کالم

کلر کہار کی بس اور بے لگام دنیا

جب اُس المناک صبح لاہور سے اسلام آباد جانے والی بس اپنے سفر پر روانہ ہوئی تو گویا وہ اپنے اندر پوری زندگی کا ایک عکس لیے ہوئے تھی۔ اس میں ہر عمر، ہر طبقے اور ہر مزاج کے لوگ سوار تھے۔ کوئی کاروباری غرض سے سفر کر رہا تھا، کوئی عزیزوں سے ملنے جا رہا تھا، اور کچھ ایسے بھی تھے جو دارالحکومت میں بہتر مستقبل کی تلاش میں نکلے تھے۔ موسم نہایت خوشگوار تھا۔ ہلکی ہوا سورج کی حدت کو نرمی میں بدل رہی تھی۔ ڈرائیور درمیانی عمر کا ایک سنجیدہ شخص تھا جس کی متوازن طبیعت مسافروں کے دلوں میں اعتماد پیدا کر رہی تھی۔ سفر کا بیشتر حصہ سکون، امید اور خاموش اطمینان کے ساتھ گزرا۔مگر زندگی کی طرح اس سفر میں بھی چند بے فکر اور شوریدہ نوجوانوں نے جلد ہی اس ہم آہنگی کو درہم برہم کر دیا۔ ان کی بلند آوازیں، ناشائستہ جملے اور بے ہودہ حرکات خواتین اور بزرگوں کیلئے باعثِ اذیت بننے لگیں۔ ڈرائیور یہ سب کچھ خاموشی سے دیکھتا رہا۔ اس نے جھگڑے سے گریز کو دانشمندی سمجھا۔ مگر شرارت کا سلسلہ تھمنے کے بجائے بڑھتا ہی گیا۔جب بس بھیرہ سے آگے بڑھتی ہوئی کلر کہار کی دلکش مگر خطرناک پہاڑی سڑکوں پر پہنچی تو ڈرائیور نے احتیاطاً رفتار کم کر دی تاکہ پیچیدہ موڑوں کو محفوظ انداز میں عبور کیا جا سکے۔ یہی احتیاط ایک بدتمیز نوجوان کو ناگوار گزری۔ وہ طنزیہ انداز میں کھڑا ہوا اور بولا کہ اس رفتار سے تو بہتر تھا کہ وہ گدھا گاڑی ہی کرائے پر لے لیتے، کم از کم وہ زیادہ تیزی سے منزل تک پہنچا دیتی۔یہ جملہ ڈرائیور کی انا پر ایسا لگا جیسے خشک گھاس پر چنگاری گر جائے۔ غصے کی ایک اندھی لہر اس کے حواس پر چھا گئی۔ اس نے انتقام کے جذبے میں ایکسیلیٹر دبا دیا۔ بس خطرناک رفتار سے آگے بڑھنے لگی۔ خوفزدہ مسافروں نے چیخ کر اُسے رفتار کم کرنے کی التجا کی۔ ماؤں نے اپنے بچوں کو سینے سے لگا لیا، بزرگوں نے آگے آنے والے خطرناک موڑوں کی طرف متوجہ کیا، مگر ڈرائیور اب عقل و تدبر کی ہر آواز سے بے نیاز ہو چکا تھا۔ وہ گویا اپنی مہارت ثابت کرنے کے جنون میں زندگیوں کو داؤ پر لگا بیٹھا تھا۔پھر وہی ہوا جو ہونا تھا۔ایک تیز موڑ پر بس بے قابو ہو کر گہری کھائی میں جا گری۔ حادثہ اتنا ہولناک تھا کہ کئی قیمتی جانیں لمحوں میں بجھ گئیں، جبکہ درجنوں لوگ شدید زخمی ہو کر عمر بھر کی معذوری اور محتاجی کا شکار بن گئے۔ ایک لمحے کی بے قابو جذباتیت نے برسوں کے خواب، امیدیں اور انسانی زندگیوں کی محنت خاک میں ملا دی۔برسوں گزر جانے کے باوجود جب آج کی عالمی صورتحال پر نظر پڑتی ہے تو کلر کہار کا وہ حادثہ ایک تازہ زخم کی طرح یاد آ جاتا ہے۔ دنیا بھی ایک ایسی ہی بس تھی جو نسبتاً سکون سے اپنی منزل کی جانب رواں تھی۔ خلیج کی بندرگاہوں سے لے کر ایشیا اور یورپ کی عظیم منڈیوں تک تجارت رواں تھی۔ قومیں اپنے جائز مفادات کے حصول میں مصروف تھیں اور عام لوگ — بالکل اُس بس کے مسافروں کی طرح—صرف یہ چاہتے تھے کہ وہ محنت کریں، اپنے خاندانوں کا سہارا بنیں اور سکون سے زندگی گزاریں۔لیکن پھر چند شرپسند عناصر نے اس توازن کو بگاڑنا شروع کیا۔ اسرائیل پیش پیش رہا اور بھارت نے خاموش تائید کے ذریعے اس آگ کو ہوا دی۔ اشتعال انگیزی کے اس ماحول میں امریکہ نے ایران کیخلاف عسکری کارروائیاں شروع کر دیں۔ اس کے روایتی اتحادی مسلسل تحمل، تدبر اور سفارت کاری کا مشورہ دیتے رہے، مگر جیسے کلر کہار کے غصے میں بھرے ڈرائیور نے کسی کی نہ سنی تھی، ویسے ہی امریکہ نے بھی اعتدال کی آوازوں کو نظر انداز کر دیا اور اپنی رفتار مزید تیز کر دی۔آج اس کے نتائج پوری دنیا کے سامنے ہیں۔امریکی محکمہ دفاع کے مطابق اس جنگ پر اب تک تقریباً 29 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں، جبکہ معتبر اندازے اس لاگت کو 200 ارب ڈالر کے قریب قرار دے رہے ہیں۔ صرف دو ہفتوں میں مزید چار ارب ڈالر اخراجات میں شامل ہوئے۔ خود امریکہ کے اندر کانگریس میں دونوں جماعتوں کی جانب سے وزیرِ دفاع پر شدید دباؤ بڑھ رہا ہے۔ مہنگائی نے امریکی عوام کی زندگی دشوار کر دی ہے اور معاشی ترقی کی رفتار واضح طور پر سست پڑ چکی ہے۔امریکہ سے بہت دور دنیا کے دیگر خطوں میں بھی اس کے اثرات شدید محسوس کیے جا رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل میں خلل کے خدشات نے عالمی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ نیویارک، لندن، ٹوکیو اور دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹیں غیر یقینی کیفیت سے لرز اٹھی ہیں۔پاکستان، جو بڑی حد تک درآمدی تیل پر انحصار کرتا ہے اور جس کی بیشتر سپلائی آبنائے ہرمز کے راستے آتی ہے، شدید مشکلات سے دوچار ہے۔ ایندھن کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہو چکا ہے جس نے مہنگائی، ٹرانسپورٹ کرایوں اور زرعی لاگت میں خطرناک اضافہ کر دیا ہے۔ صنعت اور خدمات کے شعبے خاص طور پر خطرے میں ہیں۔ قرضوں اور ادائیگیوں کے دباؤ کے باعث حکومت کے لیے عوام کو ریلیف فراہم کرنا مزید دشوار ہو گیا ہے۔ترقی پذیر ممالک، جو پہلے ہی قرضوں اور کمزور معیشتوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، اب ایندھن، خوراک اور ضروری درآمدات کی بڑھتی قیمتوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ پاکستان، مصر، بنگلہ دیش، سری لنکا اور دیگر ممالک کے عام شہری—جو اس عالمی سفر کے بے قصور مسافر ہیں—اپنی روزی روٹی کو مزید مہنگا اور اپنے خوابوں کو مزید دور ہوتا دیکھ رہے ہیں۔عالمی معیشت پر اس کے اثرات مزید گہرے ہیں۔ اسٹاک مارکیٹوں میں شدید اتار چڑھاؤ پیدا ہو چکا ہے، ابھرتی ہوئی معیشتوں کی کرنسیاں دباؤ کا شکار ہیں، جبکہ مرکزی بینک ایک مشکل دوراہے پر کھڑے ہیں۔ اگر شرح سود بڑھاتے ہیں تو ترقی متاثر ہوتی ہے، اور اگر مہنگائی کو برداشت کرتے ہیں تو افراطِ زر جڑ پکڑ لیتا ہے۔ بڑھتی ہوئی لاگت عالمی سپلائی چینز کو متاثر کر رہی ہے، غربت میں اضافہ ہو رہا ہے، اور حکومتیں سبسڈی و امدادی پیکجز کے ذریعے اپنے بجٹ خساروں کو مزید بڑھانے پر مجبور ہیں۔آج دنیا اسی خطرناک موڑ پر کھڑی ہے جہاں کلر کہار کی وہ بس اپنی تباہی سے دوچار ہوئی تھی۔ نقصان ہو چکا ہے۔ جانیں ضائع ہو چکی ہیں، معیشتیں ہل چکی ہیں اور کروڑوں انسانوں کے مستقبل غیر یقینی ہو گئے ہیں۔ مگر کلر کہار کے حادثے کے برعکس ابھی بھی وقت باقی ہے کہ عقل و دانش غالب آ جائے۔عظیم طاقتوں کو اب اپنی رفتار کم کرنا ہو گی۔ جنگی جنون کے بجائے سفارت کاری، تحمل اور اجتماعی بصیرت کو اختیار کرنا ہو گا۔ کیونکہ جب چند بے لگام آوازیں طاقتور ممالک کے فیصلوں کو اشتعال دلاتی ہیں تو اس کی قیمت صرف حکمران یا اشتعال دلانے والے نہیں چکاتے بلکہ پوری انسانیت کو ادا کرنا پڑتی ہے۔صورتحال اب بھی تغیر پذیر ہے۔ بہت کچھ اس بات پر منحصر ہے کہ عالمی سپلائی لائنز کتنی جلد معمول پر آتی ہیں اور جغرافیائی کشیدگی کب کم ہوتی ہے۔ اس دوران محتاط مالی حکمتِ عملی، توانائی کے دانشمندانہ استعمال اور قابلِ تجدید ذرائع کی جانب پیش رفت ہی وہ ڈھالیں ہیں جو آنے والے بحرانوں سے تحفظ فراہم کر سکتی ہیں۔دعا ہے کہ ہمارے عہد کے رہنما کلر کہار کی اس تمثیل سے سبق حاصل کریں۔ وہ جنگ کے ایکسیلیٹر سے اپنا پاؤں ہٹا لیں، اس سے پہلے کہ ایک اور خطرناک موڑ پوری انسانیت کو مزید گہری کھائی میں دھکیل دے۔ اس دنیا کے عام انسان، اپنے چھوٹے چھوٹے خوابوں اور خاموش جدوجہد کے ساتھ ، یقیناً ایک محفوظ اور پُرامن سفر کے مستحق ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے