کالم

وزیر اعظم کاہنگامی عرب اسلامی سربراہی کانفرنس سے خطاب!

گزشتہ ہفتے فاشسٹ ریاست اسرائیل نے قطرکے دارالحکومت دوحہ پرحملہ کیا تو پاکستان نے سب سے پہلے اِس مذموم اور دہشتگردانہ فعل کی بھرپورمذمت کی۔اگلے ہی روزوزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان محمد شہباز شریف نے اپنے وفدکے ہمراہ قطر کا دورہ کیااورپاکستان کی جانب سے قطرکی مکمل حمایت اوربھرپورساتھ دینے کااعلان کیا ۔ گزشتہ روز طویل عرصہ بعد فلسطین پرجاری مظالم،ایران اسرائیل کشیدگی اور حالیہ اسرائیلی حملے کے بعد دوحہ میںہنگامی عرب اسلامی سربراہی کانفرنس کا انعقاد کیاگیا جس میں پچاس سے زائد عرب و اسلامی ممالک کے سربراہان و نمائندوں نے شرکت کی۔وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان محمدشہبازشریف شرکت کیلئے قطر کے دارالحکومت دوحہ پہنچے تو قطر کے وزیر ثقافت عزت مآب شیخ عبد الرحمن بن حمد بن جاسم بن حمد ال ثانی نے وزیراعظم اور پاکستانی وفد کابھرپور استقبال کیا۔اجلاس سے قبل وزیر اعظم محمد شہبازشریف نے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان،تُرکیہ کے صدررجب طیب ایردوان ،مصری صدر ، شاہ اردن سمیت اسلامی ممالک کے سربراہان مملکت سے بھی ملاقاتیں کیںاور مسلم دُنیا کو عصرحاضر میں درپیش مسائل اوراتحاد واتفاق پرزوردیا۔وزیر اعظم محمد شہبازشریف کویہ اعزازحاصل ہے کہ کوئی بھی عالمی پلیٹ فارم ہووزیر اعظم مظلوم کشمیری اور فلسطینیوں کامقدمہ اوراِن کے حق کیلئے بھرپور آوازبلند کرتے ہیں۔ کانفرنس میں اسلامی سربراہان مملکت نے جہاں قطرپراسرائیلی جارحیت کی شدیدمذمت کی وہیں فلسطین میں جاری اسرائیلی مظالم رکوانے کے حوالے سے بھی تجاویز پیش کی گئیں۔ امیر قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی نے سربراہ اجلاس کے شرکا ء کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ وہ اجلاس میں شریک اسلامی ممالک کے رہنمائوں کو دوحہ آمد پر خوش آمدید کہتے ہیں۔ اسرائیل کے ہاتھوں فلسطینیوں کی نسل کشی ہو رہی ہے، اسرائیل نے انسانیت کیخلاف جرائم میں تمام حدیں پار کر دی ہیں۔ انہوں نے اسرائیل کے حملے کو قطر کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ قطر نے ثالث کے طور پر خطے میں امن کیلئے مخلصانہ کوششیں کیں، اسرائیل نے مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کرتے ہوئے فلسطینی تحریک کے ارکان کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ یرغمالیوں کی پرامن رہائی کے تمام اسرائیلی دعوے جھوٹے ہیں، گریٹر اسرائیل کا ایجنڈا عالمی امن کیلئے شدید خطرہ ہے۔ او آئی سی کے سیکرٹری جنرل حسین ابراہیم طہٰ نے ہنگامی سربراہ اجلاس بلانے کے قطر کے فیصلے کو قابل ستائش قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی بربریت اور مظالم نے تمام حدیں پار کر لی ہیں، اسرائیل کی جانب سے خطے کے ممالک کو نشانہ بنانا انتہائی تشویشناک ہے۔ انہوں نے قطر پر اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ فلسطین کا حل ناگزیر ہے۔وزیر اعظم شہبازشریف نے اسرائیلی جارحیت کیخلاف قطر کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار اورانسانیت کیخلاف جنگی جرائم پر اسرائیل کو کٹہرے میں لانے اور اسرائیل کے تو سیع پسندانہ عزائم کو ناکام بنانے کیلئے عرب اسلامی ٹاسک فورس قائم کرنے کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ میں انسانیت سسک رہی ہے، فوری جنگ بندی کے ساتھ ساتھ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر باضمانت اورمحفوظ ضروریات زندگی کی فراہمی،امدادی کارکنوں، میڈیکل ٹیموں اور صحافیوں اور اقوام متحدہ کے اہلکاروں کو رسائی دی جانی چاہیئے ، اقوام متحدہ میں اسرائیل کی رکنیت معطل کرنے کی تجویز کی حمایت کرتے ہیں، ہمیں ایک منصفانہ اور پائیدار دو ریاستی حل کی ضرورت ہے جس کے تحت آزاد فلسطینی ریاست قائم ہو جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو،ہم نے اجتماعی دانش سے اقدامات نہیں کئے تو تاریخ معاف نہیں کریگی۔ ہنگامی عرب اسلامی سربراہ اجلاس کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ میں تمام ممالک سے اسرائیل کو اسلحہ کی فراہمی معطل کرنے کی اپیل کرتے ہوئے عرب اور مسلم رہنماؤں سے اسرائیل کے ساتھ سفارتی و معاشی تعلقات پر نظرِثانی کا مطالبہ کیا گیا ۔علامیہ میں کہا گیا کہ قطر کیخلاف اسرائیل کی وحشیانہ جارحیت خطے میں امن کے کسی بھی کاوش اور امکان پر کاری ضرب لگاتی ہے ۔اعلامیہ میںتمام ممالک نے قطر کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیلی حملے پر جوابی ردعمل کیلئے اس کے اقدامات کی مکمل حمایت بھی کا یقین بھی دلایااور اس عزم کا اظہار بھی کیا گیا کہ غزہ میں جارحیت روکنے کیلئے ثالث قطر، مصر اور امریکا کی کوششوں کی حمایت جاری رکھیں گے۔ پاکستان اور قطر کے برادرانہ تعلقات دہائیوں پرمبنی ہیںاوردونوں ممالک نے ہمیشہ مشکل وقت میں ایک دوسرے کابھرپور ساتھ دیاخصوصاًحالیہ پاک بھارت کشیدگی اورآپریشن بنیان مرصوص کے موقع پر بھی قطرنے کھل کرپاکستان کی بھرپور حمایت کی۔اسرائیلی جارحیت کیخلاف قطر کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار اورانسانیت کیخلاف جنگی جرائم پر اسرائیل کو کٹہرے میں لانے اور اسرائیل کے تو سیع پسندانہ عزائم کو ناکام بنانے کیلئے عرب اسلامی ٹاسک فورس قائم کرنے کی بہترین تجویزبھی پیش کی ۔ ہنگامی اجلاس میں مسلمان ممالک کے سربراہان کی شرکت امت مسلمہ میں مضبوط اتحاد اور علاقائی امن قائم کرنے کے غیر متزلزل عزم کا مظہر ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے