پاکستان خداوند تعالیٰ کا عطیہ عظیم ہے۔ وطن عزیز دنیا کے خوبصورت ترین خطوں میں سے ایک ہے۔اسکی وادیاں، پہاڑ، دریا، میدان، موسم اور لوگ سب ایک منفرد حسن رکھتے ہیں لیکن المیہ یہ ہے کہ اس ملک کے بعض لوگ اس کی قدر اور اہمیت کو نہیں سمجھتے۔ بعض لوگ اغیار کے ممالک میں تیسرے درجے کے شہری کہلائے جانے کے باوجود ہر قانون کی پاسداری کرتے ہیں، قطار میں کھڑے رہتے ہیں، گلی محلوں کو صاف رکھتے ہیں، ٹیکس دیتے ہیں، کام وقت پر کرتے ہیں، شور نہیں مچاتے اور کسی کا حق نہیں مارتے لیکن یہی لوگ اپنے وطن میں ان پر کون سا جادو طاری ہو جاتا ہے کہ وہی اصول، وہی قوانین جنہیں وہ وہاں توڑنے کا تصور بھی نہیں کرتے، یہاں وہ ان کو کوئی اہمیت نہیں دیتے۔یہ رویہ صرف فرد کا نہیں، پورے معاشرے کا اجتماعی رویہ بن چکا ہے۔یہی احساس کا فقدان ہمارے زوال کی اصل وجہ ہے۔ ترقی یافتہ قومیں اس لیے ترقی یافتہ نہیں کہ ان کے پاس وسائل زیادہ ہیں بلکہ اس لیے کہ ان کے اندر احساسِ ذمہ داری، احساسِ فرض، احساسِ دیانت، احساسِ انسانیت اور احساسِ نظم و ضبط موجود ہے۔اگر یہی احساس ہماری عوام، ہمارے اداروں اور ہمارے حکمرانوں میں پیدا ہو جائے تو اس ملک کے وسیب، معاشرے اور ہر شعب زندگی میں ایسی نمایاں اور مثبت تبدیلی آسکتی ہے جس کا تصور آج ہم خوابوں میں بھی نہیں کر سکتے۔
اغیار میں رہتے ہوئے وہ ہر جگہ قطار بناتے ہیں، خود کو نظم کا پابند سمجھتے ہیں، کسی کے آگے نہیں گھستے اور نہ کسی کا حق مارنے کی جسارت کرتے ہیں مگر اپنے ہی وطن میں قطار بنانا تو جیسے اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ وہاں تیسرے درجے کے شہری کی حیثیت سے وہ اپنے آس پاس کے ماحول کو صاف رکھتے ہیں، کوڑا کرکٹ مقررہ جگہ پر ڈالتے ہیں، ڈسپلن کا خیال کرتے ہیں لیکن اپنے ملک میں گلی محلے، سڑکیں اور فٹ پاتھ ان کی بد تہذیبی کا شکار ہوتے ہیں۔ پان چبانے کے بعد سرِعام تھوک دینا، گلی میں کچرا پھینک دینا، دیواروں پر گندگی پھیلانا، یہ سب ایسے کام ہیں جنہیں وہ بیرونِ ملک توہین سمجھتے ہیں لیکن یہاں "روٹین” کا حصہ بنا لیتے ہیں۔وہاں تیسرے درجے کے شہری ہوکر شور نہیں کرتے، اپنے پڑوسیوں کے سکون کا خیال رکھتے ہیں، ہارن نہیں بجاتے، گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کے سائلنسر نہیں نکالتے مگر اپنے ملک میں گلی محلوں کو شور و غوغا سے بھر دیتے ہیں۔ موٹر سائیکل کو ہوائی جہاز سمجھ کر گلیوں میں دھڑ دھڑاتے ہیں ۔
رہائشی علاقوں میں کاروباری سرگرمیاں ترقی یافتہ ممالک میں ممکن نہیں بلکہ سخت ممنوع ہیں۔ یہی ہمارے لوگ وہاں اس اصول کو مقدس سمجھتے ہیں کہ اس کی خلاف ورزی کا خیال بھی ان کے ذہن میں نہیں آتا مگر اپنے ملک میں یہ اصول نہیں اپناتے اور انہیں پرواہ ہی نہیں ہوتی کہ ان کے ان افعال سے آس پاس رہنے والے سینکڑوں لوگوں کی زندگی اجیرن ہو رہی ہے۔وہاں تیسرے درجے کی حیثیت سے کام کرتے ہوئے ایمانداری کا دامن کبھی نہیں چھوڑتے۔ملاوٹ نہیں کرتے، جھوٹ نہیں بولتے، دوسروں کا حق نہیں کھاتے، کسی کی جیب پر ڈاکا نہیں ڈالتے مگر اپنے ملک میں جیسے ضمیر کا کنکشن ہی منقطع ہو جاتا ہے۔ یہاں بے ایمانی کو ہوشیاری، ملاوٹ کو کاروباری ذہانت اور جھوٹ کو تدبیر کا نام دے کر سینہ تان کر چلتے ہیں۔ وہ لوگ جو دوسرے ملک میں ایک ایک منٹ کی قیمت سمجھ کر وقت پر پہنچتے ہیں، یہاں وقت پر پہنچنے کو اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں۔ وقت پر دفتر نہیں آتے، جب آجائیں تو کام کے بجائے موبائل فون، سوشل میڈیا، گپ شپ اور ٹائم پاس ان کا مقصد بن جاتا ہے۔ دنیا جن قوموں کے نظم و ضبط اور پروفیشنلزم کی مثالیں دیتی ہے، وہ قومیں اپنے رویوں کی بنا پر ترقی کرتی ہیں جبکہ ہم اپنے ہی اعمال سے خود پیچھے دھکیلے جا رہے ہیں۔
اپنے ملک نے عزت، شہرت اور دولت دی مگر ریٹائرمنٹ کے بعد وہ اپنے ملک میں رہنے کی بجائے اغیار چلے جاتے ہیں اور وہیں اپنی باقی زندگی تیسری درجے کے شہری کی حیثیت سے گزارتے ہیں۔ وہاں ان کی تیسرے درجے کی شہری کی حیثیت سے زندگی تمام ہو جاتی ہے اور اخر اسی ذہنی غلامی میں موت کے آغوش میں چلے جاتے ہیں۔ وہ اپنی زیست میں تیسری درجے کے شہری کی حیثیت سے ہر وہ کام کر لیتے ہیں جسے اپنے دیس میں وہ اپنی توہین سمجھتے ہیں اور اپنے ملک میں وہی کام اپنی "انا” کے خلاف سمجھتے ہیں۔ برائی ملک کی نہیں، ان لوگوں کی سوچ کی ہے جو اپنی انا کی غلامی میں رہتے ہیں۔
وہاں تیسری درجے کے شہری کی حیثیت سے پوری ایمانداری سے ٹیکس دیتے ہیں۔ ٹیکس نہ دینے کا تصور بھی جرم سمجھا جاتا ہے مگر اپنے وطن میں ٹیکس کو "عذاب” سمجھتے ہیں۔ ادائیگی سے بچنے کے لیے جھوٹ، دھوکے، چکر بازی، جعلی رسیدیں، جعلی کاروبار، ہر حربہ استعمال کرتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ ملک ترقی کیوں نہیں کرتا؟
وہاں بغیر پروٹوکول کے چلتے ہیں، بسوں میں سفر کرتے ہیں، پیدل چلتے ہیں، قطار میں کھڑے ہوتے ہیں مگر اپنے ملک میں انہیں عام عوام کے ساتھ کھڑا ہونا بھی شاق گزرتا ہے۔ پروٹوکول کے بغیر گھر سے نکلنا گوارا نہیں کرتے۔ شہریوں کی محنت کی کمائی ان کے پروٹوکول پر ضائع ہوتی ہے اور یہ بات انہیں برا بھی محسوس نہیں ہوتی۔ وہ قوانین کا احترام وہاں کرتے ہیں جہاں ان کی حیثیت کچھ بھی نہیں ہوتی لیکن اپنے ہی ملک میں قانون توڑنا "حق” سمجھتے ہیں۔ایسا لگتا ہے کہ مسئلہ ملک میں نہیں، مسئلہ لوگوں کے ذہن میں ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک نہیں بلکہ اپنی بری عادات ترک کریں۔ جھوٹ چھوڑیں، غیبت چھوڑیں، کرپشن چھوڑیں، رشوت چھوڑیں، وقت کی پابندی اختیار کریں، صفائی کا خیال رکھیں، قانون کا احترام کریں، قطار بنانا سیکھیں، شور نہ کریں، دوسروں کے سکون کا خیال کریں، ٹیکس دیں اور ایمانداری سے کام کریں۔اگر ہم بدل جائیں تو ملک خود بدل جائے گا۔ ملک کی خوبصورتی، ترقی، خوشحالی اور امن ہمارے ہاتھ میں ہے۔جن ممالک کو ہم حیرت سے دیکھتے ہیں جنہیں ہم ترقی یافتہ کہتے نہیں تھکتے، پسماندہ ممالک کے چند نمک حرام افراد ملک وملت کا سرمایہ چرا کر وہاں لے گئے۔ انہی نمک حراموں کی اولاد آج وہاں کی نیشنلٹی لیے بیٹھی ہے، بظاہر عیاشیاں مگر حقیقت میں غلاموں جیسی زندگی گزار رہی ہے۔اصل ضرورت اس امر کی ہے کہ سب سے پہلے خود کو بدلیں۔ جب آپ بدل جائیں گے تو تمہارے ارد گرد سب کچھ بدل جائے گا۔ تمہاری سوچ بدلے گی تو تمہاری دنیا بدلے گی۔ تمہاری عادتیں سنوریں گی تو تمہارا معاشرہ سنورے گا۔ تمہارا کردار بہتر ہوگا تو تمہارا ملک بہتر ہوگا۔ یاد رکھیں،ملک تب ہی ترقی کرتا ہے جب اس کے لوگ خود کو بدلنے کا فیصلہ کر لیں۔
کالم
ملک و ملت کا احساس ۔۔۔!
- by web desk
- نومبر 26, 2025
- 0 Comments
- Less than a minute
- 27 Views
- 4 دن ago

