفافیت لانے کی صلاحیت رکھتے ہیں جہاں برسوں سے اندھیر نگری کا راج رہا ہے۔ وہ علی امین گنڈاپور کے مشیر برائے انسداد بدعنوانی بھی رہے، اور اس سے پہلے بھی مختلف اہم عہدوں پر اپنی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایسا کیا ہے کہ خیبر پختونخوا کی بیوروکریسی ان کے نام سے ہی خوفزدہ ہو جاتی ہے؟ کیوں ایک پورا نظام یہ کہتا ہے کہ اگر مصدق عباسی کو کابینہ میں شامل کیا گیا تو وہ کام نہیں کر سکے گا؟ کیا ایک فرد واقعی پورے نظام کو مفلوج کر سکتا ہے، یا پھر یہ نظام خود ہی اتنا کمزور ہو چکا ہے کہ سچائی اور احتساب کا سامنا نہیں کر سکتا؟حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی بیوروکریسی ایک طویل عرصے سے ایک ایسے کلچر میں جکڑی ہوئی ہے جہاں جوابدہی ایک ناپسندیدہ لفظ بن چکا ہے۔ فائلوں کا گم ہونا، فیصلوں میں تاخیر، اور اختیارات کا ناجائز استعمال یہ سب کچھ ایک معمول بن چکا ہے۔ ایسے میں اگر کوئی شخص آ کر اس نظام کو شفاف بنانے کی کوشش کرے تو ظاہر ہے کہ وہ آنکھوں میں کھٹکے گا۔مصدق عباسی کا قصور شاید یہی ہے کہ وہ سسٹم کا حصہ بننے کے بجائے سسٹم کو ٹھیک کرنا چاہتے ہیں اور یہی وہ نقطہ ہے جہاں تصادم پیدا ہوتا ہے۔ کیونکہ ہمارے ہاں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جو شخص نظام کو چیلنج کرے، اسے خود ہی مسئلہ بنا دیا جاتا ہے۔خیبر پختونخوا میں کابینہ کی توسیع میں تاخیر کا معاملہ بھی اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ بظاہر یہ ایک انتظامی مسئلہ لگتا ہے، لیکن درحقیقت یہ ایک بڑی لڑائی کا حصہ ہے ایک طرف وہ لوگ ہیں جو احتساب اور شفافیت چاہتے ہیں، اور دوسری طرف وہ عناصر ہیں جو موجودہ ڈھانچے کو جوں کا توں رکھنا چاہتے ہیں۔یہ بھی قابل غور بات ہے کہ مصدق عباسی کو پہلے بھی کابینہ میں شامل نہ کرنے کی وجہ کابینہ کا چھوٹا ہونا بتائی گئی تھی۔ لیکن جب توسیع کا وقت آیا تو پھر بھی ان کا نام شامل نہیں کیا گیا۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مسئلہ صرف جگہ کا نہیں بلکہ شخصیت کا ہییا یوں کہیں کہ اس سوچ کا ہے جو وہ نمائندگی کرتے ہیں۔یہاں ایک اور اہم پہلو بھی سامنے آتا ہے، اور وہ ہے سیاسی قیادت کا کردار۔ عمران خان نے ہمیشہ احتساب کی بات کی، کرپشن کے خلاف آواز اٹھائی، اور ایسے لوگوں کو آگے لانے کی کوشش کی جو اس وژن کو عملی جامہ پہنا سکیں۔ بریگیڈیئر مصدق عباسی بھی انہی لوگوں میں سے ایک ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف نیت کافی ہے؟ یا پھر ایک مضبوط نظام کی بھی ضرورت ہے جو ان افراد کو کام کرنے کا موقع دے؟ہی ٹی آئی حکومت کے لیے یہ ایک بڑا امتحان ہے۔ اگر وہ واقعی تبدیلی کے دعوے پر قائم ہیں تو انہیں ایسے لوگوں کو سپورٹ کرنا ہوگا جو مشکل فیصلے لینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ورنہ یہ سب نعرے محض الفاظ کی حد تک محدود رہ جائیں گے۔بیوروکریسی کا یہ موقف کہ ہم کام نہیں کر سکیں گے دراصل ایک اعتراف ہے ایک اعتراف اس بات کا کہ وہ ایک ایسے ماحول کے عادی ہو چکے ہیں جہاں کوئی ان سے سوال نہیں کرتا۔ جہاں فائلوں کا حساب نہیں لیا جاتا، اور جہاں فیصلے ذاتی مفادات کے تحت کیے جاتے ہیں۔یہ کہنا کہ ایک شخص کی وجہ سے پورا نظام رک جائے گا، دراصل اس نظام کی ناکامی کا ثبوت ہے۔ ایک مضبوط ادارہ کبھی بھی کسی ایک فرد سے متاثر نہیں ہوتا، بلکہ وہ خود اس فرد کو اپنے اصولوں کے مطابق ڈھال لیتا ہے لیکن یہاں معاملہ الٹا ہے یہاں ادارے ایک فرد سے خوفزدہ ہیں۔یہ صورتحال نہ صرف خیبر پختونخوا بلکہ پورے پاکستان کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔ اگر ہم واقعی ایک شفاف اور مضبوط نظام چاہتے ہیں تو ہمیں ایسے لوگوں کی حوصلہ افزائی کرنی ہوگی جو سچ بولنے اور صحیح کام کرنے کی ہمت رکھتے ہیں۔مصدق عباسی کا معاملہ صرف ایک فرد کا نہیں، بلکہ ایک نظریے کا ہے۔ یہ اس جنگ کی علامت ہے جو پاکستان میں احتساب اور مفادات کے درمیان جاری ہے اور اس جنگ میں فیصلہ صرف سیاسی قیادت نے نہیں بلکہ عوام نے بھی کرنا ہے کہ وہ کس کے ساتھ کھڑے ہیں۔آخر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اگر ایک ایماندار افسر کی موجودگی سے پورا نظام ہل جاتا ہے تو پھر مسئلہ افسر میں نہیں بلکہ نظام میں ہے۔ اور جب تک اس نظام کو ٹھیک نہیں کیا جاتا، تب تک نہ کابینہ کی توسیع کوئی معنی رکھتی ہے، نہ ہی ترقی کے دعوے۔یہ وقت ہے کہ ہم حقیقت کا سامنا کریں، اور یہ تسلیم کریں کہ تبدیلی صرف نعروں سے نہیں آتیاس کے لیے قربانی دینی پڑتی ہے، اور سب سے بڑی قربانی اپنے مفادات کی ہوتی ہے۔فرزند ہزارہ تجھے سلام۔

