جنگیں صرف سرحدوں پر نہیں لڑی جاتیں، ان کا ایک محاذ ذہنوں، خیالات اور اطلاعات کی دنیا میں بھی قائم ہوتا ہے۔ میزائلوں کی تباہ کاری اور فضاں میں گونجتے جنگی طیاروں کے ساتھ ساتھ الفاظ بھی اپنی پوری قوت کے ساتھ استعمال ہوتے ہیں۔ جدید دور میں میڈیا بیانیہ تشکیل دینے، رائے عامہ ہموار کرنے اور ظالم و مظلوم کے تعین کا طاقتور ہتھیار بن چکا ہے۔ یوں کسی بھی تنازع میں پہلا حملہ بندوق سے نہیں خبر، تجزیے اور پروپیگنڈے سے کیا جاتا ہے۔پچھلے برس پہلگام واقعے کے فوری بعد بھارتی گودی میڈیا نے جس عجلت، شدت اور اشتعال انگیزی کے ساتھ پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ کی، وہ صحافت سے زیادہ منظم بیانیاتی جنگ تھی۔ واقعے کی تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے ہی بھارتی میڈیا نے پاکستان پر الزامات لگا کر بھارتی عوام کے جذبات بھڑکائے اور مودی حکومت کو جارحانہ اقدامات کیلئے سیاسی و سماجی جواز فراہم کرنے کی کوشش کی۔ یہ وہی طرزِ عمل ہے جس میں ثبوت ثانوی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں اور پہلے سے تیار کردہ بیانیہ اصل حقیقت پر غالب آ جاتا ہے۔پاکستان نے ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر نہایت تدبر سے غیر جانبدارانہ بین الاقوامی تحقیقات کی پیشکش کی، تاکہ دنیا حقائق تک رسائی حاصل کر سکے، مگر بھارتی قیادت نے اس مثبت پیشکش کو نظر انداز کیا۔ اس کے برعکس اشتعال انگیزی کو بنیاد بنا کر آپریشن سندور کا اعلان کیا گیا اور پاکستان پر میزائل حملے کئے گئے۔ ان حملوں میں پاکستان کے دفاعی اثاثوں کو کوئی نقصان نہ پہنچ سکا، تاہم معصوم شہریوں اور بچوں کی شہادت نے بھارتی جارحیت کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے آشکار کر دیا۔بھارت کی اس کھلی جارحیت کے جواب میں پاکستان نے 10مئی 2025 کو آپریشن بنیان مرصوص کا آغاز کیا جو ایک فوجی کارروائی کیساتھ قومی عزم، عسکری مہارت اور دفاعی حکمتِ عملی کا ایسا مظہر تھا جس نے خطے میں طاقت کے توازن پر گہرے اثرات مرتب کئے ۔پاک افواج نے پیشہ ورانہ مہارت، جدید ٹیکنالوجی اور مربوط دفاعی حکمت عملی کے ذریعے دشمن کو ایسا مثر جواب دیا جس نے دنیا بھر کے دفاعی ماہرین کو متوجہ کیا۔ خصوصا پاک فضائیہ نے اپنی برتری، برق رفتاری اور درست حکمت عملی سے یہ ثابت کر دیا کہ پاکستان کی فضائی سرحدیں محفوظ ہاتھوں میں ہیں۔آپریشن بنیان مرصوص کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ پاکستان نے طاقت کے استعمال کے باوجود ذمہ داری اور اخلاقی حدود کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ پاکستان نے اپنے دفاع کا حق استعمال کیا، مگر سول آبادیوں کو نشانہ نہیں بنایا۔ اس کے برعکس بھارتی حملوں میں شہری آبادی متاثر ہوئی۔ یہی فرق ایک ذمہ دار ریاست اور جارحانہ ذہنیت کے درمیان حدِ فاصل کھینچ دیتا ہے۔معرکے کا دوسرا اہم پہلو سفارتی اور معلوماتی محاذ تھا۔ بھارت نے عالمی سطح پر پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرانے کی بھرپور کوشش کی، مگر پاکستان نے تحمل، دلیل اور موثر سفارت کاری کے ذریعے بھارتی بیانیے کو غلط ثابت کر دیا۔ عالمی برادری نے پاکستان کے مقف کو سنجیدگی سے لیا اور یہ حقیقت واضح ہوئی کہ پاکستان جنگ نہیں امن چاہتا ہے، البتہ اپنی خودمختاری اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کر سکتا۔یہاں میڈیا کے کردار کو سمجھنا ناگزیر ہے۔ میڈیا اسٹڈیز میں ایک اصطلاح Narrative Cropping استعمال ہوتی ہے، یعنی کہانی کو وہاں سے شروع کرنا جہاں سے طاقتور فریق کو فائدہ پہنچتا ہو۔ یہی عمل بھارتی میڈیا نے اختیار کیا۔معرکہ حق کے دوران پاکستان نے عسکری میدان میں کامیابی کیساتھ اطلاعاتی جنگ میں بھی اپنی برتری ثابت کی۔ پاکستانی میڈیا، عوام اور سیاسی قیادت نے اختلافات سے بالاتر ہو کر قومی یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔ سوشل میڈیا سے لے کر قومی نشریاتی اداروں تک ایک ذمہ دار اور مدلل بیانیہ سامنے آیا جس نے عالمی رائے عامہ کو متاثر کیا۔ پاکستانی عوام نے یہ ثابت کیا کہ قومی سلامتی کے معاملے پر پوری قوم اپنی افواج کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار بن جاتی ہے۔پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ یہ قوم آزمائشوں میں بکھرتی نہیں مزید مضبوط ہو جاتی ہے۔ 1965 کی جنگ ہو، دہشت گردی کے خلاف طویل معرکہ ہو یا حالیہ سرحدی کشیدگیاں، پاکستانی قوم نے ہمیشہ اتحاد، حوصلے اور قربانی کی نئی مثالیں قائم کیں۔ یہی قومی یکجہتی پاکستان کی اصل طاقت ہے۔ اس سرزمین میں بسنے والے مسلمان، مسیحی، ہندو، سکھ اور دیگر اقلیتیں مختلف عقائد رکھنے کے باوجود ایک قومی شناخت میں جڑی ہوئی ہیں، اور وہ شناخت پاکستان ہے۔دشمن قوتیں ہمیشہ پاکستان میں انتشار پیدا کرنے، مذہبی و فرقہ وارانہ تقسیم کو ہوا دینے اور قومی اعتماد کو کمزور کرنے کی کوشش کرتی رہی ہیں، مگر ہر آزمائش میں پاکستانی قوم نے ثابت کیا کہ سبز ہلالی پرچم ہم سب کی مشترکہ پہچان ہے۔ جب وطن کی حرمت اور خودمختاری کا سوال اٹھتا ہے تو پوری قوم ایک آواز بن جاتی ہے۔

